انکوائری

ظہیر اختر بیدری  منگل 29 جون 2021
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

اشرافیہ اس قدر ہوشیار ہے کہ اس کا جواب نہیں۔ اربوں روپوں کی جو لوٹ مار کی گئی اس کے احتساب یا انکوائری کو اس طرح ٹال دیا گیا کہ موجودہ حکومت جو احتساب کی باتیں کر رہی تھی وہ بھی اس طرف سے بے فکر ہوگئی ہے۔

حکومت چھوٹے چھوٹے اسکینڈل کو تو فوری رسپانس دیتی ہے لیکن اربوں روپوں کے اسکینڈل کو بڑی آسانی سے نظرانداز کر دیتی ہے۔ اسکینڈل اربوں روپوں کا ہو یا لاکھوں روپوں کا، اس کا احتساب ضروری ہے۔ چیئرمین نیب کے اس حوالے سے بیانات آتے رہتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اربوں روپوں کی ریکوری بھی ہو رہی ہے۔

اس احتساب میں نہ سختی ہے نہ تسلسل نتیجہ یہ نکلے گا کہ  اس اربوں روپوں کی کرپشن کو بھلا دیا جائے گا۔ یہ صورتحال انتہائی خطرناک بھی ہے۔ سابق وزرا پر کرپشن کے الزامات ہیں جو میڈیا پر بھی آتے ہیں لیکن کلی احتساب کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اس کا ذمے دار کون ہے؟یہ اربوں روپے قومی سرمایہ ہے، جس کی ایک ایک پائی وصول ہونی چاہیے، لیکن اس کے برخلاف نیب کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے،چونکہ نیب ہی وہ ادارہ ہے جو اشرافیہ کی کرپشن کا نوٹس لے رہا ہے۔

اگر اس بار اس  اسکینڈل کی انکوائری کو نظرانداز کردیا گیا تو آیندہ اس قسم کے بھاری اسکینڈلوں کی بھرمار ہو جائے گی اور کرپٹ عناصر کے حوصلے بلند ہو جائیں گے۔ ہم جس نظام میں زندہ ہیں وہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جو کرپشن سے شروع ہوتا ہے اور کرپشن پر ختم ہوتا ہے ایسی صورتحال میں کرپشن کو ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ پاکستان ایک غریب اور پسماندہ ملک ہے ایسے ملک میں اربوں کی کرپشن غریب عوام کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے برابر ہے، اگر اس موقع پر کرپشن کے خلاف جامع اور حتمی تحفظات نہ ہوںتو آیندہ احتساب کی توقع رکھنا فضول ہے کرپشن کے کیس کبھی پرانے نہیں ہوتے خواہ وہ کتنے ہی پرانے کیوں نہ ہوں۔

سوال یہ ہے کہ دس ہزار کی کرپشن کرنے والے کو بغیر مقدمہ چلائے دس دس سال بند رکھا جاتا ہے تو اربوں روپوں کی کرپشن کرنے والے ایلیٹ ضمانتوں پر زندگی گزار دیتے ہیں۔ قانون کا استعمال اس قدر متنازعہ ہو جاتا ہے کہ پھر عوام قانون کی حکمرانی کے ڈھول کا پول کھول دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی بھی مجرم کو خواہ اس کا شجرہ نسب کتنا ہی اعلیٰ کیوں نہ ہو بخشا نہ جائے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ قانون اگر اشرافیہ کے گلے کا پھندا نہ بن جائے تو اسے قانون کہنا قانون کی توہین ہے بڑے مرغوں کو قانون کی زنجیریں باندھنا ہی اصل قانون ہے۔

پہلی بار اب اشرافیہ قانون کی گرفت میں آئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے کسی حد تک قانون سے بچاؤ کرلیا ہے۔ اب اس آزار سے نکلنے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہے ایلیٹ کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہر جگہ اپنے جو کارندے بٹھا کر رکھے ہیں ان سے کام لیا جائے۔ یہ سلسلہ ویسے تو بہت پرانا ہے لیکن اب جدت آگئی ہے، نئے نئے طریقے ایجاد کرلیے گئے ہیں۔

اس نظام میں ہر چیز کا ایک نعم البدل ہوتا ہے اور اصل کی جگہ نعم البدل استعمال کیا جاتا ہے یوں کام میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے یہ تو بات برسبیل تذکرہ ہوئی اصل مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ پہلی بار حقیقی معنوں میں احتساب ہو رہا ہے اس لیے ہاہاکار مچی ہوئی ہے ایلیٹ پریشان ہے کہ سابقہ کی طرح جان چھوڑنا آسان نظر نہیں آتا۔

اس سختی نے ایلیٹ کے حواس باختہ کردیے ہیں اور وہ اس مشکل سے نجات حاصل کرنے کے لیے جو کچھ ان کے دست قدرت میں ہے، استعمال کر رہی ہے لیکن نیب آج کل بہت سخت پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

اربوں روپے کی ریکوری کی خبریں ہیں اگر یہ درست ہیں تو جانیے کہ ایلیٹ کی کمر ٹوٹ رہی ہے اور اس کا حال نہ جائے رفتن کا ہے نہ پائے ماندن کا اس کے علاوہ حکومت پر مختلف قسم کے دباؤ ڈالے جا رہے ہیں کہ حکومت گھبرا کر احتساب سے دست بردار ہو جائے۔ لیکن اس بار پکڑ اس قدر مضبوط ہے کہ اس پھندے سے نکلنا مشکل نظر آ رہا ہے۔

اب تنخواہوں میں اضافہ کا ایشو اس لیے ختم ہوگیا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کی ڈیمانڈ سے زیادہ تنخواہوں میں اضافہ کردیا ہے یہ حکومتی ٹرک ایسی ہے کہ اس نے اپوزیشن کو پریشان کردیا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام کو ورغلانے کی بہت کوشش کی گئی لیکن عوام ٹس سے مس نہیں ہوتے اس صورتحال سے اپوزیشن سخت پریشان ہے۔

اپوزیشن آسانی سے ہار نہیں مانے گی،ابھی اشرافیہ کے ترکش میں بہت تیر ہیں وہ انھیں ایک ایک کرکے آزمانے لگیں گے۔ اشرافیہ کی آخری کوشش ہے کہ عوام کو کسی نہ کسی طور پر گھسیٹ کر میدان میں لایاجائے لیکن عوام ٹس سے مس اس لیے نہیں ہو رہے ہیں کہ گزرے پونے تین سالوں میں عوام نے حکومت کو چیک کرکے دیکھ لیا ہے کہ نہ عمران خان کرپشن میں ملوث ہے نہ ان کی ٹیم۔ اس صورتحال نے اپوزیشن کو مایوس کر دیا ہے اب دیکھیے وہ نیا تیر کیا لاتے ہیں؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔