پشاور میں بچوں و خواتین سے زیادتی پر 105 سال کی سزا کالعدم قرار، اسکول پرنسپل بری

خبر نگار / ویب ڈیسک  منگل 29 جون 2021
سیشن عدالت نے اسکول پرنسپل کو 103 سال سزا کی سنائی تھی، ہائی کورٹ نے سیشن عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا (فوٹو : انٹرنیٹ)

سیشن عدالت نے اسکول پرنسپل کو 103 سال سزا کی سنائی تھی، ہائی کورٹ نے سیشن عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا (فوٹو : انٹرنیٹ)

 پشاور: ہائی کورٹ کے جسٹس روح الامین نے بچوں اور خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی اور غیر اخلاقی حرکات کے مشہور زمانہ کیس میں گرفتار نجی اسکول کے پرنسپل عطاء اللہ کی 105 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا کالعدم قراردے دی جبکہ اسے بری کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ملزم کے خلاف متاثرہ افراد کی جانب سے عدالت میں کوئی پیش نہ ہوا اور پراسیکیوشن بھی ملزم کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کرسکی جس پر ملزم کو بری کردیا گیا۔

ملزم پرنسپل عطاءاللہ کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت قبل ازیں جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس ناصر محفوظ پرمشتمل دو رکنی بنچ نے کی تھی تاہم اپیل کی سماعت مکمل ہونے پر دو رکنی بنچ میں اختلاف رائے کی بناء اپیل ریفری جج جسٹس روح الامین کو بھجوا دیا گیا تھا جنہوں نے دلائل مکمل ہونے پر اپیل منظور کرکے ماتحت عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

Attaullah rapest 2

ملزم کی جانب سے حسین علی اور شبیر حسین گگیانی ایڈوکیٹس نے اپیل کی پیروی کی۔ دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ حیات آباد چلڈرن اکیڈمی کے پرنسپل عطاءاللہ پر الزام تھا کہ وہ طلباء کے ساتھ زیادتی، غیر اخلاقی حرکات کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی پورنو گرافی وغیرہ میں ملوث ہیں جس پر متاثرہ افراد اور طالب علموں کی مختلف شکایات پر حیات آباد پولیس نے ملزم کو 14 جولائی 2017ء کو اسکول سے گرفتار کرلیا تھا اور قبضے سے غیر اخلاقی میگزینز، ویڈیوز اور دیگر مواد اور ادویات بھی برآمد کی تھیں۔

Attaullah rapest

ملزم عطاء اللہ کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سیشن جج پشاور کی عدالت نے ملزم کے خلاف الزامات ثابت ہونے پر 2018ء میں ملزم کو 103 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف ملزم نے پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی۔

دوران سماعت ملزم کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ پولیس اور پراسیکیوشن ملزم کے خلاف متاثرہ افراد میں کوئی بھی عدالت میں پیش نہ کرسکی جو الزامات کو ثابت کرسکے۔ اس طرح میڈیکل کے بھی فرانزک ثبوت موجود نہیں ہیں جبکہ عدالت کے سامنے کوئی آڈیو، ویڈیو یا جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل شہادت پیش نہیں کی گئی۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسکول مالکان نے اسے اس کیس میں پھنسایا اور یہ ان کا گیم تھا کیونکہ وہ اس کے ساتھ پیشہ ورانہ حسد رکھتے تھے۔ دو رکنی بنچ نے دلائل مکمل ہونے پر ملزم کو تمام الزامات سے بری کرنے کا حکم دے دیا۔

یاد رہے کہ ملزم عطا اللہ کو سیشن عدالت نے خواتین سے زیادتی، ان کی برہنہ فلمیں بناکر انہیں بلیک میل کرنے کے بارہ مقدمات میں 30 اکتوبر 2018ء کو 105 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ انہوں نے کم از کم 80 خواتین کے ساتھ جنسی حرکات کا اعتراف کیا تھا جن میں کم عمر لڑکیاں بھی شامل تھیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔