چین بھی 2033 تک انسانوں کو مریخ پر بھیجے گا

ویب ڈیسک  پير 28 جون 2021
مریخ پر انسانوں کو بھیجنے اور بستیاں بسانے کا مریخی منصوبہ تین مرحلوں پر مشتمل ہے۔ (فوٹو: سوشل میڈیا)

مریخ پر انسانوں کو بھیجنے اور بستیاں بسانے کا مریخی منصوبہ تین مرحلوں پر مشتمل ہے۔ (فوٹو: سوشل میڈیا)

سینٹ پیٹرزبرگ: چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی پہلی انسان بردار پرواز 2033 تک مریخ کےلیے روانہ کردے گا۔

اپنی پہلی ہی کوشش میں مریخ پر کامیابی سے لینڈر اتارنے کے بعد، خلائی تسخیر کے میدان میں یہ چین کی جانب سے اہم ترین اعلان تصور کیا جارہا ہے۔

خبروں کے مطابق، گزشتہ دنوں ’’چائنا اکیڈمی آف لانچ وہیکل ٹیکنالوجی‘‘ (CALT) کے سربراہ وانگ ژیاؤجن نے سینٹ پیٹرسبرگ، روس میں خلائی تحقیق کے حوالے سے منعقدہ عالمی کانفرنس (GLEX 2021) سے اپنے خطاب میں چین کی حالیہ کامیابیوں اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

انہوں نے مریخ پر بھیجے گئے چینی خلائی مشن ’’تیانوین اوّل‘‘ کی تیاری سے لے کر ژورونگ روور کی کامیاب لینڈنگ تک، تمام پہلوؤں کا تجزیہ شرکاء کے سامنے پیش کیا۔

وانگ ژیاؤجن نے بتایا کہ مریخ سے متعلق آئندہ چینی منصوبہ تین مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا:

پہلے مرحلے میں مریخ کےلیے رہائشی کےلیے ٹیکنالوجی پختہ تاکہ سرخ سیارے پر دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے وہاں رہ سکیں اور انہیں اپنی بقاء کےلیے کوئی سامان بھی زمین سے منگوانے کی ضرورت نہ پڑے۔

اس مرحلے کے تحت روبوٹ اور خودکار آلات مریخ پر بھیجے جائیں گے جو وہاں کی مٹی اور آب و ہوا کا جائزہ لے کر ایسے مقامات تلاش کریں گے جہاں خصوصی انتظامات کرکے انسانی رہائش کو ممکن بنایا جاسکے گا۔ کچھ آلات مریخ سے مٹی کے نمونے بھی زمین پر واپس لائیں گے۔

توقع ہے کہ مریخ پر عارضی انسانی رہائش کی تمام تیاریاں 2030 تک مکمل ہوجائیں گی۔

اس کے بعد، دوسرے مرحلے میں مریخ کےلیے انسان بردار پروازوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ وانگ ژیاؤجن کا کہنا تھا کہ یہ پروازیں 2033 سے شروع ہوگی جو 2035، 2037، 2041 اور اس کے بعد بھی جاری رہیں گی۔

تیسرا مرحلہ، جس کی متوقع تاریخوں کا تعین فی الحال نہیں کیا گیا، مریخ اور زمین کے درمیان باقاعدہ پروازوں اور مریخ پر بڑے پیمانے کی تعمیرات پر مشتمل ہوگا۔

وانگ ژیاؤجن نے بتایا کہ مریخ تک انسان بردار پروازوں کےلیے نیوکلیائی ایندھن والے خلائی جہاز بھی زیرِ غور ہیں جبکہ ’’خلائی سیڑھی‘‘ کے عنوان سے بھی ایک نئے ’’ٹرانسپورٹ سسٹم‘‘ کا مطالعہ بھی کیا جارہا ہے۔ تاہم انہوں نے خلائی سیڑھی کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی۔

خلائی تحقیق، بالخصوص چاند کے تاریک حصے تک رسائی، مریخ پر کامیاب لینڈنگ اور خلائی اسٹیشن میں اپنے خلا نورد بھیجنے کے بعد یہ چین کی جانب سے بہت بڑا اعلان ہے جو بیشتر مغربی ممالک بشمول امریکا کےلیے ناقابلِ یقین بھی ہے۔

وجہ یہ ہے کہ امریکا جیسا ملک بھی، جو خلائی تسخیر میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے، اب تک کئی بار مریخ کےلیے اپنی انسان بردار پروازوں کی تاریخیں آگے بڑھا چکا ہے۔

خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ’’ناسا‘‘ کی جانب سے مریخ کےلیے انسان بردار پرواز ’’2030 کے عشرے میں کسی بھی وقت‘‘ ممکن ہے، تاہم کوئی نہیں جانتا کہ یہ تاریخ کب مزید آگے بڑھا دی جائے۔

اس کے برعکس، چین کا اب تک کا ریکارڈ یہی رہا ہے کہ وہ اپنے منصوبوں کا اعلان صرف اسی وقت کرتا ہے جب ان کی تیاریاں مناسب حد تک مکمل ہوچکی ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔