خواتین کا لباس نہیں جنسی زیادتی کرنے والا ہی اپنے جرم کا ذمہ دار ہے، وزیراعظم

ویب ڈیسک  بدھ 28 جولائ 2021
میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا، عمران خان (فوٹو: فائل)

میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا، عمران خان (فوٹو: فائل)

 واشنگٹن: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خواتین کا لباس جیسا بھی ہو، جنسی زیادتی کرنے والا شخص ہی اپنے جرم کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔

امریکی نیوز چینل ’’پی بی ایس‘‘  کے پروگرام نیوز آور کو انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جنسی زیادتی کے واقعات میں متاثرہ خاتون کو قطعی طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ خواتین جیسا بھی لباس پہنیں جنسی زیادتی کرنے والا ہی اپنے فعل کا ذمہ دار ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے مزید کہا کہ میں نے لفظ ’پردہ‘ استعمال کیا تھا اور اسلام میں پردے کا مطلب محض کپڑے نہیں ہیں اور یہ صرف عورتوں کے لیے مخصوص کے لیے بلکہ پردہ مردوں کے لیے بھی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : عورت مختصر کپڑے پہنے گی تو مردوں پر اثر تو پڑے گا، وزیراعظم 

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ میری بات کو سیاق وسباق سے ہٹ کر لیا گیا۔ میں نے کبھی ایسا احمقانہ بات نہیں کی البتہ میں تو پاکستانی معاشرے میں جنسی جرائم میں اضافے پر بات کر رہا تھا جہاں صرف خواتین نہیں بلکہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسلام عورتوں کے احترام کا درس دیتا ہے اور میں نے پوری دنیا دیکھنے کے بعد جانا کہ اسلامی ممالک میں خواتین کو سب سے زیادہ احترام دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں جنسی زیادتی کی تعداد کم ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 23 جون کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر عورت بہت مختصر لباس پہنے گی تو اس کا مردوں کا اثر تو پڑے گا، وہ کوئی روبوٹ تو نہیں ہے جس پر کافی تنقید کی گئی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔