اسمارٹ فون چھیننے پر بچہ اپنے باپ کی شکایت لیکر تھانے پہنچ گیا

ویب ڈیسک  منگل 27 جولائ 2021
یہ بچہ ہر وقت اپنے اسمارٹ فون میں مگن رہتا اور نہ تو گھر کا کوئی کام کرتا اور نہ ہی پڑھائی پر توجہ دیتا تھا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

یہ بچہ ہر وقت اپنے اسمارٹ فون میں مگن رہتا اور نہ تو گھر کا کوئی کام کرتا اور نہ ہی پڑھائی پر توجہ دیتا تھا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

شنگھائی: مشرقی چین کے صوبے انشوئی میں مانشان شہر کے ایک 14 سالہ بچے نے اپنے باپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ بچوں سے مشقت لینے کے قوانین (چائلڈ لیبر لاز) کی خلاف کرتے ہوئے اس سے گھر کے کام کروا رہا ہے۔

چائنیز سوشل میڈیا پر کچھ روز پہلے وائرل ہونے اس واقعے کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ مانشان شہر کا یہ 14 سالہ بچہ ہر وقت اپنے اسمارٹ فون میں مگن رہتا تھا جس کی وجہ سے نہ تو گھر کے کسی کام میں ہاتھ بٹاتا اور نہ ہی اپنی پڑھائی پر توجہ دیتا تھا۔

جب یہ لڑکا اپنے بڑوں کے سمجھانے پر بھی باز نہ آیا تو اس کے والد نے حکم دیا کہ وہ اپنا اسمارٹ فون ایک طرف رکھ دے اور گھر کے کاموں میں مدد کرے۔

اس حکم پر لڑکے کو اتنا شدید غصہ آیا کہ وہ باپ سے نظر بچا کر قریبی پولیس اسٹیشن پہنچ گیا اور وہاں جاکر اپنے ہی والد کے خلاف ’’بچے سے غیر قانونی اور جبری مشقت‘‘ لینے کی شکایت کردی۔

ڈیوٹی پر موجود افسر کچھ سمجھ نہ سکا اور لڑکے کو واپس اس کے گھر لے گیا تاکہ صورتِ حال سے درست طور پر واقف ہوسکے۔

گھر پہنچ کر افسر نے لڑکے کے والد سے بات کی تو اسے یہ سارا واقعہ معلوم ہوا۔ اس پر پولیس افسر نے پہلے اس بچے کے والد کو زیادہ سختی کرنے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دیر کےلیے بچے سے فون لینے کا خیال خاصا مناسب تھا۔

یہ بات اس لڑکے سے برداشت نہیں ہوئی اور وہ بدتمیزی سے بولا: ’’آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا میرے پاس صرف یہی موبائل فون ہے؟ آپ بالکل بدھو ہیں!‘‘

چائنیز سوشل میڈیا پر مزید واقعہ تو بیان نہیں کیا گیا لیکن عوامی اکثریت نے اس لڑکے کو نافرمان قرار دیتے ہوئے اس کے والدین پر اعتراض کیا ہے کہ انہیں بچے کے بگڑنے سے پہلے ہی اسے سمجھانا چاہیے تھا۔

اگر بچے نے بدتمیزی کی اور تھانے میں اپنے ہی والد کے خلاف شکایت کردی، تو اس میں بھی والدین کی اپنی لاپرواہی کا دخل ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔