مشین کو آنکھیں دکھائیے، بدلے میں کرپٹو کرنسی پائیے

ویب ڈیسک  جمعرات 1 جولائ 2021
ورلڈکوائن کرپٹو کرنسی کے خالق سیم آلٹمین نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنکھوں کی اسکیننگ کروانے والوں کو یہ کرپٹو کرنسی معاوضے میں دیں گے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ورلڈکوائن کرپٹو کرنسی کے خالق سیم آلٹمین نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنکھوں کی اسکیننگ کروانے والوں کو یہ کرپٹو کرنسی معاوضے میں دیں گے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

سلیکان ویلی: ایک امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ جو کوئی بھی ان کی کمپنی سے اپنی آنکھ کی اسکیننگ کروائے گا، اسے معاوضے میں ایک نئی کرپٹو کرنسی ’’ورلڈ کوائن‘‘ دی جائے گی۔

یہی نہیں بلکہ آنکھ کی اسکیننگ کروانے والے کو ’’ورلڈ کوائن‘‘ کمپنی میں تھوڑا سا حصہ (شیئر) بھی دیا جائے گا۔

ورلڈ کوائن کمپنی اور اسی نام سے کرپٹو کرنسی کے بانی سیم آلٹمین کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص مشین کے ذریعے آنکھوں کی اسکیننگ کرکے سیکیورٹی اور ذاتی معاملات کے حوالے سے اس شخص کی ایک ڈیجیٹل شناخت تخلیق کی جائے گی جو مکمل طور پر محفوظ ہوگی؛ یعنی اس شناخت کو صرف وہی شخص استعمال کرسکے گا۔

سیم آلٹمین کا تعلق کمپیوٹر سائنس میں بلاک چین ٹیکنالوجی سے ہے جسے انٹرنیٹ کا مستقبل بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا کی تمام کرپٹو کرنسیز بھی یہی ٹیکنالوجی استعمال کرکے بنائی جاتی ہیں۔

آن لائن ڈیٹا کا تحفظ یعنی سیکیورٹی، بلاک چین ٹیکنالوجی کی اہم ترین خاصیت ہے۔ اس ٹیکنالوجی پر کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بلاک چین کی مدد سے آن لائن ڈیٹا کو اتنا محفوظ بنایا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی ہیکر اپنی بہترین کوششوں کے باوجود اسے تبدیل نہیں کرسکتا۔

اپنی کمپنی ’’ورلڈ کوائن‘‘ کے ذریعے بھی آلٹمین یہی کرنا چاہتے ہیں کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر شخص کی ڈیجیٹل شناخت کو اس قدر محفوظ بنا دیا جائے کہ کوئی بھی اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرسکے۔

اس مقصد کےلیے انہوں نے آنکھوں کی اسکیننگ کا طریقہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن عوام کو آنکھوں کی اسکیننگ پر آمادہ کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ لہذا انہوں نے ’’ترغیب‘‘ کے طور پر اپنی آنکھوں کی اسکیننگ کروانے والوں کو ورلڈ کوائن کرپٹو کرنسی دینے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ ورلڈ کوائن کرپٹو کرنسی ابھی تک باقاعدہ طور پر لانچ نہیں کی گئی ہے لیکن امید ہے کہ یہ بہت جلد عوام کےلیے بھی دستیاب ہوجائے گی۔

آنکھوں کی اسکیننگ کروانے والوں کےلیے آلٹمین کی جانب سے یقین دہانیوں کے باوجود، آن لائن پرائیویسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایک بار کسی صارف کا ڈیٹا کسی کمپنی کے پاس چلا گیا، چاہے وہ آنکھوں کے اسکین (آئی اسکین) کی شکل ہی میں کیوں نہ ہو، تو پھر اس کے تحفظ کی ضمانت دینا تقریباً ناممکن ہے۔

یہ امکان بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ آنکھوں کے اسکین حاصل ہوجانے کے بعد وہ کمپنی خود ہی کسی اور ادارے کو یہ معلومات خفیہ طور پر فروخت کرکے صارفین کےلیے نئی مشکلات پیدا کردے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔