کورونا اور چند سوالات

ایڈیٹوریل  اتوار 25 جولائ 2021
کورونا اور ویکسی نیشن کے اندوہ ناک تجربات سے ماورا سماجی حقائق ان حکمرانوں اور وزارتی ترجمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ فوٹو: فائل

کورونا اور ویکسی نیشن کے اندوہ ناک تجربات سے ماورا سماجی حقائق ان حکمرانوں اور وزارتی ترجمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ فوٹو: فائل

کورونا وائرس کیسز بڑھ گئے، تاہم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کہا کہ ہمارے خطے کے مختلف ممالک میں دس لاکھ میں سے کورونا سے ہونے والی اموات کی شرح پاکستان میں سب سے کم ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا سے اموات کی شرح دس لاکھ افراد میں ایک سو دو ہے جب کہ بھارت میں تین سو ایک ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے ایک ہزار 425 نئے کیس رپورٹ ہوئے جس کے بعد پاکستان نے دس لاکھ کورونا وائرس کے کیسز کی سطح عبور کرلی۔ جب کہ ایک دن میں مزید 11 اموات کے بعد کل ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار 939 ہوگئی ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق ملک میں اب تک سامنے آنے والے کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 10 لاکھ 34 ہزار ہوگئی ہے۔

ادھر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں کورونا ویکسین نہ کرانے والے افراد کی موبائل سمز بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جو لوگ ایک ہفتے کے دوران ویکسین نہ کروائیں ان کی موبائل سم بلاک کی جائے۔ اگلے مہینے سے ان سرکاری ملازمین کی تنخواہیں روکنے کا فیصلہ کیا جائے گا جنھوں نے ویکسین نہیں لگوائی۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کورونا کیسز میں ہوشربا اضافہ کی نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ حکومت کو سرکاری ملازمین کی تنخواہیں روکنے اور سمز بلاک کرنے کے احکامات بطور انتباہ جاری کرنے پڑ رہے ہیں تو سندھ حکومت کو گھر گھر ویکسین لگانے سے کس نے روکا ہے، اس ملک میں پولیو کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

پولیو کا عملہ پوری ذمے داری و تندہی سے فرائض کی بجاآوری میں مصروف ہے، جب بھی مہم شروع ہوتی ہے، اس کی ٹیمیں فلیٹوں کی سیڑھیاں چڑھتی ہیں، دستک دیتی ہیں اس نیک کام میں پولیو ورکرز نے اپنی جانیں بھی نچھاور کی ہیں لیکن حیرت ہے کہ ارباب بست وکشاد کورونا ویکسین لگوانے کے لیے اپنے سینٹروں سے باہر نکلنے پر تیار نہیں، یہ استدلال درست بھی ہے کہ ان سینٹرز کی اپنی بھی ایک اہمیت ہے اس لیے حکومت کو کسی دوسرے ذرایع سے ویکسی نیشن کے لیے تربیت یافتہ افرادی طاقت کا انتظام کرنا ہوگا۔

وفاقی حکومت تمام صوبائی حکومتوں کو اس ضمن میں خصوصی ہدایت جاری کرسکتی ہے، بلکہ محکمہ صحت اپنے زیر انتظام تمام ہیلتھ کیئر سینٹرز کو فعال کرکے ہنگامی بنیادوں پر ویکسی نیشن کے کام کو ملک گیر پھیلاؤ دے کر اپنے مطلوبہ ہدف کو حاصل کرسکتا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایئر کنڈیشنڈ کمروں سے باہر نکل کر گھر گھر ویکسین لگانے کون جائے، کون اتنی درد سری مول لے، افسر شاہی اور صحت کے شعبے کو بلاشبہ ایک بڑے شیک اپ کی ضرورت ہے۔

اسد عمر کو صائب مشورہ یہی ہے کہ ویکسی نیشن کے ٹارگٹ کو پورا کرنا ناقابل یقین یا دشوار ترین مسئلہ نہیں ، یہ حقیقت میں انسان دوستی کے مسلمہ رویے اور عوام سے کمٹمنٹ کے اظہار کے قومی جذ بے کی ترنگ ہے، اگر واقعی حالات اس قدر ابتر ہوگئے ہیں کہ ارباب اختیار ویکسین لگوانے کے لیے ہر جائز ناجائز اقدام کرنے پر مجبور ہوگئے تو اس سرکاری طرز عمل میں مضمر مشکل یہ بھی ہے کہ نفسیاتی طور پر ارباب اختیار یہ ملفوف پیغام بھی دے رہے ہیں کہ عوام فی الحقیقت ویکسین لگوانے میں تعاون پر تیار نہیں، ایس او پیز کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔

اگر یہ منطق تسلیم کرلی جائے تو اس کی وجہ بھی حکومتی حکمت عملی میں نقائص اور ابہام ہے، مثلاً یہ بات تو اب روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حکمران ایک تو ہر کام خود اپنے ذمے لینے کے شوق میں مبتلا ہیں لیکن ہدایات جاری کرنے سے آگے نہیں سوچتے کہ محض ہدایات سے کام نہیں چلے گا۔

حقیقت میں کورونا سے نمٹنے کی حکمت عملی میں بھی کئی اسباق پنہاں ہیں، یہ وبا اہل وطن کے لیے ایک تحیر خیز تجربہ تھا، جس نے سماجی زندگی کی تمام جہتوں کو متاثر کیا، روزگار چھن گئے ، تنگ دستی و افلاس نے ڈیرے جمالیے، ہمارے نظام معاشرت میں کورونا نے نہ صرف ہمیں چہرے کی شناخت سے محروم کیا بلکہ انسانی میل ملاپ، یک جہتی کے مشرقی تصور کو بھی پارہ پارہ کر دیا۔

مزید براں ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کردیا کہ بعد از مرگ واویلا کرنے میں ہماری نوکر شاہی کا کوئی جواب نہیں، اگر گھر گھر ویکسی نیشن کی بحث ہونے لگے تو بعض لوگ تربیت یافتہ افرادی قوت کا رونا روئیں گے، کہاں سے لائیں گے، یہ فوج ظفر موج، ہر طرف سے یہ سوال اٹھے گا، کوئی خوئے نیک رکھنے والا ان سے یہ پوچھے کہ اتنا جم غفیر وزارتوں اور محکموں میں جمع ہے یہ آخر کس مرض کی دوا ہیں، وہ ٹائیگر فورس کیوں تیار نہیں کی گئی۔

ضرورت مربوط اور مستقل پلاننگ کی ہے، جس کا شدید فقدان ہے، ایک ملک گیر الرٹ اور اہل ٹیم ہونی چاہیے جو حکومت کو صحت معاملات میں شفاف رہنمائی مہیا کرے، دکھی انسانیت کو اس وقت ایک مورل سپورٹ کی بھی ضرورت ہے، ہم ایک بے درد معاشرے میں رہتے ہیں، کوئی کسی کے معاشی حالات سے آگاہ نہیں، پڑوسی پڑوسی سے لاتعلق ہے، اس کی دنیا اس کا ایک بوسیدہ فلیٹ ہے اور باہر کچرے کا ڈھیر۔

اس غیر انسانی ماحول میں اہل وطن کورونا وائرس کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن عوام کو کورونا کی فرنٹ لائن ٹیم سے اپنا تعلق یوں ہی مضبوط و مستحکم رکھنا ہوگا کیونکہ آزمائش کی گھڑی میں طبی عملہ ہی ہمارے سرہانے کھڑا ہوگا، قوم کی خدمت کا دم بھرنے والے کہیں نظر نہیں آئیں گے۔

حکمرانوں کو اپنے سسٹم کو انسان دوست بنیادوں پر از سر نو استوار کرنا ہوگا، یہ ایک بوسیدہ، ازکاررفتہ اور سنگدل مرکنٹائل سماج کے کچلے ہوئے لوگ ہیں جن سے غریب عوام کو توقع نہیں رکھنی چاہیے، اگر سمز کی جبری بندش اور تنخواہیں روکنے کی باتیں ہورہی ہیں تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صورتحال کا نکتہ زوال کیا ہوسکتا ہے۔

قصہ مختصر ، کورونا کیسز میں اضافہ سے بیورو میں کھلبلی مچ گئی ہے، ڈیسپریشن میں اسی نوعیت کے کام ہوسکتے ہیں، لیکن ارباب اختیار کو شفاف اور صائب منصوبوں پر سنجیدگی سے عمل کرنا چاہیے، جن سماجی تنظیموں نے کورونا سے متاثرین کا سروے کیا ہے ان کے مشاہدے رلا دیتے ہیں، سماجی کارکن ان گھروں اور کچی آبادیوں سے بھی ہو کر آئے جن کے معاشی حالات سنتے ہوئے آنسو روکنا مشکل ہوجاتا ہے، لوگ کہتے ہیں کورونا نے ملکی اقتصادی ، معاشی اور غربت کی حقیقت کو یکجا کردیا ہے، ایک انار سو بیمار والی کہانی ہے۔

ضرورت ایک مشفقانہ کورونا مہم کی ہے، جبر کے احکامات کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا، ارباب بست وکشاد نے عوام کو ساتھ لے کر کورونا سے لڑنا ہے ، اس کے لیے عوام کو حوصلہ دیں، ان پر جبر نہ کریں، سسٹم میں پہلے سے جبر کا عنصر موجود ہے، خط افلاس سے نیچے خلق خدا کی ایک بڑی تعداد کراہ رہی ہے، بیروزگاری، مہنگائی نے جینا دوبھر کردیا ہے، اس وقت نہایت مدبرانہ فیصلے کرنے کا وقت ہے۔

صحت انفرا اسٹرکچر کو جدید ترین سہولتوں سے لیس کیجیے، دواؤں کی خریداری غریب آدمی کے لیے کار دشوار ہے، دوائیں ارزاں قیمتوں پر دستیاب ہوں، اس گھرانے کو تصور خیال میں لائیں جس کا ایک فرد کورونا میں مبتلا ہے، اس کی کیا زندگی ہے! اور آسودگی کو وہ کن لفظوں میں یاد کریگا؟

کورونا اور ویکسی نیشن کے اندوہ ناک تجربات سے ماورا سماجی حقائق ان حکمرانوں اور وزارتی ترجمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہیں جو انقلاب آفریں تبدیلی کا نعرہ لے کر اقتدار میں آئے تھے، اب خود احتسابی کا تقاضہ ہے کہ وہ اس سوال کا خود سے جواب مانگیں کہ عوام نے کیا کھویا ، کیا پایا؟

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔