کراچی میں ممتازعالم دین مولانا عبدالرزاق اسکندر انتقال کرگئے

ویب ڈیسک  بدھ 30 جون 2021
نماز باجماعت کی پابندی، تلاوتِ قرآن کریم، ذکرِ الٰہی، صلہ رحمی، اصلاح ذات البین آپ کے خصوصی اوصاف تھے۔(فوٹو:فائل)

نماز باجماعت کی پابندی، تلاوتِ قرآن کریم، ذکرِ الٰہی، صلہ رحمی، اصلاح ذات البین آپ کے خصوصی اوصاف تھے۔(فوٹو:فائل)

 کراچی: دینی تعلیم اور مدارس دینیہ سے وابستہ معروف شخصیت اورجامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم اور شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر بدھ کو کراچی کے نجی اسپتال میں علالت کے بعد انتقال کرگئے۔

46 برس سے حدیث پڑھانے والے مولانا ڈاکٹرعبدالرزاق اسکندر نے اپنی عمر کے 71 برس دین کی تعلیم میں گزارے۔ انہوں نے مدینہ یونیورسٹی اور مصر کی جامعہ الازہر سے بھی تعلیم حاصل کی۔ اور 1976میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندرجامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے رئیس اور شیخ الحدیث ہونے کے علاوہ دینی مدارس پرمشتمل وفاق المدارس العربیہ پاکستان اوراقراء روضۃ الاطفال ٹرسٹ پاکستان کے صدراور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے تاحیات مرکزی امیررہے۔ نماز باجماعت کی پابندی، تلاوتِ قرآن کریم، ذکرِ الٰہی، صلہ رحمی، اصلاح ذات البین، محبت و شفقت، اور ضعفاء کی خبرگیری آپ کے خصوصی اوصاف تھے۔

ڈاکٹرعبد الرزاق اسکندر1935ء کوضلع ایبٹ آباد کے گاؤں کوکل کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ قرآن کریم کی تعلیم اور میٹرک تک دنیاوی فنون گاؤں میں حاصل کیے۔ اس کے بعد ہری پور کے مدرسہ دارالعلوم چوہڑ شریف میں 2 سال، اور احمد المدارس سکندر پور میں 2 سال علم حاصل کیا۔ 1952ء میں مفتئِ اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ تعالیٰ کے مدرسہ دارالعلوم نانک واڑہ کراچی میں درجہ رابعہ سے درجہ سادسہ تک تعلیم حاصل کی۔

درجہ سابعہ و دورۂ حدیث کے لیے محدّث العصر علامہ سید محمّد یوسف بَنُوری رحمۃ اللہ علیہ کے مدرسہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں داخلہ لیا، اور 1956ء میں فاتحۂِ فراغ پڑھا۔ اس کے بعد آپ نے 1962ء میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منوّرہ میں داخلہ لے کر چار سال علومِ نبویہ حاصل کیے۔ 1972ء میں جامعہ الازہر مصرمیں داخلہ لیا، اور چار سال میں دکتورہ مکمل کیا، جس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام الفقہ العراقی کے عنوان سے مقالہ سپردِ قلم فرمایا۔

دارالعلوم نانک واڑہ میں دورانِ تعلیم ہی عمدہ استعداد و صلاحیت کی بناء پرکراچی میں لیبیا و مصر کی حکومتوں کے تعاون سےعربی زبان سکھانے کے لیے مختلف مقامات پر ہونے والی تربیتی نشستوں میں پڑھایا، علاوہ ازیں بَنُوری ٹاؤن میں درسِ نظامی کی تکمیل سے پہلے ہی حضرت بَنُوری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی صلاحیتوں کو جانچتے ہوئے اپنے مدرسہ کا استاد مقرر فرمایا۔

ظاہری علوم کی تکمیل کے علاوہ آپ کی باطنی تربیت میں بھی شیخ بَنُوری کا سب سے زیادہ حصہ تھا۔ علاوہ ازیں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمّد زکریا کاندہلوی اور حضرت ڈاکٹر عبدالحئ عارفی کی صحبت سے مستفید ہوئے، اور حضرت مولانا محمّد یوسف لدھیانوی شہید اور حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہما اللہ تعالیٰ سے اجازتِ بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔

1977ء میں انتظامی صلاحیتوں کے اعتراف میں جامعہ ناظمِ تعلیمات مقرر ہوئے۔ 1997ء میں مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید کی شہادت کے بعد رئیس الجامعۃ کے لیے آپ کا انتخاب ہوا اور 2004ء میں مفتی نظام الدین شامزئی کی شہادت کے بعد شیخ الحدیث کے مسند نشین بنے یہ دونوں ذمہ داریاں آپ تاحال بحسن و خوبی نبھارہے تھے۔

عقیدۂِ ختمِ نُبوّت کے تحفظ اور فتنۂِ قادیانیت کے تعاقب کے لیے 1981ء میں ختم نبوت کی مجلسِ شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے۔ حضرت سیّد نفیس الحسینی شاہ کے وصال (2008ء) کے بعد آپ نائب امیر مرکزیہ بنائے گئے۔ حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی کے انتقال کے بعد آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیرمرکزیہ منتخب ہوئے۔ علاوہ ازیں آپ نے مجلس کی کئی اردو مطبوعات کا عربی میں ترجمہ کرکے عرب ممالک میں اِنہیں عام فرمایا۔

ڈاکٹرعبدالرزاق اسکندر 1997ء میں وفاق المدارس کی مجلسِ عاملہ کے رُکن بنائے گئے۔ 2001ء میں نائب صدر مقرر ہوئے، اس دوران آپ صدرِ وفاق شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان کی بیماری و ضعف کے باعث کئی بار اُن کی نیابت کرتے رہے، اور اُن کی وفات کے بعد تقریباً 9 ماہ قائم مقام صدر رہے۔  05 اکتوبر 2017ء کو آپ متفقہ طور پر مستقل صدر منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ آپ وفاق کی نصاب کمیٹی اور امتحان کمیٹی کے سربراہ بھی تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔