وفاق نے بجلی منافع کے 25 ارب روپے ادا کردیئے، وزیر خزانہ خیبر پختونخوا

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 1 جولائ 2021
بجلی منافع کا پیسہ صوبائی خزانہ کاحصہ بنتا ہے اور تمام کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے، تیمور جھگڑا فوٹو: ایکسپریس

بجلی منافع کا پیسہ صوبائی خزانہ کاحصہ بنتا ہے اور تمام کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے، تیمور جھگڑا فوٹو: ایکسپریس

 پشاور: وفاقی حکومت نے بجلی خالص منافع کے بقایاجات کی مد میں واجب الادا 36 ارب میں سے25 ارب روپے نئے مالی سال کے آغاز پر ہی خیبرپختونخوا حکومت کو ادا کردیئے جبکہ مزید11 ارب کے بقایاجات پرمشتمل دوسری قسط بھی جلد جاری کی جائے گی۔

صوبائی وزیرخزانہ وصحت تیمور سلیم جھگڑا نے معاون خصوصی اطلاعات کامران بنگش کے ہمراہ میڈیا سیل سول سیکرٹریٹ پشاورمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجلی منافع بقایاجات کے حوالے سے وزیراعظم صوبہ کی عوام سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے، ہم صوبائی حقوق کے لیے کوشاں تھے جس کے تحت ماہانہ 3 ارب روپے ملتے ہیں، مرکز نے گزشتہ سال کے بقایاجات کی مد میں 25ارب روپے جاری کردیئے ہیں،بجلی منافع کے بقایاجات ادائیگی کاکریڈٹ وزیراعظم اور وزیر اعلی محمودخان کو جاتا ہے اور ہم اپنے صوبہ کے دو بڑوں اسپیکر قومی اسملی اسد قیصراور وزیر دفاع پرویز خٹک کی کوششوں کو بھی سراہتے ہیں۔ بجلی منافع کا پیسہ صوبائی خزانہ کاحصہ بنتا ہے اور تمام کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ ہم پیڈو کوزیادہ اختیارات دے رہے ہیں تاکہ وہ وسائل بھی پیدا کریں اوربجلی کے پیداواری منصوبے بھی شروع کریں۔

تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ بجلی کے منصوبوں پرکسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،ایک سال میں ہمیں بجلی منافع کی مدمیں 47 ارب ملے ہیں، ہم نے جو فیصلے لیے تھے وہ اسی بنیاد پر لیے تھے کہ پیسہ آگیا ہے، کے پی آر اے نے جون میں 2.2 ارب جبکہ سال بھر میں 20.8ارب کا ریونیو حاصل کیا،محکموں کی جانب سے ایک پیسہ بھی سرنڈر نہیں کیا گیا۔ ہم نے مالی سال کے پہلے دن ہی سارے ترقیاتی فنڈز جاری کردئیے ہیں، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ سال کے پہلے ہی دن سارے فنڈزجاری کیے گئے ہوں، اب محکمے یہ فںڈزاستعمال کریں، 210 ارب کے صوبائی پروگرام کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں،اس اقدام سے جون ازم کا خاتمہ ہوگا، یہ انقلابی قدم ہے جس سے پورے سال فنڈزاستعمال ہوں گے۔

تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ جومحکمے فںڈزاستعمال نہیں کرپائیں گے ان کے فنڈز دیگر محکموں کومنتقل کیے جائیں گے، ہم شفافیت اورفعالیت کے لیے کام کررہے ہیں تاکہ عوام کی تقدیر بدل جائے، دیگرصوبوں سے ضم اضلاع کے لیے تین فیصدحصہ لینے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کافورم استعمال کیاجائے گا۔ پنشن کی ادائیگی کے لیے بہتر اچھا آپشن تلاش کررہے ہیں، پنشن کے اخراجات پندرہ سال میں سوگنا بڑھے اور اس سال کے لیے 100 ارب کی ادائیگی کرنی ہے، انڈیا میں پنشن ادائیگی کنٹری بیوٹری فنڈ سے کی جاتی ہے،ایسا نظام یہاں پر قائم کیا گیا لیکن ایم ایم اے اور اے این پی حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے اس پر کام نہ ہوسکا اور اس نظام کو لپیٹ دیاگیا ،ہم نے پنشن کومحدودکردیاہے جواب ریٹائرملازم اور اس کے فوت ہونے کے بعد اس کے بچوں,بیوہ اوروالدین کوہی مل پائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔