بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور حکومت کا متذبذب رویہ

خالد قیوم  بدھ 22 جنوری 2014
حکومت کی ڈھلمل پالیسی سے سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کے افسروں اور جوانوں میں بددلی پھیل سکتی ہے۔  فوٹو : فائل

حکومت کی ڈھلمل پالیسی سے سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کے افسروں اور جوانوں میں بددلی پھیل سکتی ہے۔ فوٹو : فائل

لاہور: مسلم لیگ(ن) کی جب سے حکومت آئی ہے اس وقت سے شدت پسندوں کی کارروائیاں تسلسل سے جاری ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دور میں 31 دسمبر 2013ء تک 7 ماہ کے دوران 49 خود کش دھماکے ہوئے جو کہ 2012ء کے مقابلے میں 39 فیصد زیادہ ہیں۔ 2013ء کے دوران تشدد کے 1345 واقعات میں 2113 افراد مارے گئے ہیں جن میں 827 دہشت گردی کے واقعات تھے۔ عوام جنہوں نے مینڈیٹ دیا ان کی توقعات یہ تھیں کہ ملک میں امن قائم ہوگا جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں فروغ پائیں گی لیکن محسوس یہ ہو رہا ہے کہ حکمران جماعت کا مائنڈ سیٹ یہ ہے کہ عوام نے انہیں جو مینڈیٹ دیا ہے اس میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شامل نہیں تھی یا ان کا اپنا خیال یہ ہے کہ شاید شدت پسندی اتنا بڑا خطرہ نہیں ہے جس پر آسانی سے قابو نہ پایا جا سکے۔

شاید اسی مائنڈ سیٹ کا نتیجہ ہے کہ شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ سامنے آ رہا ہے۔ موجودہ حکومت میں پالیسی ساز گروپ شاید ابھی تک شدت پسندی کے سکیل کا تعین نہیں کر سکا یہی وجہ ہے کہ اب بھی حکومتی سطح پر یہ کہا جا رہا ہے کہ مذاکرات کئے جائیں گے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں لوگوں کو توقع تھی کہ شدت پسندوں کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ سامنے آئے گا لیکن اس اجلاس میں بھی وہی چیز سامنے آئی جو ن لیگ کی حکومت نے پہلے دن سے اپنا رکھی ہے۔ شدت پسندوں سے مذاکرات کی باتیں عوام تک پہنچ رہی ہیں، اس میں وزیراعظم نواز شریف خود شامل ہیں اور ان کے بعد وزیرداخلہ نثار علی خان ہیں۔ دیکھا جائے تو اس میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ ملک میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے یا نہ کرنے کے معاملے میں اعلیٰ حکومتی قیادت ابہام کا شکار ہے۔

مجھے یوں لگتا ہے کہ ٹاپ لیول کا جو ابہام ہے اس نے ریاستی اداروں کی کارکردگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس پالیسی کا حتمی نتیجہ یہی لگتا ہے کہ سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے محض دفاعی نوعیت کے اقدامات کر رہے ہیں کیونکہ جارحانہ کارروائی کیلئے اعلیٰ سطح کا گرین سگنل ضروری ہے۔ اگر موجودہ حکومت کے 7 ماہ کا جائزہ لیا جائے تو شدت پسندی کے تناظر میں حکومت کے وزراء دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس حکومت نے بڑے ترقیاتی کام کئے ہیں، لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے بیرون ممالک سے سرمایہ کاری ہو رہی ہے، معیشت کی بحالی اور گردشی قرضوں کی ادائیگی میں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر شدت پسندوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو موجودہ حکومت کے 7 ماہ میں سیکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کے افسران اور اہلکاروں کو جتنا جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے ، اس کے مقابلے میں مد مقابل قوتوں کو کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے۔ حکیم اﷲ محسود یا دیگر طالبان کے لوگوں کو دیکھا جائے تو وہ امریکی ڈرون سے ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کا پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ اپنی جگہ پر تعینات ہیں اور ان کا کردار دفاعی نوعیت کا ہے۔ بنوں اور راولپنڈی کے واقعات اس کی واضح مثال ہے۔

وہ اپنی پوزیشنوں پر ہی نقل و حرکت کرتے ہیں۔ سوات میں میجر جنرل ثناء اللہ نیازی بھی اپنے مورچوں کا معائنہ کر کے واپس آ رہے تھے۔ اس وقت ملک کے سیاسی منظر نامہ کی عوام کو بالکل سمجھ نہیں آ رہی ہے۔ حکومت کی شدت پسندوں کے حوالے سے پالیسی نیم دلانہ ہے اور اگر اپوزیشن میں تحریک انصاف کو دیکھتے ہیں تو ان کی بھی وہی پالیسی ہے جو حکومت کی ہے بلکہ وہ حکومت پر مذاکرات کیلئے زیادہ دباؤ ڈال رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نواز شریف بھی طالبان سے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، عمران خان بھی کہہ رہے ہیں ، حکومت کے اہم اتحادی مولانا فضل الرحمٰن، جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن اور مولانا سمیع الحق بھی مذاکرات کی بات کر رہے ہیں تو پھر اس معاملے میں رکاوٹ کہاں ہے۔کم از کم وفاقی وزیر داخلہ کو تو اس بارے میں عوام کو بتانا چاہیے۔

حکومت کی ڈھلمل پالیسی سے سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کے افسروں اور جوانوں میں بددلی پھیل سکتی ہے۔ کاروباری برادری میں تو پہلے ہی بد دلی ہے۔ ملک کے دانشوروں کا حلقہ بھی خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے، یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ اس کا جواب بہرحال حکومت کو ہی دینا پڑے گا۔ حد تو یہ ہے کہ ایکسپریس کے کارکنوں کو بے گناہ شہید کردیا گیا ہے اس سے میڈیا کے اندر خوف کا عنصر پیدا ہوا ہے۔ حکومت نے میڈیا ہاؤسز کی سکیورٹی کیلئے دو رکنی کمیٹی بنائی ہے۔

کمیٹی کا اجلاس کب ہوگا اور کیا فیصلہ کریں گے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس واقعے پر لاہور پریس کلب سے اسمبلی ہال تک ریلی نکالی گئی۔ وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ کامران مائیکل ، صوبائی وزیر انسانی حقوق خلیل طاہر سندھو ، پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنما سینیٹر جہانگیر بدر، تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چودھری ، مسلم لیگ (ق) پنجاب کے نائب صدر چودھری محمد علی گجر ، عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قاضی فیض الاسلام اور جماعت اسلامی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماوں نے بھی ریلی میں شرکت کی، وہاں پائے جانے والے تاثرات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر حکومت نے شدت پسندی کے حوالے سے کوئی فیصلہ کن پالیسی اختیار نہ کی تو ملک بھر میں ہونے والا یہ احتجاج کہیں حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل نہ ہو جائے اور سول سوسائٹی ، کاروباری حضرات، مزدور اور کسان اس میں شامل نہ ہوجائیں۔

حکومت کی سب سے پہلی ذمہ داری اپنے عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہے، اگر کوئی حکومت اس میں ناکام ہو جائے تو اس حکومت کو کامیاب کبھی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ طالبان اپنے مقصد میں واضح ہیں انہیں پتہ ہے کیا کرنا ہے۔

ستمبر 2013ء میں اس معاملے پر اے پی سی ہوئی اس پر چار ماہ ہوگئے ہیں، اس وقت ملک شدید دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے مگر ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکا کہ مذاکرات کرنے ہیں یا نہیں کرنے ہیں۔ حکومی اور سیاسی سطح پر کنفیوژن ہے، کچھ کہتے ہیں کہ طالبان بھائی ہیں اور کچھ کہتے ہیں وہ نہیں ہیں، حکومت کو اس بارے میں کوئی واضح فیصلہ کرنا چاہئیے۔ عام تاثر یہ تھا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سکیورٹی پالیسی پر اتفاق رائے ہوگا اور اس اہم معاملے پر قوم کو اعتماد میں لیا جائے گا مگر سکیورٹی پالیسی پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ لوگوں کو نواز شریف سے بڑی امیدیں تھیں اس لئے انہیں ووٹ دیئے۔ ان کا خیال تھا کہ نواز شریف معاملات یکسوئی سے دیکھیں گے مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ انڈیا اور افغانستان کے ساتھ نیا NARRATIVE طے کرنا چاہتے ہیں مگر ان کی ٹیم کے لوگ ضیاء دور سے باہر نہیں نکل رہے۔

پارٹی کے کچھ لوگوں کی پالیسی اور ہے اور کچھ دوسری پالیسی پر چل رہے ہیں۔ اس طرح حکومت کی پالیسی میں کوئی تسلسل نہیں ہے اور اس کی سزا پاکستان کو مل رہی ہے۔ اس مایوسی اور بے عملی کے ماحول میں پاک فوج کوبالآخر جواب دینا پڑا ہے، شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں فوجی کارروائی میں تقریباً 50 کے قریب شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق قصہ خوانی بازار ، بنوں اور فوج پر ہونے والے حملوں سے بتایا جا رہا ہے۔ اس جوابی کارروائی سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کو عنقریب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے چودھری نثار علی کے فلسفہ کو اپنانا ہے یا اسے خیر باد کہہ کر وہ کام کرنا ہے، جس کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔