اپوزیشن حکومتی ایف آئی آر واپس ہونے کے باوجود احتجاج پر مُصر

رضا الرحمٰن  بدھ 7 جولائ 2021
متحدہ اپوزیشن کو بھی چاہئے کہ وہ دل بڑا کرکے جام حکومت کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے دی گئی درخواست واپس لے لے۔

متحدہ اپوزیشن کو بھی چاہئے کہ وہ دل بڑا کرکے جام حکومت کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے دی گئی درخواست واپس لے لے۔

 کوئٹہ: جام حکومت نے خیر سگالی کے طور پر متحدہ اپوزیشن کے ارکان کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے لی ہے جبکہ متحدہ اپوزیشن نے حکومت کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کے لئے دی جانے والی درخواست واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل کھیل اب شروع ہوا ہے۔

متحدہ اپوزیشن کے ارکان اپنے خلاف مقدمہ درج ہونے پر کوئٹہ شہر کے تھانہ بجلی گھر میں گرفتاری دینے کے لئے گزشتہ 14روز سے دھرنا دیئے بیٹھے تھے، اس دوران حکومت کی جانب سے وزراء اور ارکان اسمبلی پر مشتمل وفود بھی مذاکرات کے لئے ان کے پاس آتے رہے جبکہ بلوچستان اسمبلی میں اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے ایف آئی آر واپس لینے کے حوالے سے رولنگ بھی دے رکھی تھی اور 18جون کو بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پیش آنے والے واقعہ کے حوالے سے معاملے کو استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دیا تھا۔

حکومت کی جانب سے 17اپوزیشن کے ارکان اسمبلی سمیت دیگر نامعلوم افراد کے خلاف ہنگامہ آرائی پر مقدمہ درج کیا گیا تھا جبکہ جام حکومت کے خلاف اس حوالے سے مقدمہ درج کرنے کے لئے متحدہ اپوزیشن نے بھی درخواست دے رکھی تھی اور مقدمہ درج نہ ہونے کی وجہ سے عدالت سے رجوع کر لیا تھا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گزشتہ دو ہفتوں سے بیان بازی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی کو ختم کرنے کے لئے بعض سیاسی شخصیات بھی متحرک رہیں بالآخر جام حکومت نے خیر سگالی کے طور پر متحدہ اپوزیشن کے ارکان اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر واپس لے لی جس کے بعد متحدہ اپوزیشن نے تھانے میں جاری اپنا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جام حکومت کے خلاف ہر فورم پر احتجاج کرنے اور حکومت کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے دی گئی درخواست واپس لینے سے انکار کردیا۔

متحدہ اپوزیشن نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے ریکوزٹ اجلاس میں وہ بجٹ کے حوالے سے اپنے تمام تحفظات کو پیش کریں گے اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم پر بھر پور احتجاج کیا جائیگا اور ہماری اس جدوجہد میں تمام سیاسی جماعتیں شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق جام حکومت نے جس خیر سگالی کامظاہرہ کرتے ہوئے ایف آئی آر واپس لی ہے۔

متحدہ اپوزیشن کو بھی چاہئے کہ وہ دل بڑا کرکے جام حکومت کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے دی گئی درخواست واپس لے لے اور اپنی آئینی جنگ اسمبلی فلور پر لڑے جوکہ ایک جمہوری اور آئینی فورم ہے اسکے علاوہ اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے حوالے سے معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد ہے دونوں فریقین استحقاق کمیٹی پر فیصلہ چھوڑ دیں اور استحقاق کمیٹی کے فیصلے کو قبول کریں۔

وزیراعلیٰ جام کمال اور ان کی اتحادی جماعت تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند کے مابین مفاہمت کے لئے بھی بعض سیاسی شخصیات متحرک ہوگئی ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ انہوں نے جام کابینہ سے مستعفی ہونے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ واپس لے لیں، اس سلسلے میں اب تک گورنر بلوچستان کو ارسال کیا گیا۔

ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر اعلیٰ جام کمال اس وقت مضبوط وکٹ پر ہیں اور انہیں اپنی جماعت اور اتحادیوں کا مکمل اعتماد حاصل ہے سردار یار محمد رند سے مفاہمت کے بعد ان کی حکومت مزید مضبوط ہو جائے گی جبکہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے تھانے میں دیئے گئے دھرنے کے دوران ممتا ز سیاسی و مذہبی شخصیت مولانا محمد خان شیرانی کی ثالثی کے کردار و سیاسی نصیحت اور اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت بی این پی میں آپس کے اختلافات کے بعد گمان کیا جا رہا ہے کہ متحدہ اپوزیشن اس طرح سے جام حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں کامیاب نہیں ہوگی جس کا وہ دعویٰ کر رہی ہے۔

ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے بلوچستان کو فوکس کرتے ہوئے اپنی اپنی جماعتوں کو یہاں فعال اور منظم بنانے کے لئے سیاسی و قبائلی بااثر شخصیات سے رابطے تیز کردیئے ہیں صوبے کے سیاسی حلقوں میں ان دونوں جماعتوں کے رابطوں اور بعض سیاسی و قبائلی شخصیات کی شمولیت کے حوالے سے چہ میگوئیاں عروج پر ہیں۔سیاسی حلقوں میں صوبے کی بعض اہم سیاسی و قبائلی شخصیات کے باقاعدہ ناموں سے یہ چہ میگوئیاں گردش کررہی ہیں کہ وہ پی پی پی اور ن لیگ کی قیادت سے رابطے میں ہیں جبکہ بعض سیاسی و قبائلی شخصیات نے اپنے حوالے سے تردید بھی کی۔

سیاسی حلقوں میں جہاں پی پی پی میں سابق وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری، سابق وفاقی وزیر (ریٹائرڈ) جنرل عبدالقادر بلوچ نے اصولی طور پر شمولیت کی ہے وہاں یہ بات بھی گردش کررہی ہے کہ سابق صوبائی وزیر موجودہ ایم پی اے سردار صالح بھوتانی جن کا تعلق بی اے پی سے ہے پی پی پی میں شامل ہو رہے ہیں اسی طرح سابق صوبائی وزیر نوابزادہ گزین مری سابق صوبائی وزیر نواب محمد خان شاہوانی، سابق صوبائی وزیر سخی امان اللہ نوتیزئی، سابق رکن قومی اسمبلی سردار کمال خان بنگلزئی، موجودہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو، سابق وزیراعلیٰ میر جان محمد جمالی اور سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی کے حوالے سے یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

اس حوالے سے سابق رکن قومی اسمبلی سردار کمال خان بنگلزئی نے واضح طور پر تردید کی ہے کہ وہ پی پی پی میں شمولیت اختیار نہیں کررہے اسی طرح میر عبدالکریم نوشیروانی نے بھی ایک بیان کے ذریعے پی پی پی میں شمولیت کے حوالے سے تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ میر عبدالکریم نوشیروانی کا تعلق بی اے پی سے ہے۔جبکہ سخی امان اللہ نوتیزئی جنہوںنے تقریباً اڑھائی سال پہلے بی اے پی سے اپنی سیاسی وابستگی الگ کر لی تھی، جمعیت علماء اسلام سے رابطے میں ہیں اور مولانا فضل الرحمن سے ملاقات میں شمولیت کا وعدہ بھی کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا سیاسی فیصلہ دوستوں کی مشاورت سے کرچکے ہیں ان کے نام سے جو خبریں پی پی پی میں شمولیت کی چلائی جارہی ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں۔ سیاسی حلقوں کے مطابق سابق وزیراعلیٰ اور بی اے پی کے چیف آرگنائزر میر جان محمدجمالی پارٹی کو نہ صرف صوبے بلکہ ملک گیر سطح پر فعال اور منظم کرنے کے لئے سرگرم ہیں ایسی صورتحال میں وہ کیسے پی پی پی میں جانے کا سوچ سکتے ہیں؟

اسی طرح اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو جوکہ بی اے پی کے بانی ارکان میں سے ہیں اور پی پی پی کے چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری 2018کے انتخابات سے قبل بلوچستان میں سیاسی تبدیلی کے دوران ان کی جانب سے کئے گئے وعدے وفا نہ کرنے پر اپنے تحفظات رکھتے ہیں ایسی صورتحال میں ان کی پی پی پی میں شمولیت کی خبروں میں وزن دکھائی نہیں دیتا۔

سابق صوبائی وزیر نوابزادہ گزین مری اور سابق وزیر و موجودہ ایم پی اے سردار صالح محمد بھوتانی کی جانب سے ان خبروں پر مسلسل خاموشی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ شاید وہ مستقبل میں اپنا کوئی سیاسی حوالے سے فیصلہ کریں اور ان دونوں سیاسی و قبائلی شخصیات کے آصف علی زرداری کے ساتھ اچھے تعلقات اور روابط بھی ہیں جبکہ سابق صوبائی وزیر اور نیشنل پارٹی کے رہنما نواب محمد خان شاہوانی نے بھی پی پی پی میں اپنی شمولیت کے حوالے سے خبروں کی تردید نہیں کی ہے۔

گزشتہ دنوں پی پی پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سابق ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی نے دورہ کوئٹہ کے دوران مختلف سیاسی و قبائلی شخصیات سے ملاقاتیں کیں جن میں سابق صوبائی وزیرو سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی سے ان کی ون ٹو ون ملاقات کو سیاسی حلقوں میں اہمیت دی جارہی ہے۔

دوسری جانب ن لیگ کی مرکزی قیادت نے بھی بلوچستان میں سیاسی و قبائلی شخصیات سے رابطے کئے ہیں خصوصاً سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ ایم پی اے نواب محمد اسلم رئیسانی سے ہونیو الے رابطے کو سیاسی حلقوں میں کافی پذیرائی مل رہی ہے۔ بعض سیاسی حلقوں کے مطابق ن لیگ کے ساتھ بلوچستان میں برسراقتدار جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے بعض سیاسی برج بھی رابطے میں ہیں جو پہلے بھی ن لیگ اور ق لیگ کے پلیٹ فارم سے بلوچستان میں سیاست کر چکے ہیں۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے اندر بھی گروپنگ زور پکڑ رہی ہے اور یہ اطلاعات ہیں کہ آئندہ چند دنوں میں پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے ارکان سمیت سینکڑوں مایوس کارکن پارٹی سے مستعفی ہو رہے ہیں اور ان کی اگلی سیاسی منزل دو بڑی سیاسی جماعتیں پی پی پی اور ن لیگ ہی ہونگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔