کشمیر میں ریفرنڈم

ڈاکٹر توصیف احمد خان  جمعرات 29 جولائ 2021
tauceeph@gmail.com

[email protected]

وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر کے انتخابات میں اپنی جماعت کے امیدواروں کی کامیابی کے لیے جہاں اور بہت سے اعلانات کیے وہاں ایک اچھوتا اعلان بھی کر ڈالا کہ حکومت پاکستان کشمیریوں کی رائے معلوم کرنے کے لیے دو قسم کے ریفرنڈم کرائے گی۔

ایک ریفرنڈم میں کشمیریوں سے پوچھا جائے گا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں کس کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں، یہ ریفرنڈم اقوام متحدہ کرائے گی۔ دوسرے ریفرنڈم میں کشمیریوں کے سامنے یہ سوال ہوگا کہ وہ پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں یا آزاد ریاست کے طور پر رہنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے ریفرنڈم کے اعلان کو مخالف جماعتوں نے مسترد کیا ہے۔

میاں نواز شریف، مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا یہ بیان پاکستان کی خارجہ پالیسی سے انحراف ہے اور موجودہ حکومت آزاد کشمیر کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی کررہی ہے مگر حزب اختلاف کے وزیر اعظم کے ریفرنڈم کے اعلان کو مسترد کرنے کے مؤقف سے ہٹ کر ریفرنڈم کے اعلان سے سوچ و فکر کے نئے زاویے سامنے آئے۔

اگست 1947کے آزادی ایکٹ کے تحت ہندوستان کا بٹوارہ ہوا۔ بھارت اور پاکستان دو آزاد ریاستوں کے طور پر قائم ہوئے۔ انڈی پنڈنٹ ایکٹ کے تحت ہندوستان کی جن ریاستوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہوگی وہ پاکستان سے الحاق کریں گے اور جن ریاستوں میں ہندوؤں کی اکثریت ہوگی وہ ریاستیں ہندوستان میں شامل ہوںگی۔ کشمیر میں اکثریت مسلمانوں کی تھی مگر راجہ ہندو تھے۔

مسلم لیگ کے منشور میں تحریرکیا گیا تھا کہ جو ریاستیں پاکستان سے الحاق کریں گی ان کی خودمختاری برقرار رہے گی۔ کانگریس کے منشور میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ تمام ریاستیں بھارت میں ضم ہوجائیں گی، یوں مہاراجہ کشمیر کے لیے پاکستان سے الحاق میں ایک خاص قسم کی کشش موجود تھی۔

محققین کا کہنا ہے کہ مہاراجہ اور پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بیرسٹر محمد علی جناح کے درمیان اس مسئلہ پر خط و کتابت جاری تھی کہ اچانک قبائلیوں کا لشکر کشمیر میں داخل ہوا۔ اس لشکر نے بہت سے علاقوں کو آزاد کرایا ، یوں لڑائی کی خبریں آنی شروع ہوئیں۔ بھارت کے اخبارات میں قبائلیوں کے لشکرکی لوٹ مارکی خبریں شائع ہوئیں۔

اس صورتحال میں مہاراجہ کشمیر کو موقع ملا (مہاراجہ لاکھوں مسلمانوں کے قتل عام کا ذمے دار تھا) اس نے بھارتی حکومت سے مدد کی درخواست کی مگر اس وقت کے بھارت کے وزیر داخلہ پٹیل نے شرط عائد کی کہ مہاراجہ بھارت سے کشمیر کے الحاق کی درخواست کرے تو بھارت فوجی کارروائی کرے گا۔ اس طرح بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل ہوئیں اور کشمیر میں زوردار لڑائی شروع ہوگئی۔

بعض صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ گورنر جنرل بیرسٹر محمد علی جناح نے پاکستانی فوج کو کشمیر میں کارروائی کا حکم نہیں دیا تھا۔ بہرحال جب صورتحال زیادہ سنگین ہوئی تو بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کشمیر کے مسئلہ کو اقوام متحدہ میں لے گئے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلسل بحث و مباحثہ کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کی قرارداد منظور ہوئی۔ یوں کشمیر میں پہلی جنگ بندی ہوئی۔

1948میں سلامتی کونسل نے کشمیر کے عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے ریفرنڈم کی قرارداد منظور کی۔ سلامتی کونسل کی یہ قرارداد کشمیر کے پورے تنازعہ کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق یہ Resolution 38(1948) of U.N کہلاتا ہے۔ اس قرارداد کے تحت سلامتی کونسل کو 5 اراکین پر مشتمل ایک کمیشن قائم کرنا تھا جو ریاست جموں و کشمیر میں ریفرنڈم کا انتظام کرے۔

اس قرارداد کے مطابق کشمیر کا انتظام چلانے کے لیے ایک عارضی انتظامی ڈھانچہ قائم ہوتا ، بھارتی حکومت اس انتظامی ڈھانچہ کی مدد کرتی، ہندوستان اور پاکستان کو اپنی فوجیں آزاد جموں کشمیر سے نکالنا تھا۔ اس قرارداد کے تحت آزاد جموں و کشمیر میں ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے ایک غیر جانبداری کمیشن قائم کیا جاتا جو پانچ اراکین پر مشتمل ہوتا۔ کمیشن کے سربراہ کا اختیار اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے سپرد ہوا۔

کمیشن میں بھارت اور حکومت پاکستان کا ایک ایک نمایندے بھی شامل ہونا تھا۔ پاکستان اور بھارت نے سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 38 پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی مگر جنگ بندی کے کچھ عرصہ بعد بھارت نے سلامتی کونسل کی اس قرارداد سے انحراف کرتے ہوئے ریفرنڈم کے لیے سلامتی کونسل سے تعاون سے انکار کیا اور پاکستان نے کشمیر سے اپنے فوجی واپس نہیں بلائے۔ پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر میں ایک حکومت قائم ہوئی۔ بھارت میں 50ء کی دہائی میں کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے کی شق 350 منظور ہوئی تو بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر کو ایک نیم خود مختار علاقہ کی حیثیت حاصل ہوئی۔

بھارت نے اپنا مؤقف مکمل طور پر تبدیل کیا۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنے بیانیہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں، اس بناء پر ریفرنڈم ممکن نہیں ہے، یوں یہ مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقل تنازعہ کی حیثیت اختیار کر گیا۔ بھارت میں انتہاپسند جماعت کے سربراہ اور وزیر اعظم مودی کی حکومت نے گزشتہ سال بھارت کے آئین میں شامل شق 350 کو ختم کیا اور بھارتی پارلیمنٹ میں اکثریتی بنیاد پر آئینی ترمیم منظور ہوئی۔

پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ بھارت اپنے آئین کی شق 350 کو بحال کرکے ریاست جموں و کشمیرکی پرانی حیثیت بحال کرے تاکہ کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکے ، مگر اب وزیر اعظم عمران خان کے اچانک اقوام متحدہ کے تحت ریفرنڈم کے اعلان سے کشمیر کے مسئلہ کے حل کا ایک نیا زاویہ سامنے آیا ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے مطالبہ رہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنوری 1948کی قرارداد کے تحت کشمیر میں ریفرنڈ م کرایا  جائے۔ اس قرارداد کے تحت اقوام متحدہ کو ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے کمیشن بنانا ہوگا اور ایک عارضی ڈھانچہ بنے گا اور پاکستان کو اپنے تمام شہریوں کو کشمیر سے نکالنا ہوگا ۔

بھارت کی مخالفت کے باوجود اگر اقوام متحدہ کشمیر میں ریفرنڈم کرانے پر تیار ہوجاتی ہے تو یہ وزیر اعظم عمران خان کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھی جائے گی۔ دوسری صورت میں حکومت پاکستان کو یہ فریضہ انجام دینا ہوگا۔ معروف کالم نگار اور تحریک انصاف حکومت کے مخالف ایوب ملک کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھی تجویز ہے ۔ گلگت بلتستان کی اسمبلی پہلے ہی گلگت کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی قرارداد منظور کرچکی ہے۔

اگر وزیر اعظم عمران خان کے عزائم بلند رہے تو یہ ریفرنڈم ہوسکتا ہے اور یقینا کشمیری عوام پاکستان سے الحاق کی تجویز کی حمایت کریں گے اور کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ تحریک انصاف کی کشمیر میں حکومت کے قیام کے بعد یہ کام آسان ہوجائے گا۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے ایک دفعہ کہا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کے درمیان ثقافتی روابط کو مضبوط کرنے سے حل ہوسکتا ہے۔

اگر حکومت اس ریفرنڈم کے بعد بھارت سے کشمیریوں کو وادئ کشمیر میں بلا روک ٹوک آمدورفت کی اجازت دینے کا معاہدہ کرپائے تو اس خطہ میں بہت بڑی تبدیلی رونما ہوگی مگر کیا طالع آزما قوتیں ایسا ہونے دیں گی؟ شاید وزیر اعظم کے پاس بھی اس سوال کا جواب نہیں ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔