سمادھی رام جی

ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بخاری  اتوار 25 جولائ 2021
جین مت کا متبرک مقام

جین مت کا متبرک مقام

گوجرانوالہ شہر میں جی ٹی روڈ کے کنارے اور شیرانوالہ باغ سے ذرا پہلے تھانہ سبزی منڈی کی ایک پرانی عمارت واقع ہے جو باہر سے دیکھنے میں تو بالکل سادہ ہے لیکن مرکزی دروازے سے اندر جاتے ہی یہ آپ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔

یہی شری آتما رام جی کی سمادھی ہے جو جین مذہب کے اچاریہ کے طور پہ جانے جاتے ہیں۔

جین مت کا شمار دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں کیا جاتا ہے۔ اس کی بنیاد کب، کس نے، اور کہاں پر رکھی اس بارے میں ماہرین کوئی مُستند رائے دینے سے قاصر ہیں۔ یہ ایک غیرتوحیدی مذہب ہے جس کی بنیاد عدم تشدد پر ہے۔ جین مت کے ماننے والے یہ یقین رکھتے ہیں کہ عدم تشدد اور ضبطِ نفس کے ذریعے نجات (موکش) حاصل کی جا سکتی ہے۔ روایتی طور پر جین مت کے پیروکار اپنے مذہب کی ابتدا ان چوبیس ”تیرتھنکروں” (روحانی استادوں) کے سلسلے کو قرار دیتے ہیں جن میں پہلے تیرتھنکر رشبھ دیو اور آخری مہاویر ہیں۔ اس مذہب کے دو بڑے فرقے دِگمبر اور شویتامبر ہیں۔

بات کی جائے اِس سمادھی کی تو جین مت کے ماننے والوں کے مطابق یہاں مشہور جین راہب یا پروہت، اچاریہ وجئیآنند سوری یا آتما رام جی کی استھیاں (راکھ) دفن ہیں۔ وجئے آنند موجودہ دور کے وہ پہلے جین راہب/پروہت تھے جنہیں اچاریہ کا خطاب دیا گیا۔ یہ خطاب جین مت میں بہت ریاضت کے بعد حاصل کیا جاتا ہے۔

تاریخی حوالہ جات کے مطابق آپ کا جنم ہندوستانی پنجاب کے ضلع فیروزپور کے قصبے لہڑا میں 1837 کو ایک برہمن خاندان میں ہوا۔ آپ کے والد گنیش چندرا، مہاراجا رنجیت سنگھ کے دور میں ایک فوجی عہدے دار تھے۔ ان کا دیہانت آتما رام جی کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا جس کے بعد آپ کی والدہ آپ کو لے کر ہوشیارپور چلی گئیں اور ایک ایسے جین خاندان میں کام کرنا شروع کیا جہاں اس مذہب کے بڑے سادھوؤں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔

یہاں آتما رام جی کی ملاقاتیں جین مت کے اسکالرز اور سادھوؤں سے ہوئیں اور آپ نے ان کی تعلیمات کو سن کر اثر قبول کرنا شروع کیا۔ آپ بچپن سے ہی بہت ذہین تھے، آپ نے ستھانک واسی سادھوؤں سے شاستروں کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ اس کے علاوہ آپ نے فلسفہ اور سنسکرت کی بھی تعلیم حاصل کی۔

نہایت کم عمری میں ہی آپ ستھانک واسی فرقے کے سادھو بن گئے تھے۔ لیکن آپ کا رجحان مورتیوں کی پوجا کی طرف ہو گیا تھا (جو اس فرقے میں رائج نہ تھا) اس لیے ستھانک واسیوں کی مخالفت کی وجہ سے آپ 1875 میں احمد آباد چلے گئے۔

احمدآباد کے جین سادھو نے انہیں کو شویتامبر سادھو کے طور پر چنا اور اس کے بعد اچاریہ جی نے جین مذہب کی تعلیم کو عام کرنے کے لیے ریاست گجرات سے پنجاب تک پیدل سفر کیا جہاں انہوں نے کتب خانے کھولے اور قدیم جین مخطوطات کو محفوظ کیا۔

یہاں سے آْپ گوجرانوالہ چلے گئے جہاں دور دور سے لوگ آپ کی شہرت سن کر آتے اور آپ کے طریقۂ تبلیغ اور شیرینیٔ گفتار سے بہت متاثر ہوتے۔

آپ کی تبلیغ اور جانفشانی سے بڑی تعداد میں لوگ جین مت کی طرف آئے۔ ساتھ ہی آپ نے پنجاب میں مختلف جین مندروں کی مرمت بھی کروائی۔ ہندوستان کے مختلف حصوں خصوصاً پنجاب میں مختلف پاٹھ شالاؤں (درس گاہیں) اور کتب خانوں کی تعمیر کا سہرا آْپ کے سر جاتا ہے۔

جلد ہی وہ مغربی اسکالرز کی نظر میں آئے اور 1893 میں شکاگو میں منعقد ہونے والی عالمی مذہبی کانفرنس میں انہیں بلایا گیا۔ کچھ مذہبی اور ذاتی وجوہات کی بنا پر آپ کی بجائے ممبئی کے ایک نوجوان ویر چند گاندھی نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور اس عالمی فورم پر جین مت کی نمائندگی اس بہترین طریقے سے کی کہ بہت سے لوگوں نے جین مذہب قبول کرلیا۔

آپ نے جین مت پر ایک کتاب لکھی اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد مئی 1896 کو گوجرانوالہ میں آپ کا دیہانت ہوگیا۔ آپ کے پیروکار لالہ میا داس نے آپ کی باقیات کو دفن کرنے کے لیے گوجرانوالہ کے اس مقام پر ایک سمادھی بنائی۔

یہ سمادھی چار چھوٹے اور ایک بڑے گنبد پر مشتمل ہے جو زمین سے کچھ بلند ہے۔ بڑا گنبد مرکزی کمرے کا ہے جس میں ان کو جلا کر راکھ دفن کی گئی تھی۔ لاہور کے عجائب گھر میں رکھے سنگ مرمر کے چبوترے پر آپ کے قدموں کے نشان اسی کمرے سے لائے گئے ہیں۔ دیگر چاروں گنبد اطراف کے راستوں اور دروازوں پر بنائے گئے ہیں۔ عمارت کی بہت سی اشیاء اور سجاوٹی چیزوں کو لاہور میوزیم کی جین گیلری میں رکھا گیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ عمارت کے دائیں طرف ایک مندر بنایا گیا تھا جہاں پانچ مورتیوں کو رکھنے کی جگہ بھی موجود ہے۔ کچھ احباب کا کہنا ہے کہ یہاں جین مت کے تیر تھنکروں کے سنگ مرمر سے بنے قدموں کے نشان موجود تھے جنہیں اب بھی لاہور میوزیم کی جین گیلری میں دیکھا جا سکتا ہے۔

بائیں طرف بنے کمرے اور برآمدہ جین سادھوؤں کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتے تھے جن میں مسافر یاتری بھی شامل تھے۔

اس عمارت میں سرخ و سفید پتھر کا استعمال نہایت خوب صورتی سے کیا گیا تھا اور اس کا کالے سفید پتھر کا فرش تو اب بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس عمارت کے خوب صورت گنبد، اس کی دیواروں پہ کندہ نقش و نگار، اس کے برآمدے آج بھی اس کی دل کشی کے گواہ ہیں۔

خوب صورت طرزتعمیر کی حامل یہ عمارت تقسیم تک جین مذہب کے لوگوں کے پاس رہی پھر 1995 تک یہاں ایک سرکاری اسکول قائم ہوا جسے دوسری جگہ منتقل کرنے کے بعد اسے پولیس تھانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ بہت سے دفاتر و افسران نئی عمارت میں منتقل ہو گئے ہیں لیکن اس کا مرکزی کمرہ اب بھی محکمۂ پولیس کے زیرانتظام ہے جو شاید غنیمت ہے ورنہ قبضہ مافیا اس قیمتی زمین پر کب کی قابض ہو چکی ہوتی۔

سمادھی کے پچھلے حصے میں کچھ ضبط کی ہوئی سواریاں اب بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

سمادھی کا طرز تعمیر سکھ سمادھی سے مشابہت رکھتا ہے جس کا واضح ثبوت اس کے مرکزی درمیانے گنبد اور نچلے ہشت پہلو کی مہان سنگھ سمادھی سے ہوبہو مماثلت ہے جو یہاں سے کچھ ہی دور شیرانوالہ باغ میں واقع ہے۔

انہی مماثلتوں کی وجہ سے کچھ لوگ اسے رنجیت سنگھ کے دادا چڑھت سنگھ کی سمادھی کہتے اور سمجھتے ہیں لیکن اس بات کو کئی مستند حوالوں سے مسترد کیا جا سکتا ہے۔

اول یہ کہ محکمۂ اراضی کی دستاویزات میں یہ جین مندر کے طور پر درج ہے، دوسرا یہاں فرش پر لگی ہوئی مختلف نذرانے کی تختیاں، تیسرا اچاریہ وجے آنند پر شکاگو میں رکھی ہوئی ایک قدیم دستاویز، جس کے سرورق پر اس سمادھی کی تصویر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ان باتوں سے صاف ہے کہ یہ کسی سکھ کی سمادھی قطعی نہیں ہے۔

رہائشی حصے کے برآمدے پر لگی ایک تختی کے مطابق،’’لالہ میا داس و نانک چن قوم بھابڑہ گوت برڑ ساکن گوجرانوالہ مے یہ کوٹھی مہاراج شری آتما رام جی کی سمادھی کے متعلق بنوائی۔ یہی عبارت تختی پر انگریزی، ہندی اور دیوناگری زبان میں بھی درج ہے۔‘‘

ضرورت اس امر کی ہے کہ اب اس عمارت کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک بند کیا جائے۔ ہمارا مذہب بھی ہمیں تمام مذاہب کی عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کی بے حرمتی سے روکتا ہے۔ اور پھر جین کمیونٹی تو بہت بے ضرر ہے جو حشرات تک کو نقصان نہیں پہنچاتی۔

حکومت پاکستان، محکمۂ آثارِقدیمہ اور اوقاف کو چاہیے کہ اس مقدس مقام کو مرمت کر کے دنیا بھر کے سیاحوں اور خصوصاً جین مذہب کے پیروکاروں کے لیے کھول دیں تاکہ زرمبادلہ کے ساتھ ساتھ مملکتِ خداداد کا روشن اور پُرامن چہرہ دنیا کے سامنے آسکے۔

 

ستیہ کی جوت سے دور اس نے ہر اندھکار کیا

پاپ نگری میں اہنسا کا وہ پرچار کیا

 

پریم پرکاش سے بھرپور یہ سنسار کیا

نیند کے ماتوں کو پھر نیند سے ہشیار کیا

 

آتما نند نے پھر قوم کو بیدار کیا

 

لے کے دھرم اور دیا کو جو وہ گنوان بڑھا

اس کا بڑھنا تھا کہ پھر رتبہ انسان بڑھا

 

ظلم کو لاج لگی پریم کا پھر مان بڑھا

کشٹ کو میٹ دیا، کلیش کو بیکار کیا

 

آتما نند نے پھر قوم کو بیدار کیا

(آتما رام جی کے جنم دن کے موقع پر منعقدہ مشاعرے میں وقار انبالوی کا پڑھا گیا کلام )

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔