حکومت کا ناراض بلوچ رہنمائوں کو مذاکرات کا عندیہ، خوش آئند

رضا الرحمٰن  بدھ 14 جولائ 2021
پاکستان ان کا ملک ہے اور بلوچستان پاکستان کی بنیادی ضرورت ہے۔

پاکستان ان کا ملک ہے اور بلوچستان پاکستان کی بنیادی ضرورت ہے۔

 کوئٹہ:  خطے میں تبدیل ہوتی صورتحال کے اثرات جہاں پاکستان خصوصاً بلوچستان پر مرتب ہونگے وہاں افغانستان میں بھارت کی کشتی ڈوبتی نظر آرہی ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں سے افغان سرزمین کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اب امریکہ کے انخلاء کے بعد صورتحال مزید سنگین ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ بھارت اس سے قبل افغان سرزمین کو پاکستان خصوصاً بلوچستان کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے پاکستان نے اس مداخلت کے ٹھوس ثبوت بین الاقوامی سطح پر پیش بھی کئے ہیں، بلوچستان میں بغاوت کی تحریکوں کو نہ صرف بھارت نے ہوا دی بلکہ پیسے کا بھی بے دریغ استعمال کیا۔

اب جبکہ خطے میں تبدیلی رونما ہو رہی ہے ایسے میں حکومت نے بھی ایک بار پھر ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات کا عندیہ دیا ہے۔ گزشتہ دنوں بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں وزیراعظم عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ ماضی کی وفاقی حکومتوں نے  بلوچستان سے انصاف نہیں کیا اور بلوچستان کے سیاستدانوں نے بھی صوبے کے ساتھ زیادتیاں کیں،ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جو پیسہ آیا وہ ٹھیک طریقہ سے استعمال نہیں ہوا اسی لئے بلوچستان باقی صوبوں سے پیچھے رہ گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لوگوں کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ان کا ملک ہے اور بلوچستان پاکستان کی بنیادی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کی مشکلات کے بارے میں ہمیشہ سوچتا ہوں اگر ماضی میں بھی ایسی فکر ہوتی تو شاید بلوچستان میں کوئی شورش  پیدا نہ ہوتی، انہوں نے کہا کہ وہ بلوچ عسکریت پسندوں سے بات چیت کرنے کا سوچ رہے ہیں ان کی رنجشوں کو دور کیا جا سکتا ہے ان رنجشوں کو ہوا دینے میں بھارت کا بڑا کردار رہا ہے لیکن اب وہ حالات نہیں رہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے معاشی حالات بہتر نہیں لیکن اس کے باوجود موجودہ حکومت نے بلوچستان کو سب سے بڑا پیکج دیا۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اس حوالے سے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی نوابزادہ شازین بگٹی کو ناراض لوگوں سے مذاکرات کا اختیار دیے دیا گیا ہے، نوابزادہ شازین بگٹی شہید نواب اکبر بگٹی کے پوتے ہیں، قومی سیاست میں نواب اکبر بگٹی شہید ایک منفرد و نمایاں مقام رکھتے تھے نواب بگٹی کی شہادت کے بعد ان کی فیملی میں بھی کئی ایشوز سامنے آئے، بگٹی خاندان میں سیاسی و قبائلی جانشینی کا معاملہ بھی درپیش رہا،تاہم اب موجودہ حالات میں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے  نوابزادہ شازین بگٹی کی نامزدگی کے  حوالے سے بلوچستان کے سیاسی حلقوں میں ان دنوں کافی بحث و مباحثہ جاری ہے، صوبے کے بیشتر بلوچ قوم پرست رہنماؤں کی جانب سے وفاقی حکومت کے ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذکرات کی خواہش کو ماضی کی حکومتوں کے روایتی بیان سے ہی تشبیہہ دی جا رہی ہے۔

بلوچستان میں ناراض لوگوں کو قومی دھارے میں لانے اور ان سے مذاکرات کرنے کے بیان پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے حکومت میں آنے کے بعد پہلی بار بلوچستان کے ناراض لوگوں سے مذاکرات کی بات کی ہے، اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان  بلوچستان اور فاٹا کے مسائل کو  مذاکرات سے حل کرنے کی باتیں کیا کرتے تھے مگر موجودہ دور حکومت میں بلوچستان میں ناراض رہنماؤں اور پہاڑوں میں رہ کر مزاحمت کرنے والوں سے مذاکرات کی کوئی سنجیدہ  کوششیں نہیں ہوئیں، سیاسی مبصرین کے مطابق شاید موجودہ حکومت کو افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اندیشہ ہے کہ بلوچستان میں بھی بے چینی اور شورش کو پھر سے ہوا دینے کی کوشیش ہو سکتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ماضی کے حکمرانوں کی جانب  سے بھی ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی باتیں کی گئیں لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔

اب بھی موجودہ حکمرانوں کی جانب سے اگر سنجیدگی اور بامعنی مذاکرات کے لئے ماحول کو سازگار نہ کیا گیا تو کامیابی کے امکانات کم ہونگے، مبصرین کے مطابق ماضی کے جتنے بھی حکمران گزرے ہیں انہوں نے پچھلی حکومتوں کی بلوچستان سے زیادتیوں کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ کچھ حکمرانوں نے تو معافیاں تک مانگیں، لیکن عملاً وہ بھی مسائل کو حل نہ کر سکے، سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اصل میں ہمارے حکمرانوں کی ہمیشہ سے یہ سوچ رہی ہے کہ بلوچستان کو فنڈزدو،چند ایک نوکریاں اور کچھ خاندانوں کو نواز دو تو شاید بلوچستان کا مسئلہ حل ہو جائے گا درحقیقت ایسا ہرگز نہیں ہے، ناراض بلوچ کا مسئلہ ترقی یا چند سڑکیں نہیں بلکہ بلوچ قوم کی شناخت اور تشخص کا ہے جس کے لئے وہ لڑ رہا ہے۔

ان ناانصافیوں پسماندگی، محرومیوں اور ہمارے حکمرانوں کی ناراض بلوچوں کے بارے میں منفی سوچ کا فائدہ دشمن طاقتوں نے خوب اٹھایا، سیاسی مبصرین کے مطابق اگر موجودہ حکومت نے سنجیدگی سے اس جانب توجہ دی تو بلوچستان کے ایسے ناراض لوگوں کو واپس لایا جا سکتا ہے جو اپنے تشخص ملک میں اپنی شناخت اور ساحل وسائل پر صوبے کے عوام کے حق کی بات کرتے ہیں، وزیراعلی جام کمال بھی انہی نظریات کے حامی ہیں۔

وزیراعلی جام کمال نے یہ اعتراف کیا کہ ماضی کے حکمران بلوچستان میں شخصیات کی خواہشات پر صوبے کے مخصوص لوگوں کو ترقی دینے کی بجائے اجتماعی طور پر عوام کا سوچتے تو بلوچستان کے حالات آج قدرے بہتر ہوتے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف دشمنوں کے آلہ کار بنے کچھ لوگوں کی سوچ کو کبھی نہیں بدلا جا سکتا، وہ چند ٹکوں  کے عوض اپنا کام انجام دیتے رہیں گے لیکن ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں ان لوگوں کو واپس لانا ہے جو قومی دھارے میں رہ کر اپنے تحفظات کا ازالہ چاہتے ہیں۔

حکومت ان کی بات سننے اور ان کے تحفظات دور کرنے کے لئے تیار ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق وقت اور حالات دونوں فریقین کے لئے موزوں ہیں،شرط یہی ہے کہ اعتماد کی فضا کو سب سے پہلے بحال کیا جائے اور تلخ باتوں کو برداشت کرتے ہوئے آگے کی جانب بڑھا جائے، اور ساتھ ہی ساتھ مذاکرات کے اس عمل کو موثر بنانے کے لئے صوبے کی مزید قبائلی و سیاسی بااثر شخصیات کو بھی اعتماد میں لیا جائے اور انہیں اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کرنے کیلئے اختیارات بھی دیئے جائیں تو یقیناً ان مذاکرات میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی حکومت نے بلوچستان میں اپنے ایک کارکن ظہور آغا کو گورنر کے عہدے پر فائز کردیا ہے جنہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے تاہم ان کی گورنر کے عہدے پر نامزدگی کے بعد بلوچستان میں تحریک انصاف ایک مرتبہ پھر گروپس میں تقسیم ہوگئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق گورنر ہائوس میں پی ٹی آئی کے گورنر کی آمد سے بلوچستان میں ان کی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے درمیان مستقبل میں تعلقات کیا رخ اختیار کرتے ہیں؟ اس حوالے سے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے تاہم حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی فی الحال اگست میں انٹرا پارٹی الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔