امن کا راستہ

ایم جے گوہر  اتوار 25 جولائ 2021

اس بچے میں بچپن ہی سے کچھ ایسی خداداد صلاحیتیں تھیں کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے تھے۔ اپنے وقت کے ممتاز فلسفی ارسطو کی شاگردی میں آنے کے بعد اس کی صلاحیتیں اور نکھرنے لگیں۔

لوگوں کو یہ محسوس ہونے لگا یہ بچہ اپنی غیر معمولی خوبیوں اور قابلیت کے باعث تاریخ میں ضرور کوئی مقام حاصل کرے گا۔ صرف 12 برس کی عمر میں اس بچے نے ایک جنگلی اور بدمست گھوڑے کو قابو کرکے سدھایا۔ بیوسیفیلس نامی یہ گھوڑا ایک دیوقامت اور وحشی خصلت کا حامل تھا لیکن اس بچے سے ایسا مانوس ہوا کہ پھر ساری زندگی اس کا ساتھی بنا رہا۔

یہ بچہ جب تھوڑا بڑا ہوا اور اس نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو اس کے والد کو ان کے اپنے ہی ایک محافظ نے قتل کردیا۔ پھر اقتدار کی جنگ شروع ہوگئی اس نوجوان نے اپنی خداداد حربی صلاحیتوں کی بنیاد پر ایک ایک کرکے اپنے تمام حریفوں کا صفایا کردیا اور بیس برس کی عمر میں مقدونیا کا بادشاہ بن گیا۔ 356قبل مسیح میں پیدا ہونے والا یہ نوجوان سکندر اعظم (الیگزینڈر دی گریٹ) کہلایا۔

سکندر اعظم کل 12 برس اقتدار میں رہا اور محض 32 سال کی کم عمری میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس مختصر عرصے میں اس نے اپنی فوجوں کے ساتھ 12 ہزار میل کا فاتحانہ سفر کیا۔ اس وقت کی سلطنت فارس کے بادشاہ داریوش سوم کو شکست دیتا ہوا آگے بڑھتا گیا اور وسطی ایشیا تک یونانی کلچر کو پھیلا دیا۔ سکندر اعظم فتوحات پر فتوحات سمیٹتا ہوا مغرب میں یونان سے لے کر مشرق میں آج کے پاکستان، افغانستان، ایران، عراق اور مصر تک اپنی حکمرانی کے جھنڈے لہراتا گیا۔ سکندر اعظم کا شمار تاریخ کے انتہائی متاثرکن اور ماہر رہنماؤں اور فوجی کمانڈروں میں ہوتا ہے جس نے چھوٹی سی عمر میں دنیا کے ایک بڑے حصے کو اپنا دست نگر بنالیا۔

سکندر اعظم نے تو محض 12 برس کی حکمرانی میں ایک دنیا کو فتح کر لیا تھا جس میں افغانستان، ایران اور عراق بھی شامل تھے لیکن آج خود کو 21 ویں صدی کا ’’سکندر اعظم‘‘ سمجھنے والا دنیا کی واحد سپر پاور کا دعویدار امریکا جدید ترین اسلحے کی حامل فوجی قوت رکھنے کے باوجود 20 سال تک افغان جنگجوؤں سے نبرد آزما رہا لیکن انھیں شکست نہ دے سکا۔ رسوائی اور بدنامی کا طوق گلے میں ڈال کر افغانستان سے ناکام و نامراد اور شرمندگی کا بوجھ اٹھائے رات کی تاریکی میں خاموشی سے رخصت ہو گیا۔

آج پوری دنیا امریکا کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ جوبائیڈن انتظامیہ نے افغانستان کو جن مسائل کے منجھدار میں چھوڑ کر واپسی کا عجلت میں فیصلہ کیا ہے وہ افغان عوام، حکومت، طالبان اور خود افغانستان کی سلامتی کے حوالے سے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ ایک دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے مسئلے میں ہمیشہ اپنا مثبت اور مصالحانہ کردار پورے خلوص اور نیک نیتی سے ادا کیا ہے۔ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے سے لے کر افغان جنگجو گروپوں کے درمیان سیاسی مصالحت تک آگے بڑھ کر خدمات انجام دی ہیں۔ اس کے باوجود افغانستان کی کرزئی حکومت سے لے کر غنی حکومت تک پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، الزام تراشی اور ناراضی کا سلسلہ دراز ہوتا رہا ہے۔

اپنی ناکامیوں کا ملبہ ہمیشہ پاکستان پر گرانا حامد کرزئی اور اشرف غنی کا وطیرہ رہا ہے، جس کی تازہ مثال تاشقند میں ’’سینٹرل اینڈ ساؤتھ ایشیا2021، ریجنل کنیکٹیوٹی چیلنجز اینڈ اپرچونیٹیز‘‘ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان پر یہ الزام عائد کیا کہ پاکستان سے 10 ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ہیں۔ گویا انھوں نے بادی النظر میں افغانستان میں بدامنی کی موجودہ صورتحال کا ذمے دار پاکستان کو قرار دیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے برمحل افغان صدر کے مبینہ الزامات کا صاف اور دو ٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے ان پر واضح کردیا کہ پاکستان کو افغانستان کی صورتحال کا ذمے دار ٹھہرانا سراسر ناانصافی ہے۔

پوری دنیا کے صاحب فہم تجزیہ نگار آج امریکا کے افغانستان سے واپسی کے عجلت پسندانہ فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔ طالبان برق رفتاری سے قندھار و کابل کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے کامیابی کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ سرکاری فوج طالبان کا راستہ روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ 20 سال تک امریکا جیسی سپرپاور کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہنے والے طالبان جنگجوؤں کے سامنے سرکاری فوج مزاحمت نہیں کرسکتی۔

اشرف غنی حکومت کے پاس واحد راستہ یہ ہے کہ وہ پاکستان پر دراندازی و طالبان کی پشت پناہی کے الزامات لگانے کی بجائے طالبان تنظیم امارات اسلامی افغانستان کے ساتھ افہام و فہیم کے ماحول میں مذاکرات کرے اور کچھ لے اور کچھ دے کی بنیاد پر افغانستان میں چالیس سالہ خانہ جنگی و بدامنی کو ختم کرنے اور امن کا راستہ، افغان عوام کی مرضی کے مطابق، سیاسی بنیادوں پر تلاش کرے۔

افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کے بعد افغانستان نے اپنا سفیر اور سفارتی عملہ پاکستان سے واپس بلانے کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے دو طرفہ تعلقات میں مزید فاصلے پیدا ہوں گے۔ پاکستانی حکام اس واقع کی بھرپور تحقیقات کر رہے ہیں۔ افغان سفیر کو اس ضمن میں تعاون کرنا چاہیے۔ پاکستان نے بجا طور پر فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ غنی حکومت کو مثبت جواب دینا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔