مسئلہ فلسطین: نئے زاویے اور حقائق کی روشنی میں

ڈاکٹر زمرد اعوان  پير 19 جولائ 2021
سوشل میڈیا نے اسرائیل کے ظلم بے نقاب کرکے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کو بین الاقوامی مہم بنا دیا۔ (فوٹو: فائل)

سوشل میڈیا نے اسرائیل کے ظلم بے نقاب کرکے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کو بین الاقوامی مہم بنا دیا۔ (فوٹو: فائل)

اگرچہ کشمیر کے علاوہ فلسطین کا مسئلہ بھی اب تک سب سے قدیم تنازعہ بن چکا ہے، لیکن ہر روز اس میں کوئی نہ کوئی نیا موڑ اسے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کےلیے مستقل ایک چیلنج بنائے ہوئے ہے۔ پیچیدہ تنازعات کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کے حل کےلیے سنجیدہ کوششیں نہیں کی جاتیں۔

اسرائیلی اور ہندوستانی قیادت کی اس خام خیالی نے کہ درگزر کرنے سے فلسطینیوں اور کشمیریوں کی مزاحمت ختم ہوجائے گی، نے مزید پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں۔ جس کا نتیجہ مسلسل قتل و غارت کی صورت میں نکل رہا ہے۔ یہ بات تو حقیقت ہے کہ جب بنیادی مسائل کو منصفانہ طریقے اور مساوی بنیادوں پر حل نہ کیا جائے تو اس کے خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ہم نے فلسطین کی سرزمین میں یہ ہوتے دیکھا ہے۔ اگرچہ یہ ایک پرانا تنازعہ ہے لیکن مستقل ظلم و زیادتی نے، مزاحمت کی نئی اقسام کو جنم دیا جو اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آئیں۔

یورپ میں صہیونی تحریک کے بانیوں کا کہنا تھا کہ ہمیں اس خطے پر، جو ہزاروں سال پہلے حضرت موسیٰ کی سرزمین تھی، اسرائیل کے نام سے ایک ملک قائم کرنا چاہیے۔ یہ جواز پیش کرتے وقت وہ اس بات کو مکمل نظر انداز کرجاتے ہیں کہ حضرت موسیٰؑ کے دس اہم احکامات میں سے ایک یہ تھا کہ کسی کو قتل نہیں کیا جائے گا اور دوسرا یہ کہ کسی کی جائیداد پر قبضہ (چوری) نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ اسرائیلی حکمران نے ان دو اصولوں کی نفی کرتے ہوئے، اپنا مذہبی موقف کھو دیا ہے، جو ان کی ریاست کی بنیاد تھی۔ اس کی نمایاں مثال حال ہی میں ہونے والے واقعات ہیں۔

27 رمضان کی شب، اسرائیلی فوجوں نے مسجد اقصیٰ کے باہر نماز پڑھتے نہتے فلسطینیوں پر حملہ کیا۔ اس جارحیت میں آگے چل کر مزید اضافہ ہوا، جس سے 220 فلسطینی، جن میں تقریباً 63 بچے بھی شامل تھے، شہید ہوئے۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ اسرائیلی فوج کی یہ ظالمانہ حرکت 6 فلسطینی خاندانوں کو اپنے آبائی علاقے شیخ جرح (جو مشرقی یروشلم میں واقع ایک علاقہ ہے) سے بے دخل کرنے کی غرض سے کی گئی۔ اگرچہ اسرائیل کا فلسطین پر غیر قانونی آبادکاری (زمین کی چوری) کا سلسلہ 1948 سے جاری ہے، جبکہ گزشتہ 13 سال میں حالیہ جارحیت اسرائیل کی طرف سے چوتھی بڑی زیادتی ہے۔

دوسری جنگ عظیم سے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کی اس یورپی اور امریکی سازش کی وجہ سے فلسطینیوں کو اپنی جان و مال کے علاوہ، آبائی زمینوں سے بھی غیر قانونی طور پر بے دخل کردیا گیا ہے۔ 2008 سے 2021 کے درمیان اس تنازعے میں اب تک 5734 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں 22 فیصد بچے اور 10 فیصد خواتین شامل ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں محض 251 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ فلسطین کی سرزمین پر 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیلی غیر قانونی آباد کاری میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اگرچہ 1995 میں اوسلو ایکاڈ کے تحت دو ریاستی فارمولہ طے پایا تھا، لیکن اسرائیل نے نہ صرف اس منصوبے کی جدید اسلحے کے زور پر دھجیاں اڑائیں، بلکہ فلسطینیوں کو مزید چھوٹے چھوٹے علاقوں تک محدود کرکے، بنیادی سہولیات جن میں تعلیم، صحت اور ذریعہ معاش کے مواقع شامل ہیں، سے بھی محروم کر دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ پورے فلسطینی علاقے میں جگہ جگہ آمدورفت میں لاتعداد رکاوٹیں بھی کھڑی کر رکھی ہیں۔ 2002 سے اسرائیل ایک دیوار بھی تعمیر کر رہا ہے جو 700 کلومیٹر سے زیادہ لمبی اور 8 میٹر اونچی ہے، جو گرین لائن کے نام سے مشہور ہے اور 1967 کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حدود کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اس دیوار کا 85 فیصد مغربی کنارے میں آتا ہے۔ صرف مغربی کنارے کی ہی اگر مثال لی جائے تو اس میں 700 رکاوٹیں اور 140 چیک پوائنٹس موجود ہیں، جنہوں نے فلسطینی علاقوں کو نہ صرف ایک دوسرے سے منقطع کیے ہوا ہے، بلکہ مجموعی طور پر ان کا انفرادی حجم بھی مختصر کر رکھا ہے۔

جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف درندگی کی ایک طویل تاریخ ہے، لیکن اس کی حالیہ درندگی کو سوشل میڈیا نے جس طرح اب کی بار بے نقاب کیا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسی کی وجہ سے نہتے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی بین الاقوامی مہم بن چکی ہے۔ نا صرف پاکستان، ترکی، ایران، انڈونیشیا اور ملائشیا، یعنی غیر عرب مسلم ممالک نے اسرائیلی جارحیت کی کھل کر مذمت کی بلکہ امریکی کانگریس میں بھی پہلی بار کئی اہم سیاسی شخصیات نے فلسطینی عوام بالخصوص بچوں کے اسرائیلی فوجوں کے ہاتھوں قتل عام کی مذمت کی ہے۔ جس کی ایک مثال امریکی سینیٹر اور دو بار صدارتی عہدے کے امیدوار، برنی سینڈرز کی 20 مئی کو امریکی سینیٹ میں اسرائیل کو 735 ملین ڈالر کے اسلحہ کی فروخت روکنے کےلیے ایک قرارداد پیش کرنا ہے۔

اگرچہ اسرائیل نے بین الاقوامی دباؤ میں آکر جنگ بندی کا اعلان تو کردیا ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس مسئلہ کو کیسے پرامن طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے۔ شورش کی حالیہ لہر ہمیں کم از کم تین جہتیں فراہم کرتی ہے۔
(1) ایک لمبی تاخیر کے بعد، مغربی کنارے کے فلسطینیوں نے غزہ کی پٹی پر رہایش پذیر ساتھیوں کے ساتھ مل کر احتجاج کیا ہے۔
(2) فلسطینیوں نے ایک سخت پیغام دیا کہ القدس سرخ لکیر ہے اور صہیونی قابض فوج کو کسی بھی صورت میں اسے عبور نہیں کرنے دیا جائے گا۔
(3) غیر مسلح فلسطینیوں نے مظاہرہ کیا ہے کہ انتہائی جدید ترین امریکی فراہم کردہ جنگی اسلحے کا مقابلہ کریں گے۔
(4) فلسطینیوں کی حمایت سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی۔ مغربی ذرائع ابلاغ، جو متعصبانہ خبریں لگا کر اب تک اسرائیل کے ہر ستم کی پردہ پوشی کرتا رہا ہے، اس بار بری طرح بے نقاب ہوا۔

آخر میں یہ کہنا ناگزیر ہے کہ فلسطینیوں نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کہ وہ نو آبادیادتی طاقتوں کو شکست نہیں دے دیتے۔ یہی سبق ماضی میں، الجیریا اور جنوبی افریقہ کی جنگ آزادی کی تحریکیں میں بھی ہمیں ملتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔