سانپ کی زہریلی گوند، زخم سے خون روک کر انسانی جان بچاسکتی ہے

ویب ڈیسک  جمعـء 16 جولائ 2021
تصویر میں دنیا کا خطرناک ترین لینس ہیڈ سانپ نمایاں ہے جس کے زہر سے خون روکنے والی گوند تیار کی گئی ہے۔ فوٹو: وکی میڈیا کامنز

تصویر میں دنیا کا خطرناک ترین لینس ہیڈ سانپ نمایاں ہے جس کے زہر سے خون روکنے والی گوند تیار کی گئی ہے۔ فوٹو: وکی میڈیا کامنز

اونٹاریو: سانپ اکثر افراد کے لیے ایک ناپسندیدہ جانور ہوتا ہے لیکن اسی سانپ کے زہر سے انسانی جان بچانے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ اسے کوئی دوا نہ سمجھیں بلکہ سانپ کے زہر سے ایسی گوند بنائی جاسکتی ہے جو سیکنڈوں میں خون کا بہاؤ روک کر انسان کی جان بچاسکتی ہے۔

کینیڈا کی ویسٹرن یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر کائبریٹ میکونِنٹ نے بین الاقوامی تعاون سے سانپ کے زہر میں ایک جزو تلاش کیا ہے جسے’سپرگلو‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اسے کٹے پھٹے زخموں پر رکھ کر جب روشنی ڈالی جائے تو یہ سیکنڈوں میں خون کا رساؤ روک سکتا ہے۔

ڈاکٹر کائبریٹ گزشتہ 20 برس میں حیاتیاتی اجزا سے کئی طبی آلات اور معالجاتی ٹیکنالوجی وضع کرچکے ہیں جو اب تجارتی پیمانے پر بھی استعمال ہورہی ہیں یا پھر تجربہ گاہوں میں آزمائشی دور سے گزررہی ہیں۔

اب انہوں نے سانپوں کے زہر میں ایک خامرہ (اینزائم) دریافت کیا ہے جسے ریپٹائلیز یا بیٹروکسوبِن بھی کہا جاتا ہے جو لینس ہیڈ نامی سانپ کے زہر میں پایا جاتا ہے۔ یہ جنوبی امریکہ کے زہریلے ترین سانپوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس کا زہر فوری طور پر خون کو جمادیتا ہے جس کی بنا پر ایک خاص گوندھ ڈیزائن کی گئی ہے جس میں یہ خامرہ ملاکر اسے جیلاٹِن کی صورت دی گئی ہے۔ اس طرح زہریلے گوندھ کو ٹوتھ پیسٹ کی طرح ٹیوب میں بھر کر رکھا جاسکتا ہے۔

اب حادثات اور ہنگامی حالت میں گہرے زخموں پر اس ٹیوب سےگوند نکال کر جب اس پر روشنی ( یا عام لیزر) ڈالی جائے تو چند سیکنڈ میں یہ جم جاتا ہے اور خون کا راستہ بند ہوجاتا ہے۔ لیزر دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اسمارٹ فون کی روشنی بھی یہی کام کرسکتی ہے۔

اس وقت آپریشن تھیئٹر میں استعمال ہونے والی فائبرِن گوند کے مقابلے میں یہ دس گنا زائد طاقتور ہے اورخون کے فوارے سے بھی ہلتی جلتی نہیں ہے۔ صرف 45 سیکنڈ میں گوند جم کر زخم کو بند کردیتی ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ حادثات اور گہرے زخموں سے خون کا غیرمعمولی بہاؤ ہی انسانوں میں موت کی وجہ بنتا ہے۔ اس طرح زہریلی گوند قیمتی جانوں کو بچانے میں معاون ثابت ہوگی۔

یہ تحقیق جرنل سائنس ایڈوانسس میں شائع ہوئی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔