مثالی بیٹے کا مثالی باپ؛ اظہر علی کے والد 76 سال کی عمر میں بھی فٹ اورمتحرک

محمد یوسف انجم  ہفتہ 3 جولائ 2021
 اظہر علی اپنے والد کو مثالی باپ سمجھتے ہیں، فوٹو: ایکسپریس

اظہر علی اپنے والد کو مثالی باپ سمجھتے ہیں، فوٹو: ایکسپریس

 لاہور: پاکستان میں زیادہ تر بزرگ 60،70سال کی عمرمیں مختلف بیماریوں کے شکار اور چارپائی سے لگ جاتےہیں لیکن ٹیسٹ کرکٹر اظہر علی کے والد محمد رفیق 76 سال کی عمر میں عام نوجوانوں کی طرح فٹ ،صحت مند اور بھرپور زندگی کا لطف اٹھارہے ہیں۔

محمد رفیق نے موسم کی سختیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے فٹ رہنے کے جنون کو معمول بنارکھاہے۔ ماڈل ٹاون گراونڈ میں ہر روز رننگ کے ساتھ دس سے زیادہ چکر لگانے کا سلسلہ مدتوں سےجاری رکھاہوا ہے۔ جس میں اسٹیپنگ، اسٹیرچنگ، رننگ اور دوسری مختلف جمسانی مشقیں ہیں، ہفتے میں ایک دن پانچ گھنٹے مسلسل ٹریننگ بھی ان کے شیڈول میں شامل ہے۔ لاہور میں ان دنوں جب سورج آگ برسا رہا ہوتاہے تو اظہر علی کے والد نے ٹریننگ کا معمول نہیں چھوڑا،سکول میں سپورٹس ٹیچر کی ذمہ داریوں سے فراغت کے بعد اب گراونڈ میں وقت گزارنا ہی ان کی سب سے بڑی مصروفیت ہے۔ وہ رننگ کے بعد مختلف جمسانی مشقوں کو بھی فٹنس کے لیے بہت اہم سمجھتے ہیں۔

سب کے لیے رول ماڈل محمد رفیق نے ایکسپریس نیوز سے بات کرتےہوئے کہا کہ سٹپنگ اور اسٹریچنگ جتنی زیادہ ہوگی، اتنا ہی جسم کھلے گا،اسکا کم سے کم درواینہ پندرہ منٹ اور زیادہ سے زیادہ سے تین سو منٹ ہے، کرکٹ، ہاکی، اتھلیٹکس سمیت تمام کھلاڑی سٹیپنگ اور سٹریچنگ کو زندگی کا حصہ بنالیں تو کبھی ان فٹ نہیں ہوں گے۔ گراونڈ میں لوگ میری ٹریننگ دیکھ کر ڈر جاتےہیں، میں آج تک کوئی ایسا پاکستانی نہیں دیکھا جو میری عمر میں اتنی سخت مشقت کرتا ہو۔محمد رفیق نے اپنی فٹنس کا راز سادہ خوارک کو قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ گھر میں تیار کھانا کھاتاہوں، باہرسے آج تک پانی کی بوتل بھی نہیں خریدی، دہی، انڈے، پراٹھا، کھجوریں اور پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال روٹین ہے۔ ٹریننگ سے پہلے سات کھجوریں اور پانی ہی ہماری طاقت اورمضبوطی ہے،سب کو ان کا استعمال ضرور کرنا چاہیے۔

محمد رفیق کے مطابق ریسٹورٹنس سے جتنا ممکن ہو،کھانے سےپرہیز کرنا چاہیے، باہر سے کھانے کے فائدہ کم اور نقصانات زیادہ ہیں، ان دنوں لوگ زیادہ تعداد میں مختلف بیماریوں کا شکار بھی اسی وجہ سے ہورہےہیں۔ بچوں کو ابتدا سے ہی ورزش کا عادی بنانا چاہیے۔ اس سے بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے، موبائل کے زیادہ استعمال سے بھی روکتی ہے۔ قدبڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔بچے بڑے ہوکر زندگی میں درپیش مشکلات کا ہمت اور مضبوطی سے مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ورزش کی عادت سے قوت معدافت، قوت ارادی میں اضافہ اور مسلز اور ہڈیوں کی کارکردگی بڑھتی ہے۔موٹاپا نہیں ہوتا، بلکہ انسان دبلا پتلا رہتاہے۔

محمد رفیق نے بتایاکہ وہ اپنی زندگی سے مطمن اور اللہ کا شکر ادار کرتے ہیں کہ وہ مکمل صحت زندگی کا لطف اٹھارہےہیں۔ ۔۔اظہر علی پربہت فخر ہے کہ وہ پاکستان کی پہچان بنا ہے، اس کے لیے ہمیشہ دعا گو رہتا ہوں کہ اللہ اس کو مزید عزت دے، اس کے بھائی اشرف میں اظہر سے زیادہ ٹیلنٹ ہے لیکن بدقسمتی سے وہ پاکستان ٹیم کے لیے نہیں کھیل سکا۔ عام بزرگوں کی طرح محمد رفیق کو گلے شکوے کرنے کی عادت ہے نہ کسی سے کوئی شکایت، ان کا موقف ہےکہ ایسی زندگی گزاریں کہ لوگ آپ کےجانے کے بعد بھی اچھے الفاظ میں یاد رکھیں۔

دوسری جانب کرکٹر اظہر علی اپنے والد کو مثالی باپ سمجھتے ہیں، انکا کہنا ہےکہ ہمیں اپنے والد پر بہت فخر ہے،انہوں نے بہت محنت کی، ہمیں بھی ان سے سیکھنے کا موقع ملا، مشکل وقت میں بھی انہوں نے ہمشیہ بہت ہمت بندھائی ہے، اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری رکھا ہواہے، وہ ہمارے لیے بہت بڑی انسپائریشن ہیں۔دعا ہے کہ اللہ ان کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔