ڈیلٹا وائرس کم وقت میں پاکستان کی بڑی آبادی کو شکار کرسکتا ہے، آئی سی سی بی ایس

اسٹاف رپورٹر  منگل 13 جولائ 2021
یہ ویکسین سے پیدا شدہ اینٹی باڈیز کم کردیتا ہے، اس میں ایلفا ویرینٹ کے مدمقابل 60 فیصد زیادہ پھیلاؤ کی طاقت ہے (فوٹو : فائل)

یہ ویکسین سے پیدا شدہ اینٹی باڈیز کم کردیتا ہے، اس میں ایلفا ویرینٹ کے مدمقابل 60 فیصد زیادہ پھیلاؤ کی طاقت ہے (فوٹو : فائل)

 کراچی: آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ ڈاکٹر اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ ڈیلٹا وائرس مختصر وقت میں پاکستان کی بڑی آبادی کو شکار کرسکتا ہے اس ویرینٹ نے بھارت میں بہت تباہی مچائی تھی اس لیے ہمیں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔

یہ بات انہوں نے منگل کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر میں اجلاس کی صدارت کے دوران کہی۔ بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی سی) کے سربراہ پروفیسر اقبال چوہدری نے کہا کہ بھارت میں تباہی پھیلانے والے ڈیلٹا ویرینٹ کی سندھ میں موجودگی تحقیق سے ثابت ہوچکی ہے ہمیں ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر اقبال چوہدری نے کہا کہ رواں سال 25 جون سے 9 جولائی کے دوران نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی میں کورونا وائرس کے 229 نمونے منتخب کیے گئے جن کا بعد میں جینوٹائپ ہوا، یہ نمونے کُل مثبت نمونوں کا 24 فیصد تھے، ان جینوٹائپ کیے گئے نمونوں میں سے 15 فیصد نمونے ڈیلٹا ویرینٹ پائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کا یہ ڈیلٹا ویرینٹ کراچی کے مختلف علاقوں میں سامنے آیا ہے، ضلع شرقی میں 12 اور ضلع وسطی 23 نمونے بطور ڈیلٹا ویرینٹ پائے گئے۔

پروفیسر اقبال چوہدری نے خبردار کیا کہ شہر میں ضروری احتیاطی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ متعلقہ ویرینٹ نے بھارت میں دوسری لہر کے دوران بہت زیادہ تباہی مچائی تھی، اس وقت دنیا بھر میں اس کے پھیلنے کا اندیشہ ہے، عالمی ادارہ صحت نے ڈیلٹا ویرینٹ کو باعثِ تشویش قرار دیتے ہوئے اسے کورونا وائرس کے ایلفا ویرینٹ کے مقابلے میں مرض پھیلانے کے عنوان سے 60 فیصد زیادہ وبائی قرار دیا ہے۔

یہ پڑھیں : کراچی میں کورونا کی بھارتی قسم کے کیسز میں اضافہ

انہوں نے کہا ڈیلٹا ویرینٹ اسپائیک پروٹین میں دو میوٹیشن (L452R) (E484Q) رکھتا ہے جو اس کی خصوصیت کا سبب ہیں، اس کی نمایاں خصوصیات میں مرض کا تیزی سے پھیلنا، مرض کی شدت، گزشتہ انفیکشن یا ویکسین سے پیدا شدہ اینٹی باڈیز کا خاتمہ جبکہ علاج اور ویکسین کی تاثیر کو کم کرنا شامل ہیں۔

واضح رہے کہ متعلقہ ویرینٹ اکتوبر2020ء میں بھارت میں تشخیص ہوا تھا، اگر احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا گیا تو متعلقہ وائرس بہت طاقتور ہے جو بہت مختصر وقت میں پاکستان کی بڑی آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔