ایکسپریس فورم؛ افغانستان نئی پاور گیم بن چکا، پاکستان متاثر ہوگا، ماہرین امور خارجہ

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  جمعرات 29 جولائ 2021
امریکا، چین محاذآرائی کا میدان افغانستان ہے،طالبان کو کمزور کرنے کیلیے داعش کو مدمقابل لایا جا رہا ہے، ڈاکٹر عاصم اللہ بخش۔ فوٹو: ایکسپریس

امریکا، چین محاذآرائی کا میدان افغانستان ہے،طالبان کو کمزور کرنے کیلیے داعش کو مدمقابل لایا جا رہا ہے، ڈاکٹر عاصم اللہ بخش۔ فوٹو: ایکسپریس

لاہور: پاکستان کا مفاد پرامن افغانستان میں ہے، اگر افغانستان عدم استحکام کا شکار رہے گا تو اس کا براہ راست نقصان پاکستان کو ہوگا اور سی پیک منصوبے کا مغربی روٹ بھی متاثر ہوگا۔

افغانستان ایک نئی پاور گیم کا مرکز بن چکا ہے۔ امریکا اپنے مفادات کیلیے آج بھی افغانستان میں عدم استحکام چاہتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین امور خارجہ و دفاع نے ’’افغانستان کی موجودہ صورتحال اور خطے کو درپیش چیلنجز‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔

چیئرپرسن شعبہ سیاسیات جامعہ پنجاب پروفیسر ڈاکٹر ارم خالد نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہمارے حکمران اور پالیسی یہ نہیں کہہ سکتے تھے ہم تیار نہیں تھے۔ امریکہ بظاہر افغانستان سے جا رہا ہے مگر اس خطے میں کسی نہ کسی طرح اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔ بھارت کے ہیوی ایئرکرافٹس کی نقل و حرکت معمولی نہیں اگر طالبان افغانستان میں غالب آجاتے ہیں تو پاکستان انہیں قبول کریگا؟ کابل کے حکمران اگر محض کابل کے ہی رہتے ہیں تو پاکستان پر اس کے کیا اثرات ہونگے؟

دفاعی تجزیہ نگار کرنل (ر) فرخ چیمہ نے کہا کہ پاکستان، چین، روس، ایران و دیگر پر مشتمل بلاک امن چاہتا ہے جبکہ دوسرا بلاک جو یہاں سے رسوا ہوکر نکل رہا ہے وہ اس خطے میں کسی نہ کسی طرح اپنی موجودگی رکھنا چاہتا ہے،پاکستان نے افغان بارڈر پر باڑ لگا کر اسے محفوظ بنا لیا ہے۔

ماہر امور خارجہ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش نے کہا کہ اس وقت افغانستان ایک نئی پاور گیم کا مرکز بن گیا ہے، امریکا، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان ایک طرف جبکہ پاکستان، چین، ایران، روس دوسری طرف ہیں، ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ امریکہ، چین کی محاذآرائی کا میدان افغانستان ہے لہٰذا اسے دیکھتے ہوئے ہی پالیسی بنانی چاہئے۔ اگر افغانستان عدم استحکام کا شکار رہے گا تو اس کا براہ راست نقصان پاکستان کو ہوگا۔ خطے کے ممالک نہ حالات خراب کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ تصادم کی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔