نو منتخب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، توقعات اور اندیشے

عبید اللہ عابد  اتوار 4 جولائ 2021
کم ترین ٹرن آؤٹ کے ساتھ ملک کے اہم ترین منصب پر فائز ہونے والے رئیسی ایرانی قوم اور باقی دنیا کے لئے کیسے ثابت ہوں گے؟ فوٹو: فائل

کم ترین ٹرن آؤٹ کے ساتھ ملک کے اہم ترین منصب پر فائز ہونے والے رئیسی ایرانی قوم اور باقی دنیا کے لئے کیسے ثابت ہوں گے؟ فوٹو: فائل

ایران میں نسبتاً نرم خو ڈاکٹر حسن روحانی کی جگہ سخت گیر، قدامت پسند ابراہیم رئیسی صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کے مقابلے میں تین امیدوار تھے، محسن رضائی، عبدالناصر ہمتی اور امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی۔

واضح رہے کہ صدارتی انتخابات میں600 افراد حصہ لینا چاہتے تھے، ’شورائے نگہبان‘ نے سات افراد کو اجازت دی، جن میں سے تین امیدوار سعید جلیلی ، علی رضا زکانی اور محسن مہر علی زادہ انتخاب سے ایک دن پہلے دستبردار ہوگئے۔

انتخابی نتائج کے مطابق ابراہیم رئیسی نے مجموعی طور پر 72.38 فیصد ووٹ حاصل کئے ۔ یاد رہے کہ ابراہیم رئیسی نے 2017ء کے انتخابات میں 38.28 فیصد ووٹ لئے ۔ یہ انقلاب کے بعد منعقدہ صدارتی انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہنے والے کسی بھی صدارتی امیدوار کے سب سے زیادہ ووٹ تھے ۔ جیتنے والے حسن روحانی ان سے محض 19فیصد آگے تھے ۔ اس سے ایران میں ابراہیم رئیسی کی مقبولیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

حالیہ صدارتی انتخابات میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے محسن رضائی نے13.78 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ وہ ’ پاسداران انقلاب‘ میں میجر جنرل کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں ۔ انھوں نے ایران عراق جنگ میں حصہ لیا ۔ وہ اس وقت ’ مجمع تشخیص مصلحت نظام ‘ کے سیکرٹری جنرل ہیں۔

محسن رضائی نے 2013ء کے صدارتی انتخاب میںگیارہ فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔ تیسرے امیدوار عبدالناصر ہمتی کو 9.80 فیصد ووٹ ملے، وہ چین میں ایران کے سفیر، بعدازاں گورنر سٹیٹ بنک رہے جبکہ چوتھے امیدوار امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی کو 4.4 فیصد ووٹ ملے۔ وہ مجلس شوریٰ ( پارلیمان ) کے رکن ہیں۔ اس بار 48.8 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے، یہ انقلاب کے بعد کسی بھی صدارتی انتخاب میں سب سے کم ٹرن آئوٹ ہے۔2017ء کے انتخابات میں ٹرن آئوٹ 73.33 فیصد رہا تھا۔

حالیہ صدارتی انتخاب کے نتائج مکمل نہیں ہوئے تھے کہ دیگر صدارتی امیدواروں محسن رضائی، عبد الاناصر ہمتی اور امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی نے ابراہیم رئیسی کی فتح کو تسلیم کر لیا اور انھیں مبارک باد دیدی۔ محسن رضائی کاکہنا تھا: ’’ ایرانی قوم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ وطن کی سلامتی اور حفاظت کے لیے کوئی کوشش نہیں چھوڑے گی‘‘۔ عبد الناصر ہمتی نے امید ظاہر کی کہ ابراہیم رئیسی کی حکومت ایرانیوں کو اچھی زندگی فراہم کرے گی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے گی ۔

ابراہیم رئیسی ہیں کون؟
60 سالہ ابراہیم رئیسی اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں ۔ وہ تین اگست کو بطور صدر حلف اٹھانے تک چیف جسٹس کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔1989ء کے بعد نومنتخب صدر کی تقریب حلف برداری ہمیشہ تین اگست ہی کو ہوتی ہے۔ ملک کے طاقت ور انقلابی کیمپ کی بھرپور حمایت رکھنے والے ابراہیم رئیسی ملک کے شمال مشرقی شہر ’ مشہد ‘ میں پیدا ہوئے، ان کے خاندان میں زیادہ تر علماء ہی ہیں۔

انقلاب 1979ء سے کچھ ہی عرصہ پہلے وہ ’ قم ‘ کی مشہور درس گاہ میں داخل ہوئے۔ وہ ایران کے رہبر معظم (سپریم لیڈر) آیت اللہ علی خامنہ ای کے شاگرد رہے۔ رئیسی نے قانون میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ انقلاب کے بعد وہ پراسیکیوٹر آفس میں کام کرنے لگے۔ 1985ء میں ڈپٹی پراسیکیوٹر بنے اور دارالحکومت تہران منتقل ہوگئے۔

1989ء میں آیت اللہ خامنہ ای کے ’ رہبر معظم‘ بننے کے بعد ابراہیم رئیسی عدلیہ میں مسلسل سیڑھیاں چڑھتے رہے۔ پہلے تہران کے میں پراسیکیوٹر جنرل بنے، اس کے بعد جنرل انسپیکشن آرگنائزیشن کے سربراہ ، 2014ء تک ڈپٹی چیف جسٹس رہے اور پھر اس منصب پر 10 برس تک فائز رہے۔ اسی دوران میں، جنوبی خراسان سے ’ مجلس خبرگان رہبری ‘ کے رکن منتخب ہوئے۔ یہ ادارہ رہبر معظم کی وفات کے بعد ان کے جانشین کا انتخاب کرتا ہے۔ وہ تاحال رکن ہیں۔2014ء میں انھیں ایران کا اٹارنی جنرل بنا دیا گیا ۔2016ء میں رہبر معظم نے انھیں ’آستانہ قدس رضوی ‘ کا نگران مقرر کیا۔ امام رضا کے مزار کے معاملات بالخصوص مالی معاملات اسی ادارے کے پاس ہیں۔

یوں اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے ان کی نگرانی میں تھے۔ اس دوران میں ابراہیم رئیسی مشہد کے مذہبی اور کاروباری طبقات کے قریب رہے۔2019ء میں آیت اللہ خامنہ ای نے انھیں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا۔ اس منصب پر فائز ہوکر ابراہیم رئیسی نے زیادہ تر کرپشن کے خلاف کیسز نمٹائے، یوں بدعنوانی کو بالکل برداشت نہ کرنے کی ساکھ بنانے والے چیف جسٹس حکومت اور عدلیہ کے قریبی لوگوں پر مقدمات خصوصی طور پر چلائے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ 82 سالہ سید علی خامنہ ای کے جانشین ہوں گے، یعنی اگلے رہبر معظم۔

رئیسی کا خاندان
ابراہیم رئیسی کی شادی آیت اللہ احمد علم الہدیٰ کی بیٹی سے ہوئی۔ احمد علم الہدیٰ نہایت سخت گیر شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ وہ بھی رہبر معظم کا انتخاب کرنے والی ’ مجلس خبرگان رہبری ‘ کے رکن ہیں ۔ وہ آیت اللہ خامنہ ای کے اس قدر حامی ہیں کہ ان کے مقابل کسی بھی شخص کو برداشت نہیں کرتے، اس لئے80ء کی دہائی میں خامنہ ای کے مقابل صدارتی انتخاب لڑنے والے اکبر ہاشمی رفسنجانی کے بھی شدید ناقد رہے۔ انھوں نے ایک بار رفسنجانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اپنی اصلاح کر لو، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے‘‘۔

ابراہیم رئیسی کی اہلیہ سیدہ جمیلہ علم الھدیٰ ہیں۔ وہ سکالر، مصنفہ اور شہید بہشتی یونیورسٹی کے شعبہ ایجوکیشنل سائنسز اینڈ سائیکالوجی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں ہیں۔ ایک بیٹی نے تہران یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں پی ایچ ڈی کی ہے، دوسری نے فزکس میں بی ایس سی ۔

قوم سے وعدے
ابراہیم رئیسی نے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ امریکی پابندیوں اور کورونا وائرس کے نتیجے میں بے حال ایرانی معیشت کو بحال کریں گے ۔ یاد رہے کہ ا یران میں اس وقت سب سے بڑا چیلنج مہنگائی ہے۔ امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت شدید مشکلات کی شکار تھی کہ کورونا وبا نے بحران کو مزید بڑھا دیا۔ زیادہ تر ایرانی ماہانہ ڈیڑھ سو ڈالر سے بھی کم کماتے ہیں یعنی 25 ہزار روپے پاکستانی۔ دوسری طرف اشیائے ضروریہ بہت مہنگی ہیں۔گزشتہ برس کھانے پینے کی چیزیں چار گنا زیادہ مہنگی ہوئیں۔

رئیسی نے اپنی انتخابی تقاریر میں کہا تھا کہ وہ محنت کرنے والے ایرانیوں کو بہت پسند کرتے ہیں، وہ مقامی کاروبار کو ترقی دے کر امریکی پابندیوں کا مقابلہ کریں گے، مہنگائی ختم کریں گے، ہر سال دس لاکھ ملازمتیں دیں گے، نوجوانوں کو شادی کے بعد پہلی بار گھر خریدنے کے لئے آسان قرضے فراہم کریں گے، بدعنوانی سے لڑیں گے اور معیشت کو صاف و شفاف بنائیںگے۔ واضح رہے کہ قدامت پسند حلقوں کا بیانیہ رہا ہے کہ روحانی حکومت کی بدانتظامی نے ملک کو مشکلات سے دوچار کیا۔ اگر بدانتظامی ختم ہوجائے تو معیشت ٹھیک ہو جائے گی۔ رئیسی نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایسی مضبوط حکومت تشکیل دیں گے جو ملک کو درست سمت میں لے کر جائے گی۔

جوہری معاہدہ کی بحالی کے لئے مذاکرات
جب صدر حسن روحانی امریکا کے ساتھ جوہری معاہدہ کر رہے تھے، ابراہیم رئیسی شدید ناقد تھے تاہم انتخابی مہم کے دوران میں انھوں نے کہا کہ صدر منتخب ہوکر وہ اس معاہدے کی حمایت کریں گے۔ پھر صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد نیوز کانفرنس میںکہا ہے کہ وہ امریکہ کے صدر جوبائیڈن سے ملاقات کریں گے نہ ہی ایران کے میزائل پروگرام اور خطے کے عسکری گروہوں کی حمایت کے معاملے پر کوئی مذاکرات ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن کو ایران پر عائد پابندیاں ختم کر کے اپنی سنجیدگی ثابت کرنا ہو گی۔

’’ امریکہ کو مشورہ دوں گا کہ وہ جوہری معاہدے کی طرف واپس آ جائے کیوں کہ یہ ایرانی قوم کا مطالبہ ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ امریکا ایران پر عائد پابندیاں ختم بھی کردے، تب بھی وہ بائیڈن سے ملاقات نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین ویانا میں جوہری معاہدہ بحال کرنے کے لئے مذاکرات کے چھ ادوار ہو چکے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو امریکی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ابراہیم رئیسی کس فرد کو مذاکرات کار بناتے ہیں، اس سے ان کی ترجیحات کا اندازہ ہوگا۔ ممکن ہے کہ وہ سعید جلیلی کو بھیجیں جو محمود احمدی نژاد دور میں مذاکرات کار رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ابراہیم رئیسی کی صورت میں محمود احمدی نژاد واپس آگئے ہیں جن کے دور میں ایران امریکا تعلقات میں نسبتاً کشیدگی دیکھنے کو ملتی تھی۔

امریکہ دنیا کی دیگر پانچ عالمی قوتوں کے ساتھ 2015 میں ہونے والے معاہدے میں از سرِ نو شمولیت کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ سابق امریکی صدر اوباما کے دور میں ہوا تھا لیکن ان کے بعد صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو ایران کا جوہری پرگرام روکنے کے لیے ناکافی قرار دیا اور اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر دوبارہ وہی پابندیاں عائد کر دیں جو اس معاہدے کے نتیجے میں ختم کی گئی تھیں۔ اوباما دورِ میں جب ایران کے ساتھ یہ معاہدہ ہوا تو موجودہ صدر بائیڈن اس وقت نائب صدر تھے۔ بائیڈن اپنے پیش رو ٹرمپ کی معاہدے سے علیحدگی کے بعد دوبارہ ایران کے ساتھ اس معاہدے کا حصہ بننے کے لیے مشروط آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔

سعودی عرب سے تعلقات
ابراہیم رئیسی کا کہنا ہے کہ پڑوسی ممالک سے تعلقات کی بحالی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے لیے ایک دوسرے کے ممالک میں سفارت خانے کھولنا ممکن ہے۔ سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک سے بات چیت کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب نے ابراہیم رئیسی کو مبارک باد دینے کے بجائے محض یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ وہ رئیسی کی کارکردگی کو حقائق کی بنیاد پر پرکھیں گے۔

یاد رہے کہ امسال اپریل میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش ظاہر کی تھی اور ماضی کے مقابلے میں قدرے مفاہمانہ لہجہ اپنایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بات چیت بھی شروع ہوئی تھی۔ یہ تبدیلی ویانا مذاکرات کے آغاز کے بعد دیکھنے میں آئی تھی۔

رئیسی کی کامیابی پر عالمی ردعمل؟
ابراہیم رئیسی کے صدر منتخب ہونے کے بعد روس، چین، ترکی، شام، عراق، پاکستان، کویت، یمن ، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک نے مبارک باد کے پیغامات جاری کیے ہیں اور ایران کی نو منتخب حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ تاہم اسرائیل نے رئیسی کے صدر منتخب ہونے کی مذمت کی اور عالمی برادری کو خبردار کیا کہ وہ ایران کے ساتھ کوئی جوہری معاہدہ نہ کرے ۔ جبکہ امریکہ نے جوہری معاہدے کی بابت بات کی۔

امریکہ کے مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلیوان نے کہا تھا کہ ایران کو جوہری پروگرام سے روکنے کے لیے بین الاقوامی معاہدے میں امریکہ کی دوبارہ شرکت کا انحصار ایران کے رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے فیصلوں پر ہوگا ۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کون منتخب ہوا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ہزاروں سیاسی مخالفین کو قتل کرنے کا معاملہ
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنس کالامارڈ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایران میں انتخابی نتائج توقع کے مطابق تھے لیکن ابراہیم رئیسی کے خلاف قتل، جبری گمشدگی اور ایذا رسانی کے مقدمات چلانے کے بجائے انہیں صدر بنانا باعثِ تشویش ہے۔

ابراہیم رئیسی پر الزام ہے کہ وہ ایران عراق جنگ کے بعد ایک ایسے ڈیتھ کمیشن کے رکن تھے جس نے ہزاروں سیاسی مخالفین کو پھانسیوں پر لٹکایا ۔ امریکا نے وسیع پیمانے پر قتل عام اور عوامی مظاہروں پر کریک ڈائون کرنے کے الزام میں جن ایرانی شخصیات پر پابندیاں عائد کی ہیں، ان میں ابراہیم رئیسی شامل ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے مشرقِ وسطیٰ مائیکل پیج نے بھی جاری کردہ بیان میں کہا کہ عدلیہ کے سربراہ کے طور پر رئیسی نے ایران کی حالیہ تاریخ میں ہونے والے سنگین جرائم کی نگرانی کی ہے جن پر انہیں صدر منتخب کروانے کے بجائے تحقیقات اور جواب دہی ہونی چاہیے۔

یہ سوال کافی دلچسپ معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں سیاسی مخالفین کو پھانسیوں پر لٹکانے کا الزام عائد کر کے جس شخصیت پر پابندیاں عائد کی گئیں، اس کے ساتھ امریکا اور باقی اہل مغرب کیسے چلیں گے؟ امریکہ ، اسرائیل اور مغرب کو ابراہیم رئیسی کی کامیابی چاہے جتنی بھی ناپسند ہو، انھیں کم ازکم اگلے چار برس ان سے بات کرنا ہی ہوگی۔ نئے صدر کئی حوالوں سے خاصے سخت معلوم ہوتے ہیں، مثلاً انھوں نے بائیڈن کے ساتھ کسی بھی طور پر ملنے سے انکار کر دیا ہے، انھوں نے واضح کردیا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام پر کوئی بات کرنے کی ہمت نہ کرے، اور یہ کہ ان کی حکومت خطے کے عسکری گروہوں کی حمایت جاری رکھے گی۔

وہ امریکا سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ایران پر عائد پابندیاں ختم کر کے جوہری معاہدہ میں شامل ہو ۔ ان کا یہ کہنا کہ امریکا ایران پر پابندیاں ختم کر دے تب بھی امریکی صدر سے ملاقات نہیں ہوگی ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رئیسی جھکنے کے بجائے جھکانے کی سوچ رکھتے ہیں، اس لئے ان سے معاملات کرنا آسان نہیں ہوگا ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔