کورونا ویکسین اور عالمی مفادات کی جنگ

عاتکہ نثار  ہفتہ 24 جولائ 2021
ویکسین بنانے کے عمل نے عالمی طاقتوں کے درمیان جاری کشمکش اور عدم مساوات کو بے نقاب کردیا۔ (فوٹو: فائل)

ویکسین بنانے کے عمل نے عالمی طاقتوں کے درمیان جاری کشمکش اور عدم مساوات کو بے نقاب کردیا۔ (فوٹو: فائل)

کائنات کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے ہی طاقت اور مفادات کی جنگ جاری ہے۔ مفاد کی عام تعریف صرف اپنے فائدے یا نقصان کو سوچ کر پالیسیاں بنانا یا عمل درآمد کرنا ہے۔ ذاتی مفاد کی سطح پر انسان کا اپنی ذات کو بلند تر رکھنا ہے؛ جبکہ ملکی سطح پر مفاد میں اقتدار کی کرسی کےلیے رسہ کشی کرنا شامل ہے، جن میں تصادم سے اختلافات جنم لیتے ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی منظرنامے پر نظر دوڑائیں تو دنیا کو گلوبل ویلیج کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں پر چند عالمی طاقتوں کی اجارہ داری قائم ہے۔ جب ان طاقتوں کے ذاتی مفادات کسی دوسرے کے مفادات سے ٹکراتے ہیں یا ان کو متنازع تصور کیا جاتا ہے تو یہ مفادات کا تصادم ہے۔

دنیا کو گلوبل ویلیج کہنے والوں کےلیے لازم تھا کہ کیے جانے والے تمام فیصلے ذاتی مفاد سے بالاتر، انسانیت کی بھلائی اور منصفانہ تشخص پر مبنی ہوتے، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا جس کا زندہ نمونہ کرۂ ارض پر بسنے والی تمام مخلوقات نے ایک مہلک وبا پھوٹنے کے بعد دیکھا۔ اس مہلک وبا کو ’’کورونا‘‘ کا نام دیا گیا، جس نے پوری دنیا میں ہیجان انگیزی اور افراتفری کو جنم دیا۔ اس افراتفری نے ’’مفادات کی جنگ‘‘ کو ایک نیا رخ دیا لیکن مفادات کے حقیقی، ممکنہ اور تاثراتی تصادم سے نمٹنے کےلیے وسیع سوچ اور شفافیت سے پہلوتہی کی گئی۔

چین سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شروع میں وائرس کی ہولناکیوں کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، جس سے چین میں ہی ایک محتاط اندازے کے مطابق دو لاکھ افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ دس لاکھ سے زائد افراد کورونا کا شکار ہوکر شدید علیل ہوئے۔ مناسب اقدامات نہ ہونے کے باعث اس وبا نے چین سے نکل کر پوری دنیا میں تباہی مچادی، جس سے بہت سے ملکوں کی اکانومی تیزی سے گرنے لگی۔

اس صورتحال پر قابو پانے کےلیے پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا اور تجارت وقتی طور پر بند کردی گئی۔ پالیسی سازوں کو اس ضمن میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جو بیشتر اہم فیصلوں میں تاخیر کی وجہ بنا۔ امریکی حکومت کی لاک ڈاؤن میں تاخیر اور سوئیڈش حکومت کے سختیوں کو نرم کردینے سے کورونا کی وبا پھیلنے میں غیرمعمولی تیزی آئی۔ بڑھتی ہوئی وبا اور کورونا کے دوران تجارت میں مشکلات نے امریکا کو چین کو دھمکی دینے پر مجبور کردیا۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کی جس میں چین کو نتائج کےلیے تیار رہنے کو کہا گیا۔ اس سب نے دنیا کی اکانومی کو اک نئی شکل دی اور اس سے عالمی طاقتوں کے درمیان ’’مفادات کی جنگ‘‘ نے جنم لیا۔

اس مہلک وبا سے بچنے کےلیے بہت سے ممالک نے ویکسین تیار کرنے کےلیے تیاریاں شروع کردیں اور محققین نے تحقیق کا آغاز کیا۔ لیکن ویکسین تیار کرنے میں بھی سب کے پیش نظر مفاد ہی تھا۔ انسانیت کی بھلائی جیسے اسباق سے سب نے طوطا چشمی کی اور سب سے بڑا ہدف منافع رکھا گیا۔

کورونا وائرس جہاں دنیا بھر میں 1.6 ملین سے زائد سے انسانوں کو نگل چکا ہے، وہیں اس کے خلاف جنگ اور مزید انسانوں کو موت کے خطرات سے بچانے کےلیے ویکسین بنانے کے عمل نے عالمی طاقتوں کے درمیان جاری کشمکش اور عدم مساوات کو بے نقاب کردیا۔ ویکسین کی فراہمی کے متعلق ماہر صحت ایلوناکک بوش نے اپنے بیان میں کہا:
’’فی الحال اس طرح کے معاملے میں منصفانہ تقسیم کےلیے کوئی بین الاقوامی قواعد موجود نہیں ہیں۔‘‘

اگر 2020 کو کورونا کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے پیش نظر ’’ماسک ڈپلومیسی‘‘ کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا تو 2021 ’’ویکسین ڈپلومیسی‘‘ کا سال ہے۔ ریاستوں کے درمیان ویکسین کو محفوظ کرنے کے مقابلے نے عالمی منظرنامے میں نئے رنگ بھرے، جہاں ہر ملک نے اپنی اپنی ضروریات کے تحت بھانت بھانت کی بولیاں لگائیں۔

یہاں اس پہلو پر روشنی ڈالنا لازم ہے کہ ویکسین کے تیار کرنے کے عمل میں بھی اپنا اپنا مفاد دیکھا گیا۔ جب امریکا نے اپنی ویکسین کے تیار ہونے کی خبر شائع کی تو ساتھ ہی برطانیہ کی ایک کمپنی کی طرف سے فائدہ مند ویکسین تیار کرنے اور اس کے متعدد تجربات کی خبریں سننے کو ملیں۔ یہ کشمکش جاری تھی کہ برطانیہ کی طرف سے پھر یہ خبر سماعتوں کو پیام دے گئی کہ تیار کردہ ویکسین نے ایک رضاکار پر شدید منفی اثرات دکھائے ہیں۔

مقابلے کی اس دوڑ میں بہت سے ممالک نے ویکسین مقامی طور پر تیار کرنے کی کوشش کی۔ ان کوششوں کا مقصد اپنی اہلیت ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو عالمی سطح پر منوانا بھی تھا۔ اس کا ایک اور واضح مقصد اپنی سائنسی اور تکنیکی ترقی کی نمائش اور اسٹرٹیجک خودمختاری کا اعلان کرنا تھا۔ بہت سی ویکسین بنانے والی کمپنیوں کو حکومت کی طرف سے فنڈنگ کی گئی لیکن اس کے باوجود ویکسین بنانے کے عمل کو بہت سارا سرمایہ مطلوب تھا، جس کو پھر کمپنیوں نے ویکسین کی قیمت ہوش ربا حد تک بڑھا کر پورا کیا۔ جس نے ظاہراً غریب ممالک کی قوت خرید کو چیلنج کیا۔ اس ضمن میں زورگن وسیم کا کہنا تھا کہ:
’’بالواسطہ الزام تو یہ ہے کہ کارپوریشنوں نے مصنوعی طور پر ویکسین کی مقدار محدود حد تک رکھ کر ان کی قیمتیں بہت زیادہ رکھیں۔ اس کے علاوہ کچھ مخصوص ویکسین معاشی مراعات کی کمی کی وجہ سے کبھی تیار ہی نہیں کی گئیں۔‘‘

مفادات کی اس جنگ میں کورونا ویکسین طاقت کی نمائش کے نرم آلہ کار طور پر ابھری ہیں، جہاں پر ایک طرف تو عالمی طاقتوں نے سائنسی اور تکنیکی بالادستی قائم کی، تو دوسری طرف اپنی خارجہ پالیسیوں میں حالات حاضرہ کے تقاضوں کے مطابق شراکت داری اور اتحاد کو مزید مضبوط بنایا اور کورونا ویکسین کے لیباریٹریوں میں استعمال، خریداری، اور تقسیم کےلیے اپنے ہم پلہ ممالک سے ہاتھ ملائے۔ عام طور پر ایک لیباریٹری میں ویکسین کی نشوونما اور جانچ پڑتال سے لے کر اس کی بڑے پیمانے پر عالمی سطح منتقلی میں ایک لمبہ عرصہ درکار ہوتا ہے، لیکن کورونا ویکسین کے بننے کی رفتار ’’بے مثال‘‘ ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ عالمی منڈی میں تجارت کے بند ہونے کے باعث مختلف ممالک کی گرتی ہوئی ساکھ تھی، جس کے باعث کورونا ویکسین کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔

کورونا ویکسین کے حوالے سے اس تناظر میں ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ دوا سازی کی صنعت بہت پھلتی پھولتی نظر نہیں آتی۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ تاریخی ویکسین کی فراہمی میں تاخیر قیمتوں کے تعین نہ ہونے کے باعث ہوئی۔ کارپوریٹ قیمتوں کا تعین کرنے کی پالیسیوں کے باعث ویکسین کی فراہمی کے معاملے میں رخنے ڈالے گئے۔

چونکہ کورونا ویکسین بنانے کا بنیادی مقصد منافع کا حصول تھا، اس لیے اس کی تقسیم کے دوران غریب اور امیر ممالک کی واضح بندش دیکھی گئی۔ یہ بھی مفادات کو حاصل کرنے کا ایک سیاسی حربہ ہے۔ COVAX نامی پیش رفت اس لیے شروع کی گئی تاکہ دنیا جلد از جلد اس موذی مرض سے چھٹکارا پالے جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کو معاشی اور جانی طور پر ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ تاہم اس کی فراہمی پہلے ان ممالک کو کی گئی جن سے کمپنیوں کے اپنے مفاد وابستہ تھے یا جنہوں نے مہنگے داموں ویکسین خرید کر ایک بڑا ذخیرہ اپنے پاس محفوظ کرلیا۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ویکسین کی تیاری پر سرمایہ کاری کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک پر شدید دباؤ ہے کہ وہ پہلے ویکسین خرید کر اپنے عوام کو مہیا کریں لیکن ساتھ ہی ساتھ کمزور معیشتوں کے حامل ممالک، جو پہلے ہی وبا کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں اور ان ممالک میں کورونا کے باعث مرنے والوں کی شرح بھی کہیں زیادہ ہے، ویکسین کے اولین حق دار نظر آتے ہیں۔

موجودہ کشمکش سے فائدہ اٹھا کر بہت سی عالمی طاقتوں نے اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کہنے کو تو ویکسین کی تقسیم کا معاملہ مارکیٹ کی سکت اور طلب پر چھوڑ دیا گیا، لیکن یہ واضح امر ہے کہ امیر ممالک کو سب سے پہلے ویکسین کا حصول یقینی بنایا گیا۔ اس حوالے سے ماہر اقتصادیات زورگن نے کہا:
’’ایسے قوی خدشات ہیں کہ سب سے پہلے مغربی یورپ، کینیڈا، جاپان اور امریکا کو یہ ویکسین فراہم کی جائے گی، کیوں کہ یہ ممالک زیادہ قیمت ادا کرسکتے ہیں۔ دواسازی کے شعبے میں یہ مسئلہ ہمیشہ موجود رہا ہے۔‘‘

ویکسین کی فراہمی سے اپنی بالادستی قائم کرنے کی ایک اعلیٰ مثال روس کی ویکسین کو ’’سپوتنک V‘‘ کا نام دیا جانا ہے، جو 1950 کی دہائی کے آخر میں امریکا کے خلاف سرد جنگ میں روسی کامیابیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ بیرونی اثرورسوخ کے آلہ کے طور پر چین نے بحران کے آغاز سے ہی حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش کی۔

اس بحث کو چند سطور میں سمیٹا جائے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ طاقت کی اس دوڑ میں کورونا ویکسین کو ایک سیاسی آلہ کار کے طور پر استعمال کرکے عالمی سطح پر اس سے فائدہ اٹھایا گیا اور اس کے مطابق اپنی خارجہ پالیسیوں کو از سر نو مرتب کیا گیا۔ مفاد اور طاقت کی جنگ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے مفادات کو بھلا کر وقت کے مطابق آگے بڑھ کر انسانیت کی خدمت کی جائے اور ویکسین کو کورونا کے خلاف موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ مساوات اور دوسرے ممالک سے شراکت سے نہ صرف دنیا کی معاشی حالت مضبوط ہوگی بلکہ کورونا کی روک تھام میں بھی خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوگا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔