خلا میں یہ پراسرار ’’ایکسرے ہاتھ‘‘ درحقیقت کیا ہے؟

ویب ڈیسک  بدھ 30 جون 2021
پراسرار خلائی ہاتھ لمبی انگلیاں ایک بہت بڑے گیسی بادل پر مشتمل ہیں جو ’آر سی ڈبلیو 89‘ کہلاتا ہے۔ (تصاویر: ناسا)

پراسرار خلائی ہاتھ لمبی انگلیاں ایک بہت بڑے گیسی بادل پر مشتمل ہیں جو ’آر سی ڈبلیو 89‘ کہلاتا ہے۔ (تصاویر: ناسا)

پیساڈینا، کیلیفورنیا: خلا کے تاریک پس منظر میں یہ پراسرار اور روشن ہاتھ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں، اور نہ ہی فوٹوشاپ کی گئی کوئی تصویر ہے، بلکہ یہ ستاروں کا عکس ہے جو ناسا کی ’’چندرا ایکسرے خلائی دوربین‘‘ سے حاصل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ انسانی آنکھ ایکسریز کو نہیں دیکھ سکتی۔ اس لیے خلا سے آنے والی ایکسریز کی مدد سے حاصل ہونے والی تصویروں کو کچھ خاص مراحل سے گزارنے کے بعد ایسے رنگوں میں تبدیل کیا جاتا ہے کہ جو انسانی آنکھ کےلیے قابلِ مشاہدہ ہوتے ہیں۔ یہ تصویر بھی اسی قسم کی ہے۔

یہ تصویر پہلی بار ناسا نے 2009 میں اپنی منفرد خلائی تصویروں کی ایک آن لائن نمائش میں پیش کی تھی۔ اس کا مرکزی حصہ ’’ایم ایس ایچ 15-52‘‘ کہلانے والے ایک سپرنووا (دھماکے سے پھٹنے والے ستارے) کی باقیات پر مشتمل ہے۔

چندرا ایکسرے دوربین نے اس کی پہلی تصویر 2004 میں، دوسری 2008 میں، تیسری 2017 میں اور چوتھی تصویر 2018 میں کھینچی تھی۔

ناسا کے ماہرین نے ان تمام تصویروں کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے کے بعد بتایا ہے کہ یہ ’’پراسرار ہاتھ‘‘ اصل میں زبردست توانائی خارج کرنے والی گیس اور گرد کے ایک وسیع بادل (نیبولا) پر مشتمل ہے جو 150 نوری سال تک پھیلا ہوا ہے۔ (یعنی روشنی کو 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے، اس کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچنے میں 150 سال لگ جاتے ہیں۔)

یہ نیبولا ہم سے تقریباً 17 ہزار نوری سال دور ہے جس کے بارے میں ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اس کی وجہ بننے والا سپرنووا آج سے 1700 سال پہلے پھٹا تھا، جس کا مادّہ آج تک بہت تیزی سے دور دور تک پھیل رہا ہے۔

سپرنووا کا وہ حصہ جو دھماکے کے بعد باقی رہ گیا ہے، تصویر کے تقریباً مرکز میں نیلگوں مائل روشن حصے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے؛ جہاں سے آج بھی زبردست ایکسریز خارج ہورہی ہیں۔

پراسرار خلائی ہاتھ کی پھیلی ہوئی ’’انگلیاں‘‘ ایک بہت بڑے گیسی بادل پر مشتمل ہیں جسے ’’آر سی ڈبلیو 89‘‘ کہا جاتا ہے۔

گزشتہ برس شائع ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سپرنووا دھماکے سے اٹھنے والی لہروں کے اثرات آج بھی جاری ہیں جن کی وجہ سے اس ہاتھ میں انگلیوں کے سروں پر موجود گیس 1 کروڑ 45 لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کررہی ہے جبکہ ہتھیلی کے قریب والے حصے میں گیس کی حرکت 1 کروڑ 77 لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔

ماہرین نے یہ حساب بھی لگایا ہے کہ ماضی میں (سپرنووا دھماکے کے فوراً بعد) گیس کی رفتار 4 کروڑ 82 لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ رہی ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔