وزیراعظم اور آرمی چیف سے زلمے خلیل زاد کی ملاقات، افغان مسئلے پر گفتگو

ویب ڈیسک  پير 19 جولائ 2021
افغانستان میں تنازعات اور عدم استحکام میں اضافہ پاکستان کے مفاد میں نہیں، وزیر اعظم (فوٹو : فائل)

افغانستان میں تنازعات اور عدم استحکام میں اضافہ پاکستان کے مفاد میں نہیں، وزیر اعظم (فوٹو : فائل)

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے ملاقات کی، وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

وزیراعظم آفس سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیرِاعظم عمران خان سے زلمے خلیل زاد نے ملاقات کی جس میں افغانستان کی موجودہ صورت حال، امن عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا اور افغان امن عمل کو تیز کرنے کے حوالے سے امور پر گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے افغانستان میں قیام امن کے لیے وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیے پر زور دیتے ہوئے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تنازعات اور عدم استحکام میں اضافہ پاکستان کے مفاد میں نہیں، ایسی صورتحال میں پاکستان کو سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا جب کہ افغانستان میں پائیدار امن سے علاقائی معاشی رابطوں کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مذاکرات اور بات چیت سے دیرپا امن اور استحکام آئے گا، افغانستان میں تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ  پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے مستقل حمایت کرے گا، ایک محفوظ اور محفوظ مغربی سرحد پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کی کوششوں میں امریکا اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات چاہتا ہے۔

دریں اثنا امریکی سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق ملاقاتوں میں زلمے خلیل زاد نے اسلامی جمہوریہ افغانستان اور طالبان کے درمیان ایسے جامع سیاسی تصفیہ کی فوری ضرورت پر زور دیا جو پائیدار امن کا پیش خیمہ اور افغانستان کی سلامتی، خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کا ضامن ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جاری جنگ پورے خطے کے لیے ایک خطرہ اور اس کی ترقی میں رکاوٹ ہے، اس کے برعکس امن، علاقائی میل جول اور تجارت کے فروغ اور ترقی کا ضامن ہے، ہم اس خواب کو ایک حقیقت کا روپ دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔