گورنر پنجاب نے ارکان پنجاب اسمبلی استحقاق بل مسترد کردیا

ویب ڈیسک  جمعرات 29 جولائ 2021
استحقاق بل میں تجویز کی گئی سزائیں آئین سے متصادم ہیں، گورنر پنجاب

استحقاق بل میں تجویز کی گئی سزائیں آئین سے متصادم ہیں، گورنر پنجاب

 لاہور: گورنر پنجاب چوہدری سرور نے ارکان پنجاب اسمبلی استحقاق بل 2021 کو آئین سے متصادم قرار دے کر مسترد کر دیا۔

ذرائع کے مطابق گورنر نے پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ بل کو اعتراضات کے ساتھ اسمبلی سیکرٹریٹ کو واپس بھجوادیا۔

گورنر نے اعتراضات میں کہا کہ استحقاق بل میں تجویز کی گئی سزائیں آئین سے متصادم ہیں، بل کے تحت اسپیکر اور استحقاق کمیٹی کو دیے گئے اختیارات آئین کے آرٹیکل 66-3 اور 10- اے سے متصادم ہیں، لہذا آئین کے آرٹیکل 8, 10.10اے اور آرٹیکل 25 کے تحت بل کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہے۔

گورنر کے اعتراضات اسمبلی سیکرٹریٹ کو موصول ہوگئے۔ پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ بل پر وزیراعظم ہاؤس اور وزیر اعلی ہائوس نے بھی اعتراض کیا تھا، قیادت کی ہدایت پر گورنر نے استحقاق بل کی منظوری نہیں دی۔

پنجاب اسمبلی نے ایک قانون ’’ پنجاب اسمبلی ممبرز تحفظ استحقاق ترمیمی بل‘‘ پاس کیا تھا جس کا اطلاق بظاہر صحافیوں اور سرکاری افسران پر ہوگا، جس کے تحت اراکین اسمبلی کا استحقاق مجروح کرنے پر صحافیوں اور سرکاری افسران کو موقع پر ہی چھ مہینے قید کی سزا دی جا سکے گی۔

اگر گورنر پنجاب اس بل پر دستخط کردیتے تو یہ باقاعدہ ایکٹ کی شکل اختیار کر لیتا۔ یہ بل پیپلز پارٹی کے رکن مخدوم عثمان نے پیش کیا تھا جس پر حکومت اور اپوزیشن کے کسی رکن نے اعتراض نہیں کیا جس کے نتیجے میں اسمبلی اجلاس میں اس بل کو ایجنڈے پر لائے بغیر اور بغیر بحث کے ہی منظور کر لیا گیا۔

اس قانون کیخلاف صحافتی تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے بھی کیے تھے اور اس قانون کو صحافت پر قدغن قرار دیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔