نور مقدم کیس میں کال ریکارڈ مل گیا، ملزم والدین سے مکمل رابطے میں تھا

ویب ڈیسک  منگل 27 جولائ 2021
عدالت نے گرفتارظاہر جعفر کے والدین اور 2 ملازمین کو جیل بھیج دیا ۔ فوٹو : فائل

عدالت نے گرفتارظاہر جعفر کے والدین اور 2 ملازمین کو جیل بھیج دیا ۔ فوٹو : فائل

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے نور مقدم قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور دو ملازمین کو جیل بھیج دیا جبکہ تفتیشی پولیس نے ملزم کا کال ریکارڈ حاصل کرلیا جس کے مطابق ملزم اپنے والدین سے مکمل رابطے میں تھا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نور مقدم قتل کیس میں پولیس نے مرکزی ملزم کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم کے ساتھ دو ملازمین افتخار اور جمیل کو سخت سیکیورٹی میں اسلام آباد کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ شعیب اختر کے سامنے پیش کیا۔

پبلک پراسیکیوٹر ساجد چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ چاروں ملزمان سے تفتیش مکمل کرلی ہے، استدعا ہے کہ چاروں کو جوڈیشل کردیا جائے، مقتولہ نور مقدم کے والد شوکت مقدم کے وکیل نے بھی ملزمان کو جوڈیشل کرنے کی حمایت کی۔

عدالت نے چاروں ملزمان کو جوڈیشل کرتے ہوئے 10 اگست کو دوبارہ عدالت پیش کرنے کی ہدایت کردی، ملزمان کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ سے ملاقات کی اجازت مانگی جو منظور کرلی گئی۔

یہ بھی پڑھیں :ملزم ظاہر جعفر نے اعتراف جرم کرلیا

دوسری جانب ملزم ظاہر جعفر کے والد اور والدہ نے ضمانت بعد از گرفتاری پر رہائی کی درخواست دے دی۔ ظاہر جعفر کے والد اور والدہ کی درخواست ضمانت پر پولیس کو عدالت نے نوٹس جاری کر دیے۔

سیشن کورٹ نے نور مقدم کے والد کو بھی 30 جولائی کا نوٹس جاری کردیا۔ ایڈیشنل سیشن جج محمد سہیل 30 جولائی کو ظاہر جعفر کے والد، والدہ کی ضمانت کی درخواست سنیں گے۔

دریں اثنا پولیس نے ملزم ظاہر کا کال ریکارڈ حاصل کرلیا۔ تفتیشی ٹیم کے ذرائع کے مطابق ملزم وقوعہ کے روز اپنے والدین سے رابطے میں تھا، ملزم نے والدین کو واقعہ سے متعلق بھی آگاہ کیا، ملزم نے اس دوران چار مرتبہ اپنے والدین سے بات کی جس کا دورانیہ 30 منٹ سے زائد ہے، ملزم کی کال ریکارڈ اور اعترافی بیان کے بعد والدین کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے اس دوران دیگر نمبروں پر بھی کالز کیں جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔