مزدور کسان رہنما ،سائیں عزیز اللہ

زبیر رحمٰن  منگل 29 جون 2021
zb0322-2284142@gmail.com

[email protected]

عزیز اللہ کے آبا و اجداد دلی کے تھے۔ ان کے دادا سمیع اللہ جنگ آزادی کے ہیرو تھے، جب انگریز استعمار نے سمیع اللہ کو پھانسی دے دی تو اس کے بعد بھی سامراجی کارندے ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرتے تھے۔ جس سے تنگ آکر ان کے اہل خانہ مراد آباد ہجرت کرگئے۔ وہاں بھی جب ان کے خاندان کو تنگ کیا جانے لگا تو عزیز اللہ کے والد حبیب اللہ پیلی بھیت منتقل ہوگئے۔

پیلی بھیت میں عزیز اللہ کے والد اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہوا کرتے تھے۔ پیلی بھیت میں ہی عزیز اللہ1918میں پیدا ہوئے۔ چونکہ ان کے والد انگریز استعمار کے خلاف تھے اس لیے جو بھی نوجوان خواہ وہ ہندو ہو یا مسلم جنگ آزادی میں شرکت کے لیے جانے سے قبل حبیب اللہ کے پاؤں چھوتے اور دعا کرنے کو کہتے تھے۔

والد ، عزیز اللہ کو طالب علمی کے زمانے میں ہی کرشن چندر کی ساری کتابیں پڑھا چکے تھے۔ انھوں نے کرشن چندر کی اہلیہ سلمیٰ صدیقی کی تحریریں بھی پڑھیں۔ عزیز اللہ طالب علمی کے زمانے میں طلبا کے مسائل پر جدوجہد میں پیش پیش تھے۔ برصغیر کے انقلابی اور جنگ آزادی کے ہیرو بھگت سنگھ جوکہ فیصل آباد میں پیدا ہوئے اور انھیں لاہور جیل میں 1913 میں خفیہ طور پر پھانسی دے کر دور دراز علاقے میں لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے جلا دیا گیا تھا، وہ ’’بھارتیہ نوجوان سبھا‘‘ کے رہنما بھی تھے۔ یہ تنظیم عزیز اللہ کی جوانی میں بھی قائم تھی۔ عزیز اللہ اس کے رکن بن گئے۔

بعدازاں وہ ’’بھارتیہ کسان سبھا‘‘ کے بھی رکن بنے اور کسانوں میں قابل ذکر کام انجام دیے۔ وہ کانگریس کے سوشلسٹ رہنما سبھاش چندر بوس سے بہت متاثر تھے اس لیے کانگریس کے کارکن بن گئے۔ اس وقت کانگریس میں دو گروپس تھے۔ ایک گرم پنتھی اور دوسرا نرم پنتھی۔ گرم پنتھی وہ کہلاتے تھے جو انقلابی سوچ کے حامل تھے اور نرم پنتھی وہ کہلاتے تھے جو اعتدال پسند تھے۔ عزیز اللہ کا تعلق گرم پنتھی سے تھا۔ بھارتیہ نوجوان سبھا کی جانب سے عزیز اللہ کو انگریزوں سے بندوقیں چھیننے کا کام سپرد کیا گیا تھا۔

انھوں نے اپنی سرگرمی میں60بندوقیں چھینیں اور دو بار پکڑے جاتے جاتے بچ گئے۔ 1948 میں پیلی بھیت سے جیکب آباد سندھ، پاکستان آگئے۔ وہاں اسکول ٹیچر کے طور پر کام کرنے لگے۔ بعدازاں نیوی میں سول افسر کے طور پر بھی کام کیا۔ پھر کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے کارکن بن گئے۔ انھوں نے جیکب آباد میں برکت اللہ آزاد، بدرالدین وارثی اور انتظار حسین پر مشتمل پارٹی کا سیل تشکیل دیا۔ برکت اللہ آزاد سندھ ہاری کمیٹی اور کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے سندھ صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑے اور انتخابات میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن حکمرانوں نے ری کاؤنٹنگ کروا کے ہروا دیا۔ 1951 میں عزیز اللہ پارٹی کے فل ٹائمر بن گئے اور نیوی کی ملازمت چھوڑ دی۔

1951 میں ہی کراچی منتقل ہوگئے۔ یہاں انھوں نے ڈاکٹر اعزاز نذیر اور چاچا علی جان کے ساتھ مل کر مزدوروں میں کام کرنا شروع کردیا۔ ساتھ ساتھ انھوں نے شاہ فیصل کالونی میں (اس وقت ڈرگ کالونی) 100کواٹر کو مستقل کرنے کی عوامی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی سال کے اختتام پر عزیز اللہ کو پارٹی نے پشاور بھیج دیا۔ وہاں انھوں نے صنوبر خان، خوشحال خان اور افضل بنگش پر مشتمل پارٹی کا سیل قائم کیا جس کے سیکریٹری افضل بنگش تھے۔ اس کے بعد انھیں کوئٹہ، بلوچستان بھیجا گیا جہاں انھوں نے پہلی بار پارٹی کی تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ عزیز اللہ سی پی کی جانب سے عوامی لیگ میں کام شروع کردیا۔

وہ وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کے دست راست تھے۔ جب فرانس اور برطانیہ نے مصر پر حملہ کیا اور سہروردی نے امریکی سی آئی اے کے ایما پر یہ اعلان کیا کہ جو فرانس اور برطانیہ کی جانب سے مصر پر حملے کی مخالفت کر رہے ہیں وہ کمیونسٹ ہیں یا پھر انڈین ایجنٹ ہیں۔ اس اعلان کے بعد عزیز اللہ نے عوامی لیگ سے استعفیٰ دے دیا۔

عزیز اللہ نے سندھ ہاری کمیٹی کے تحت سندھ کے کسانوں میں سرگرم رہے۔ ہاری الاٹی تحریک جس میں ہاری کمیٹی اور کمیونسٹ پارٹی کا حکومت سے یہ مطالبہ تھا کہ انڈیا سے آئے ہوئے مہاجرین کو 25 ہزار روپے دینے کے بجائے 50 ہزار روپے میں کاروبار کا انتظام کرکے دیا جائے اور ہاریوں کو 25 ایکڑ زمین دینے کے بجائے 50 ایکڑ زمین دی جائے۔

اس تحریک میں عزیز اللہ اور عزیز سلام بخاری جو دونوں غیر سندھی تھے اور انھوں نے سندھی سیکھی اور کسانوں میں سندھی میں تقریر کرتے تھے۔ اس لیے جب کراچی واپس آتے تو لوگوں نے سائیں عزیز اللہ کہنا شروع کردیا۔ ہاری کمیٹی کے یہ دونوں مطالبات حکومت نے تسلیم کیے اور اس پر عمل کروایا۔

عزیز اللہ کا یہ کارنامہ بھی تھا کہ انھوں نے روس کے ذریعے چین سے پاکستان کے تعلقات خفیہ طور پر قائم کروائے۔ ان کا مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) سے قریبی تعلقات اور آمد و رفت رہی۔ انھوں نے 18 بار ڈھاکا کا دورہ کیا۔ دنیا بھر کی کمیونسٹ پارٹیوں، ورکرز پارٹیوں اور انقلابیوں سے گہرے اور قریبی تعلقات تھے۔ جنوبی افریقہ کی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما  یوسف دادا اور اندرا گاندھی کے شوہر فیروز گاندھی ان کے ذاتی دوست تھے۔ بلغاریہ، روس اور انڈیا سمیت دنیا بھر کی کمیونسٹ پارٹیوں سے قریبی تعلقات تھے۔

وہ افغانستان کے صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کے چار سال مہمان رہے۔ جب عوامی لیگ میں قوم پرست، ترقی پسند اور کمیونسٹ مل کر کام کرتے تھے تو اس وقت ان کا مولانا عبدالحمید خان بھاشانی اور پروفیسر مظفر احمد کے گروپ سے قریبی تعلق رہا اور مغربی پاکستان میں محمود الحق عثمانی اور امام علی نازش وغیرہ کے ساتھ تعلق تھا۔

انھوں نے کوئی ذاتی جائیداد یا نجی ملکیت نہیں بنائی۔ آج ان کی اولاد 80 گز کے مکان میں شاہ فیصل کالونی میں رہتی ہے وہ تادم مرگ محنت کشوں کی سیاست سے وابستہ رہے۔ اور اسی جدوجہد کے دوران 21 جون 2002 میں شاہ فیصل کالونی نمبر 3کراچی میں ہم سے جسمانی طور پر بچھڑ گئے۔ یعنی انھیں ہم سے بچھڑے ہوئے 19 برس بیت گئے مگر ان کے نظریات اور افکار آج بھی سب کے دماغ میں زندہ تابندہ ہیں۔ یہ انھی کا نظریہ ہے کہ حال ہی میں اٹلی کی بندرگاہ کے مزدوروں نے اسرائیل کو بھیجے جانے والے اسلحے کی لوڈنگ کرنے سے منع کردیا۔ مزدور یونین کا کہنا تھا کہ اس اسلحے سے فلسطینیوں کو مارا جائے گا اس لیے ہم اس اسلحے کی لوڈنگ نہیں کریں گے۔

یہی ان کا نظریہ ہے کہ بلارنگ و نسل، مذہب اور قومیت کے محکوم طبقات اور انسانوں کی خدمت کی جائے اور عالمی طور پر محنت کش عوام کے لیے کام کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ طبقاتی نظام موجود ہوگا اس وقت تک انسان انسانوں کا استحصال کرتا رہے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔