ایک بارپھر ڈُو مور کا مطالبہ

عبد الحمید  ہفتہ 24 جولائ 2021
gfhlb169@gmail.com

[email protected]

افغانستان میں کیا ہونے جا رہا ہے اس پر کوئی بھی حتمی رائے قبل از وقت ہے۔افغانستان میں زمینی صورتحال کچھ دن پہلے تک تیزی سے تبدیل ہو رہی تھی اور ایسے لگتا تھا کہ طالبان بہت جلد کابل پر ہلہ بول دیں گے۔وہ انتہائی سرعت کے ساتھ افغانستان کے بیشتر اضلاع کو اپنے قبضے میں لیتے جا رہے تھے۔

اب ان کی پیش قدمی قدرے آہستہ ہے۔ایک تو ابھی امریکی اور اتحادی افواج کے نکلنے میں ڈیڑھ مہینہ پڑا ہے۔دوسرا عید کا موقع ہے اور پھر طالبان کی طوفانی پیش قدمی سے ہر طرف ایک الارم کی کیفیت تھی اس لیے طالبان نے شاید وقتی طور پر صورتحال کو منفی تاثر سے بچانے کی خاطر پیش قدمی کو آہستہ کیا ہے۔میں نے افغانستان پر لکھتے ہوئے بارہا اس طرف اشارہ کیا تھا کہ کابل حکومت فوراً گرنے کا امکان بہت کم ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ آخری روسی فوجی کے افغانستان چھوڑنے کے بعد بھی افغان مجاہدین کو کابل میں داخل ہوتے ہوتے دو سال لگ گئے تھے۔

قرینِ قیاس یہی ہے کہ اب بھی اشرف غنی حکومت کا خاتمہ مشکل مرحلہ ہو گا۔اب تک افغان طالبان نے کسی جگہ بھی سخت لڑائی لڑ کر قبضہ حاصل نہیں کیا۔افغان فوج ان کے سامنے ہتھیار ڈال رہی ہے۔ہتھیار ڈالنے کی شکل میں افغان فوجی کو ایک رائفل دے دی جاتی ہے اور اس سے کہہ دیا جاتا ہے کہ مرکز میں طالبان حکومت بننے کے بعد وہ فوجی واپس آکر دوبارہ فوج کا حصہ بن سکتا ہے۔البتہ اس دفعہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ طالبان کو شمالی اتحاد کے علاقوں میں بہت پذیرائی اور کامیابی ملی ہے۔

عام خیال یہ تھا کہ طالبان بیشک بڑی قوت ہیں۔وہ چاہے باقی سارے افغانستان پر قبضہ کر لیں لیکن شمالی اتحاد کے علاقوں میں ان کو شدید مزاحمت کا سامنا ہو گا۔یہ مفروضہ بہت حد تک غلط ثابت ہو رہا ہے اور سب سے پہلے طالبان کو جو کامیابیاں ملی ہیں وہ انھی شمالی اتحاد کے زیرِ اثر علاقوں میں ملی ہیں۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق شمالی اضلاع میں سے کوئی ضلع بھی طالبان کے ہاتھوں سے واپس نہیں لیا جا سکا۔

امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا ابھی مکمل نہیں ہوا۔ صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ 31اگست تک یہ انخلا مکمل ہو جائے گا۔ویت نام کے ذلت آمیز تجربے سے گزرنے کے بعد امریکیوں کی شدید خواہش تھی کہ انھیں انخلا کے دوران ٹارگٹ نہ کیا جائے۔پاکستان پر اس حوالے سے بہت دباؤ تھا کہ وہ طالبان سے اس کی گارنٹی حاصل کرے۔

پاکستان یہ گارنٹی دلوانے میں کامیاب رہا ہے پھر بھی امریکیوں کو خوف لاحق تھا اس لیے انھوں نے بگرام ایئر بیس خالی کرتے ہوئے انتہائی احتیاط برتی اور افغان فوج کے سربراہ کو بھی ایئر بیس خالی کرنے کے وقت کی ہوا نہیں لگنے دی۔بیس خالی کرنے کے چند گھنٹے بعد فون کر کے افغان فوج کے چیف کو بتایا گیا۔ بہر حال امریکی اور نیٹو افواج ان دنوں بغیر کوئی نقصان اٹھائے افغانستان سے نکل رہی ہیں اور طالبان ایک طرح سے انھیں محفوظ راستہ مہیا کر رہے ہیں۔

افغان طالبان کس فوجی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں یہ تو ان کی اعلیٰ فوجی قیادت ہی جانتی ہے لیکن ان کی پیش قدمی سے ایسے لگتا ہے کہ وہ ابھی کابل اور صوبائی شہروں کو قبضے میں لینے میں دلچسپی نہیں رکھتے البتہ ان بڑے شہروں کے ارد گرد علاقوں پر قبضہ کر کے کابل حکومت کے گلے میں رسی کو تنگ کرتے جا رہے ہیںاور شہروں کے لیے ضروریاتِ زندگی کی سپلائی پر اثر انداز بھی ہوتے جا رہے ہیں۔یہ جدید دور کا ایک محاصرہ ہے۔ طالبان ابھی تک اس منصوبے کے مطابق کامیاب ہیں۔یہ بھی لگتا ہے کہ وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ نقل و حمل کے راستوں پر پہلے ہی قابض ہو چکے ہیں۔

اس طرح انھوں نے یہ یقینی بنا لیا ہے کہ کابل حکومت کوکہیں سے بھی زمینی راستوں سے امداد نہ مل سکے۔ابھی تک ان کراسنگ پوائنٹس پر بھی ان کا قبضہ برقرار ہے اور سرکاری فوج کوئی بھی کراسنگ پوائنٹ ان سے واپس نہیں لے سکی۔ دباؤ کی اس گھڑی میں اشرف غنی کی حکومت بھارت سے امداد چاہے گی افغان فوج کے چیف بھارت جا رہے ہیں۔

بھارت نے پچھلے بیس سالوں میں افغانستان کے اندر بہت نیٹ ورک بنایا ہے اور سرمایہ کاری کی ہے۔طالبان کی کامیابی بھارت کو اس سارے ایڈوانٹیج سے محروم کر رہی ہے۔ کراسنگ پوائنٹس پر قبضے کے بعد بھارت اگر کابل حکومت کو فوجی امداد دینا بھی چاہے تو اس کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ایک راستہ پاکستان سے ہے اور دوسرا راستہ ایران سے ہے۔

دوحہ قطر میں افغان حکومتی وفد اور افغان طالبان کے درمیان پچھلے ہفتے اور اتوار کو دو دن  مذاکرات ہوئے۔ افغان حکومتی وفد کی قیادت عبداﷲ عبداﷲ اور طالبان وفد کی مُلا عبدالغنی برادر نائب امیر طالبان کر رہے تھے۔یہ مذاکرات کافی لمبے عرصے سے کھٹائی میں پڑے ہوئے تھے۔برطانوی افواج کے سربراہ جنرل سرنِک کارٹر ان مذاکرات اور اشرف غنی کی حکومت بچانے کے لیے پچھلے ایک سال سے بہت سرگرم ہیں۔جنرل نک کارٹر پاکستان اور کابل کے کئی دورے کر چکے ہیں۔ان کی اشرف غنی سے اس وقت سے علیک سلیک ہے جب وہ نیٹو افواج کے ڈپٹی کمانڈر تھے۔

جنرل کارٹر پچھلے دنوں اپنے طیارے میں راولپنڈی آئے۔ ابھی بھی وہ پسِ پردہ دوحہ مذاکرات میں کافی سرگرمِ عمل ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ بہت مشکل اور کٹھن مرحلہ ہے۔ پاکستان پر ہر طرف سے شدید دباؤ ہے۔ ایف اے ٹی ایف،آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ذریعے پاکستان کا بازو مروڑا جا رہا ہے۔دوحہ میں زلمے خلیل زاد نے بہت چالاکی سے پاکستان سے ڈُو مور کا مطالبہ کر دیا ہے۔اپنے ایک بیان میں زلمے نے کہا کہ پاکستان،طالبان کو مذاکرات کامیاب بنانے پر آمادہ کرے یعنی ایک بار پھر پاکستان ڈیلیور کرے اور طالبان اپنی پوزیشن سے ہٹ جائیں۔

دوسرے لفظوں میں امریکا، مغربی دنیا ،بھارت اور اشرف غنی جو چاہتے ہیں پاکستان کوشش کرکے وہ سب کچھ ان کی جھولی میں ڈال دے ایسے میں پاکستانی رہنماؤں کو بہت احتیاط اور انتہائی بصیرت سے کام لینا ہو گا۔ دوحہ میں طالبان نے جنگ بندی کے لیے اپنے سات ہزار قیدیوں کی رہائی،اسلامی نظام کے قیام کی یقین دہانی اور اقوام متحدہ کی دہشت گردی کی لسٹ سے اخراج کی تین شرائط میز پر رکھی ہیں۔

کابل کے سرکاری وفد نے کوئی تجویز پیش نہیں کی۔مذاکرات  وقتی طور پرختم ہو گئے ہیں۔ دوحہ مذاکرات کا دوبارہ  جاری ہونا پاکستان کی طرف سے بڑی مدد اور طالبان کی جانب سے بڑی گنجائش پیدا کرنا ہے۔پاکستان کے اندر کچھ دنوں سے دہشت گردی کے واقعات نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔پاکستان فائرنگ رینج میں کھڑا نظر آتا ہے۔

امریکا اگر چاہے تو افغان مسئلے کا حل بہت آسانی اور تیزی سے ممکن ہے۔چونکہ طالبان افغانستان کے اندر سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر اور غالب قوت ہیں اس لیے امریکا اشرف غنی کو صدارت سے فارغ کر کے طالبان کی قیادت میں عبوری حکومت بنوا سکتا ہے۔

عبوری حکومت بن جانے کے بعد ایک مقررہ وقت کے اندر انتخابات یقینی بنا کو مسئلے کا پائیدار حل ممکن ہے۔زلمے پاکستان سے تو ڈُومور کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن بہتر ہوتا وہ اشرف غنی سے کہتے کہ بہت ہو گیا آپ صدارت سے مستعفی ہوں اور طالبان کی قیادت میں ایک براڈ بیسڈ حکومت بننے دیں لیکن امریکا اپنے اثاثوں کو بچا کر زمین پر ہاری ہوئی جنگ،پاکستان پر دباؤ رکھ کر جیتنا چاہتا ہے۔ امریکا کی چال نہیں چلنے والی۔اگر امریکا نے اشرف غنی کی صدارت سے ہاتھ پیچھے نہ ہٹایا تو افغان مسئلے کا حل ایک خواب ہی رہے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔