ہر پاکستان دشمن نواز شریف کا قریبی دوست ہے، فواد چوہدری

ویب ڈیسک  ہفتہ 24 جولائ 2021
بھارت کو جاسوسی کا سافٹ ویئر اسرائیل کی مرضی کے بغیر نہیں مل سکتا، شہزاد اکبر (فائل فوٹو)

بھارت کو جاسوسی کا سافٹ ویئر اسرائیل کی مرضی کے بغیر نہیں مل سکتا، شہزاد اکبر (فائل فوٹو)

 اسلام آباد: وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہر پاکستان دشمن نواز شریف کا قریبی دوست ہے اور نواز شریف جیسے لوگ بین الاقوامی سازشوں میں مددگار بن جاتے ہیں۔

یہ بات وفاقی وزیر فواد چوہدری نے وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف مفرور ہیں اور لندن میں مقیم ہیں، حمداللہ محب سے نواز شریف کی ملاقات پر حیرانگی ہوئی کیوں کہ حمد اللہ محب کا افغانستان کی سرزمین سے بنیادی طور پر کوئی تعلق نہیں ہے اور حمداللہ نے پاکستان کے بارے میں جو زبان استعمال کی وہ دہرا نہیں سکتا۔

انہوں ںے کہا کہ نواز شریف نے ایسے شخص سے ملاقات کی جس کے بھارت سے تعلقات ڈھکے چھپے نہیں، نواز شریف اور ان کی پارٹی سے پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ انہوں نے حمداللہ محب سے ملاقات سے قبل اپنی پارٹی سے اجازت لی تھی؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نواز شریف کی محب اللہ سے ملاقات کے ٹرانسکرپٹ سامنے لائے جائیں، اس ملاقات کا ایجنڈا کیا تھا مسلم لیگ (ن) اس کی وضاحت دے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان خفیہ ملاقاتیں نہیں کرتے اور ملک کے خلاف سازشیں نہیں کرتے جب کہ نواز شریف کا کردار ملکی سلامتی کے حوالے سے ہمیشہ مشکوک رہا ہے۔

افغانستان کے معاملے پر انہوں ںے کہا کہ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، اس وقت 6 ہزار سے زائد افغان طالب علم پاکستان میں پڑھ رہے ہیں، وزیراعظم کا پہلے دن سے یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے عوام کے ساتھ ہے۔

دریں اثنا اپنی ٹویٹ میں فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف کو پاکستان سے باہر بھیجنا اس لیے خطرناک تھا کہ ایسے لوگ بین الاقوامی سازشوں میں مددگار بن جاتے ہیں، نواز شریف کی افغانستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سب سے بڑے حلیف حمداللہ محب سے ملاقات ایسی ہی کارروائی کی مثال ہے، مودی ، محب یا امراللہ صالح ہر پاکستان دشمن نواز شریف کا قریبی دوست ہے۔

بھارت کو جاسوسی کا سافٹ ویئر اسرائیل کی مرضی کے بغیر نہیں مل سکتا، شہزاد اکبر

شہزاد اکبر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اسرائیل کی ٹیکنالوجی استعمال کرکے موبائل فون ٹیپ کرنا پاکستان کی سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، یہ پاناما لیکس سے بھی بڑا اسکینڈل ہے یہ یہ ملٹری اسپائی ویئر ہے جسے اسرائیل کی مرضی کے بغیر نہیں خریدا جاسکتا، این ایس او کے دس کلائنٹ ہیں جن میں بھارت بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں یہ ججوں اور صحافیوں کے خلاف استعمال کیا گیا جس میں زیرو کلک کرکے موبائل فون ہیک ہو جاتا ہے، وزیراعظم عمران خان کا موبائل فون بھی اس ٹیکنالوجی سے ہیک کیا گیا، یہ سافٹ ویئر صرف دہشت گردی کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے جب کہ بھارت کو یہ سافٹ ویئر بیچا گیا جس نے اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بھارت کی طرف سے، جعلی نیوز جنریٹ کر کے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، اس معاملے پر غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس کی باضابطہ تحقیقات کرائی جائے گی، انٹیلی جنس ادارے اور ایف آئی اے بھی اس میں شامل ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کے نوٹس میں لایا جائے گا، پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور یہ معاملہ پاکستان کی خود مختاری پر حملہ ہے، یورپی یونین کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر نواز شریف سے افغان صدر کے مشیر قومی سلامتی امور حمداللہ محب کی ملاقات کی تصاویر وائرل ہوئی تھیں، حمداللہ محب افغانستان میں بد امنی اور طالبان کی پیش قدمی پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔