کورونا وائرس کی نئی اقسام کا انتخاب کون کرتا ہے؟ (آخری حصہ)

ڈاکٹر ابراہیم رشید شیرکوٹی  جمعرات 29 جولائ 2021
کورونا کی نت نئی اقسام کے وجود میں آنے کا واحد سبب حیاتیاتی ارتقا ہے۔ (فوٹو: فائل)

کورونا کی نت نئی اقسام کے وجود میں آنے کا واحد سبب حیاتیاتی ارتقا ہے۔ (فوٹو: فائل)

بات وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے ٹوٹی تھی۔ اگر یہ میوٹیشنز صرف تکا بازی کی بنیاد پر وقوع پذیر ہوتی ہیں تو پھر خطرناک اقسام ہی کیوں ’سلیکٹ‘ ہوتی ہیں یا زیادہ پھیلتی ہیں؟

اس سوال کا جواب جاننے کےلیے ہمیں وائرس اور اس کے میزبان (یعنی ہمارے) درمیان جاری انٹرایکشن کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کورونا سمیت کسی بھی وائرس کو اپنے میزبان کے مدافعتی نظام سے بچ بچا کر اس کے خلیات میں داخل ہونا ہوتا ہے۔ ایک بار داخل ہوجائے تو پھر وائرس کثیر تعداد میں اپنی اولاد پیدا کرنے کے عمل میں مصروف ہوجاتا ہے، جس کےلیے وہ اپنے میزبان کے خلیے کی مشینری کا کنٹرول سنبھال لیتا ہے۔ اس ’ٹیک اوور‘ کے نتیجے میں خلیہ اپنے روٹین کے افعال کی انجام دہی سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس دوران نئے بننے والے وائرس متاثرہ خلیہ سے نکل کر آس پاس کے صحت مند خلیوں کو نشانہ بنانے لگتے ہیں اور یوں ہم خود کو بیمار محسوس کرنے لگتے ہیں۔

بلاگ کا پہلا حصہ یہاں سے پڑھیے: میوٹیشنز، کورونا وائرس اور ڈارون

بلاگ کا دوسرا حصہ یہاں سے پڑھیے: ہم، کورونا وائرس اور میوٹیشنز کا سدِباب (حصہ دوم)

بلاگ کا تیسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے: میوٹیشنز اور کورونا وائرس کی نئی اقسام (حصہ سوم)

 

اس تمام عمل کو اختصار کے ساتھ تین بنیادی مرحلوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

1. میزبان کے مدافعتی نظام سے خود کو محفوظ رکھنا
2. میزبان کے خلیوں میں کامیابی کے ساتھ داخل ہونا
3. خلیہ کی مشینری پر موثر قابو اور کثیر تعداد میں اپنی افزائشِ نسل

آئیے ان تمام مراحل کا باری باری جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اگر ان میں کوئی میوٹیشن آجائے تو کیا ہوگا؟

1. میزبان کے مدافعتی نظام سے اپنی حفاظت

تصور کیجئے کہ ایک متاثرہ خلیے سے تین عدد نوزائیدہ وائرس باہر نکلے ہیں اور ان کی منزل پڑوس میں موجود صحت مند خلیے ہیں۔ اب یہ ٹہلتے ٹہلتے تو اپنے ٹارگٹ تک تو نہیں جاسکتے ہیں، کیونکہ میزبان کا مدافعتی نظام ان بن بلائے عذابِ جان مہمانوں کی تاک میں سرگرم ہے اور ایک مخبری کی مدد سے وہ جانتا ہے کہ جسم میں داخل ہونے والا ابتدائی وائرس کس شکل و صورت کا تھا۔

ان تین وائرسوں میں سے ایک تو بالکل اپنے جدِ امجد کی شکل کا ہے، یعنی اس کی بیرونی سطح پر موجود پروٹینز میں کوئی میوٹیشن نہیں ہے، جبکہ باقی کے دونوں وائرس اپنے اندر میوٹیشنز رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان دونوں کے بیرونی پروٹینز کی شکل میں تبدیلیاں آچکی ہیں۔ ان میں سے ایک کے پروٹینز ابتدائی وائرس کی نسبت بہت زیادہ پوشیدہ ہیں جبکہ دوسرے کے بہت زیادہ ظاہر۔

یہاں میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہوں گا کہ مدافعتی نظام (جس کے پاس مخبری کی بنیاد پر وائرس کی شکل و صورت کے بارے میں معلومات موجود ہیں) کےلیے ان تینوں وائرسوں میں سے کون سا زیادہ آسان شکار ثابت ہوگا اور کون سا لوہے کا چنا؟

1۔ وہ وائرس جس میں کوئی میوٹیشن نہیں ہے اور وہ اپنے والدین کی ہوبہو کاپی ہے؟
2۔ وہ جو اپنی حفاظت سے بے پرواہ کھلم کھلا اپنے پروٹینز کی نمائش کر رہا ہے؟
3۔ وہ جس نے خود کو پہلے کی نسبت زیادہ پوشیدہ اور چھپا کر رکھا ہوا ہے؟

جی ہاں بالکل سیدھی سی بات ہے کہ پہلے دو وائرسوں کے مقابلے میں تیسرا وائرس مدافعتی نظام سے باآسانی بچ کر آس پاس کے خلیات کو متاثر کرے گا، جبکہ پہلے دونوں کو مدافعتی نظام آرام سے شاخت کرلے گا اور یہ بیچارے ’’اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے‘‘ والی کیفیت سے دوچار ہوجائیں گے۔

2. خلیہ کے اندر داخلہ

ہمارا ننھا منا سا جاسوس نما وائرس مدافعتی نظام سے تو بچ گیا لیکن ابھی اس کا کام ختم نہیں ہوا۔ اس کو ابھی اگلے خلیہ میں خاموشی کے ساتھ داخل ہونے کا مرحلہ عبور کرنا ہے۔ پچھلے مرحلے پر ہم نے بات کی تھی وائرس کی بیرونی سطح پر پائے جانے والے پروٹینز کی، جن کی مدد سے مدافعتی نظام وائرس کی شناخت میں مصروف ہوتا ہے۔ ان پروٹینز کا اصل کام چابی کا ہوتا ہے۔ ایسی چابی جو کہ وائرس کےلیے خلیے کی سطح پر موجود دروازوں میں لگے تالوں کو کھول کر وائرس کو اندر داخل ہونے دے (کورونا وائرس کےلیے چابی کا کام اس کی سطح پر موجود ایس پروٹین کرتا ہے)۔

اب اس مرحلے پر اس نئے وائرس کے تبدیل شدہ پروٹینز خود کو چھپاتے چھپاتے اگر اپنا اصل کام ہی بھول گئے ہوں تو پھر ظاہر سی بات ہے کہ وائرس خلیہ کے در و دیوار پر اپنا سر پٹکتا پٹکتا بے مراد ہی رہ جائے گا۔ چلیے یہاں بھی پچھلی والی مشق دہراتے ہیں۔ ہمارے پاس پھر سے تین نئے وائرس خلیہ کے باہر کھڑے اند داخل ہونے کو بیتاب ہیں:

1۔ پہلا وائرس وہ ہے جس کا ایس پروٹین بغیر کسی میوٹیشن کے اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔
2۔ دوسرا وائرس وہ ہے جس نے مدافعتی نظام سے خود کو بچانے کےلیے اپنے ایس پروٹین کی ساخت بالکل ہی تبدیل کرلی ہے۔
3۔ تیسرے وائرس میں ان دونوں ک مقابلے میں ایسی میوٹیشن ہوئی کہ جس نے نا صرف اسے مدافعتی نظام سے بچائے رکھا بلکہ اس کے ایس پروٹین میں ’ماسٹر کی‘ جیسی خاصیت پیدا کردی ہے۔ یعنی اب یہ وائرس زیادہ سہولت کے ساتھ خلیوں کے اندر داخل ہوسکتا ہے۔

بتائیے ان تینوں میں سے کون سا وائرس زیادہ سے زیادہ خلیات کا شکار کرپائے گا؟ صاف ظاہر ہے کہ یہاں بھی تیسرا وائرس ہی زیادہ کامیاب ہوگا۔
3. خلیہ کی مشینری پر مؤثر قابو اور افزائشِ نسل

محض خلیہ کے اندر داخل ہوجانا ہی وائرس کی حتمی منزل نہیں ہوتی بلکہ اسے اس نئے خلیے کے نظام اور اس کی مشینری پر قابو بھی پانا ہے تاکہ وہ اپنی افزائشِ نسل کرسکے۔ اس مرحلے پر وائرس میں ہونے والی میوٹیشنز کو چار پیمانوں میں تولا جاسکتا ہے:

1۔ وائرس جس میں قابو پانے اور افزائشِ نسل کی صلاحیت میں کوئی فرق نہیں۔
2۔ میوٹیشن کے باعث قابو پانا تو آسان ہے مگر افزائش مشکل ہوگئی ہے۔
3۔ میوٹیشن کے باعث افزائشِ نسل کی صلاحیت تو ٹھیک ہے مگر خلیہ پر قابو تھوڑا مشکل ہوگیا ہے۔
4۔ نئی میوٹیشن کے باعث افزائش کی رفتار بھی بڑھ گئی ہے اور ساتھ ہی خلیہ پر قابو بھی آسانی کے ساتھ پایا جا سکتا ہے۔

تو بتائیے آپ کے خیال میں اب اس آخری مرحلے میں کون کون سے وائرس کامیاب ہوسکیں گے؟ آسان جواب ہے کہ دوسرا اور تیسرا وائرس تو بالکل ہی کام نہیں کرسکیں گے، جبکہ پہلا وائرس اگرچہ اپنی افزائشِ نسل میں مشغول ہوگا لیکن اس کے مقابلے میں چوتھا وائرس اپنی میوٹیشن کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ اولاد بنانے اور پھیلانے میں کامیاب ہوگا۔

یہ ہلکی پھلکی سی مشق آپ کو یہ سمجھاتی ہے کہ نئے بننے والے وائرسوں کو ہر مرحلے پر ایسے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے اور ہر بار وہی وائرس کامیاب و کامران ہوتا ہے جو باقیوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہو۔ ان تمام مراحل پر ایک دو یا چند نہیں ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں وائرسز ہوتے ہیں اور ان میں سے چند ایسے ہوتے ہیں جو کہ گویا بھٹی سے گزر کر کندن بنتے ہیں، یعنی سیکڑوں ہزاروں وائرسوں میں سے ایک یا چند ہی منتخب ہوتے ہیں قدرتی طور پر۔ اس اصطلاح ’قدرتی انتخاب‘ کا اگر انگریزی میں ترجمہ کیا جائے تو Natural Selection بنتا ہے۔

اس وقت جتنی بھی کورونا وائرس کی اقسام ہیں، وہ سب اسی طرح کے امتحانوں سے گزر کر وجود میں آئی ہیں۔ اگر آپ ان کا بغور جائزہ لیں تو آپ کو ان تمام اقسام میں ان تینوں قسم کی میوٹیشنز یا کم از کم ان میں سے کوئی ایک قسم کی میوٹیشن تو لازمی ملے گی۔ اس وقت جبکہ میں یہ سطور تحریر کررہا ہوں میرے سامنے سائنسی جریدے نیچر میں چھپا تحقیقی مقالہ موجود ہے جس میں سائنسدانوں نے بھارت میں دریافت ہونے والی ڈیلٹا قسم کے بارے میں تحقیق سے جانا ہے کہ ڈیلٹا ویریئنٹ کی ایس پروٹین میں موجود میوٹیشنز اس وائرس کو ہمارے مدافعتی نظام سے بچاتی ہیں اور اس طرح اس کے تیز تر پھیلاؤ کا باعث بھی ہیں۔

(اس تحقیقی مقالے کو آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں)

ڈارون کے نظریہ ارتقا میں اس امر کو Natural Selection (قدرتی انتخاب) اور Survival of the fittest (بہترین کی بقا) کہا جاتا ہے۔ یعنی بدلتے ماحول اور حالات کے ساتھ جو جاندار خود کو ڈھال نہیں سکتے، وہ اپنے مدمقابل سے ہار جاتے ہیں اور ان کے مقابلے میں صرف وہ جاندار جو اپنے آپ کو ہمہ وقت اپنے حالات سے ہم آہنگ رکھتے ہیں وہ اپنے مدمقابل سے ہمیشہ ایک قدم آگے ہوتے ہیں۔ باالفاظِ دیگر کورونا کی نت نئی اقسام کے وجود میں آنے کا واحد سبب حیاتیاتی ارتقا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمد ابراہیم رشید شیرکوٹی

ڈاکٹر ابراہیم رشید شیرکوٹی

بلاگر مائیکرو بائیولوجی میں پی ایچ ڈی ہیں اور سائنس کے مختلف شعبہ جات میں ہونے والی پیش رفت، تاریخ اور روزمرہ کے واقعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔