ماں اک عظیم نعمتِ پروردگار ہے۔۔۔۔!

مولانا سیّد شہنشاہ حسین نقوی  جمعـء 30 جولائ 2021
رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جنّت ماں کے قدموں تلے ہے۔‘‘ ۔  فوٹو : فائل

رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جنّت ماں کے قدموں تلے ہے۔‘‘ ۔ فوٹو : فائل

والدین کا احترام اتنا منفرد ہے کہ اﷲ نے اپنے بعد اگر کسی کی تعظیم کا حکم دیا ہے، تو والدین کی تعظیم کا حکم دیا ہے۔ اپنی عبادت کے بعد اگر کسی کی تعظیم کی بات کی ہے تو والدین کی تعظیم کی بات کی ہے۔ ماں باپ کا مقام بہت بلند ہے۔ احادیث اور روایات کی رُو سے ماں کا مقام تو باپ سے بھی زیادہ بلند ہے۔ ماں کے قدموں تلے اﷲ نے جنّت رکھی ہے۔

عزیزو! ہدایتِ بشر ایک ایسا ضروری امر ہے کہ خداوندِ متعال نے انسان کی خلقت سے پہلے ہادی اور راہ نما کا انتظام فرمایا تاکہ لمحہ بھر کے لیے بھی کوئی ہدایت سے دُور نہ رہ پائے۔ یہ ہدایت کبھی باطنی ہادی (عقل) سے انجام پاتی ہے اور کبھی ظاہری ہادی سے، جو انبیائؑ اور ائمہ ؓ کی صورت میں ہیں۔ اِس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ خود انسان میں بھی وہ راہ ہم وار ہونی چاہیے کہ جس کی بناء پر وہ اِس ہدایت کو سچائی سے قبول کرے۔

ماں تربیت کے مرحلے میں وہ اوّلین درس گاہ ہے کہ جو معاشرے کو اچھے انسان عطا کرسکتی ہے۔ اگر ائمہ ؓ کی مثال لیں تو جنابِ فاطمہ زہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اما م حسنؓ، امام حسینؓ اور جنابِ زینبؓ جیسی شخصیات عطا کیں۔

محترمہ سیّدہ صالحہ تقوی مرحومہ اپنی سدا بہار کتاب ’’مثالی ماں‘‘ میں رقم طراز ہیں:

لفظ ’’ماں‘‘ میں لطافت اور پاکیزگی کی ایک دُنیا موج زن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِس لفظ کے سنتے ہی مہر و وفا کا سمندر نگاہِ تصور میں موج زن ہوجاتا ہے۔ انسان کی پیدائش میں اگرچہ ماں باپ دونوں ہی وسیلہ ہوتے ہیں، لیکن اِس میں ماں کا حصہ زیادہ ہے، اِسی لیے خالقِ دو جہاں نے سورۂ بنی اسرائیل، آیت24 میں ماں باپ کے ادب و احترام کا یوں حکم دیا ہے: ’’اور تمہارے پروردگار کا حتمی فیصلہ ہے کہ اُس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو (اُن کی کسی بات پر) اُف نہ کہنا۔ اُن کو نہ جھڑکنا، اُن سے شائستہ (طریقے سے) بات کرنا اور اُن کے سامنے اپنے بازوؤں کو اطاعت کے ساتھ انکساری سے جھکائے رکھنا اور خداوندِ عالم سے دُعا کرنا: اے پالنے والے! اِن دونوں پر رحم فرما، جس طرح انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی۔‘‘

اﷲ نے جوان والدین کے لیے نہیں کہا کہ انہیں اُف بھی نہ کہنا، اِن کے سامنے کندھے جھکا کر رکھنا۔ جسمانی زبان سمجھنے والے بہتر جانتے ہیں کہ جب سر جھکتا ہے تو کندھے بھی جھکتے ہیں، اِس لیے نہیں کہا کہ جوانی میں تو یہ خود ہی نبٹ لیں گے، جب یہ دونوں یا اِن میں سے کوئی ایک عمر رسیدہ ہوجائیں، تب قرآنی آیات کی رُو سے یہ ہدایت کی گئی ہے۔ اﷲ جانتا تھا کہ اِس عمر میں انہیں توجّہ اور دل داری کی زیادہ ضرورت ہوگی، اِس لیے یہ فرامین صادر فرمائے اور اُن کے لیے ہمیں بہترین اور جامع دُعا بھی تعلیم فرمائی۔ یہ بھی یقیناً مالکِ کائنات کا ہم پر احسانِ عظیم ہے۔

سورۂ لقمان میں تو ماں کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے، مفہوم: ’’اور ہم نے انسان کو اُس کے ماں باپ کے بارے میں وصیت کی، اُس کی ماں نے سختیاں اور رنجشیں جھیل کر اس کا بوجھ اُٹھایا اور دو سال تک اسے دُودھ پلایا۔ (اے انسان!) میرا بھی شُکر ادا کر اور اپنے ماں باپ کا بھی اور (تم سب کی) بازگشت میری ہی طرف ہے۔‘‘

دینِ اسلام وہ واحد مکتب ہے جس نے عورت کو بہ حیثیت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہر رُوپ میں اعلی مقام بخشا ہے۔ قرآن کریم کا ’’سورۃ النساء‘‘ عورت کے ساتھ مخصوص کردیا گیا، جس میں عورتوں کے حقوق کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ عورت ہی ہے کہ ایک مثالی ماں بن کر معاشرے کا مؤثر عضو ثابت ہوتی ہے۔

ہمارے تمام ائمہ ؓنے بھی عورت کے حقوق کے بارے میں تاکید فرمائی۔ حضرت زہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی ذاتِ کامل ہماری ماؤں، بہنوں سب کے لیے نمونۂ عمل ہے۔ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے تو بی بی فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی محبتّوں اور رافتوں کی بناء پر ’’اُمِّ ابیھا‘‘ کا لقب عطا کیا تھا۔ آپؐ فرماتے ہیں: ’’جنّت ماں کے قدموں تلے ہے۔‘‘

آئیے! اِس بے درد معاشرے میں امیر المومنین، امام المتّقین حضرت علی مرتضیٰ کرم اﷲ وجہہٗ کی آفاقی اور دائمی تعلیمات سے راہ نمائی حاصل کرتے ہیں، آپؓ فرماتے ہیں: ’’اے فتنے والو! اپنی سرمستیوں سے ہوش میں آؤ، غفلت سے آنکھیں کھولو۔ اِس دُنیا کی دوڑ دھوپ کو کم کرو اور جو باتیں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی زبانِ مُبارک سے پہنچی ہیں، اُن پہ اچھی طرح غور کرو کہ اُن کے علاوہ نہ کوئی چارہ ہے اور نہ کوئی گریز کی راہ۔ جو اُن کی خلاف ورزی کرے، تم اُس سے دوسری طرف رُخ پھیر لو اور اسے چھوڑ دو کہ وہ اپنے نفس کی مرضی پر چلتا رہے۔

فخر کے پاس نہ جاؤ اور بڑائی کے سر کو نیچا کرو۔ اپنی قبر کو یاد رکھو کہ تمہارا راستہ وہی ہے، اور جیسا کرو گے ویسا ہی پاؤ گے۔ جو بوؤ گے وہی کاٹو گے۔ جو آج بھیجو گے، وہی کل پاؤ گے۔ آگے کے لیے کچھ تیاری کرو اور اُس دن کے لیے کچھ سامان تیار رکھو۔ اے سننے والو! ڈرو، ڈرو! اے غفلت کرنے والو! کوشش کرو، کوشش کرو۔ خبر رکھنے والا جو تمہیں بتائے گا، وہ کوئی دوسرا نہیں بتا سکتا ہے۔‘‘ (نہج البلاغہ)

روایت میں ہے کہ حضرت امام علی ؓ بن الحسین ؓ سے پوچھا گیا، آپ تمام لوگوں سے نیک ہیں، لیکن آپ اپنی ماں کے ساتھ دستر خوان پر کھانا کیوں نہیں کھاتے، جب کہ آپ ان کے ساتھ تشریف فرما ہوتے ہیں۔ (بعض راویوں نے یہ روایت کی ہے کہ امام ؓ کی والدہ آپ کی ولادت کے چند ہی دنوں بعد وفات پاگئی تھیں اور اِس روایت میں ماں سے مراد وہ خاتون ہیں جنہوں نے آپ کی پرورش کی تھی)

آپ ؓ نے ارشاد فرمایا: ’’میں یہ بات ناپسند کرتا ہوں کہ جس لقمے کو انہوں نے اپنے لیے پسند کیا ہے، میرا ہاتھ اُن سے پہلے اُس کی طرف نہ بڑھ جائے، اِس طرح کہیں میں عاق اور نا فرمان شمار نہ ہوجاؤں۔‘‘ اِس کے بعد برتن کو ڈھانپ دیا جاتا تھا اور آپ طبق کے نیچے ہاتھ ڈال کر کھانا اُٹھاتے اور تناول فرماتے۔ (بحارالانوار)

بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی آغوش ہے۔ ماں جتنی نیک اور دِین دار ہوگی ، ایسے ہی اثرات بچے میں آئیں گے۔ بعض اوقات اِس کے برعکس بھی ہوتا ہے، البتہ تربیتِ اولاد کا خیال رکھنا بچے کی ولادت سے پہلے، بل کہ شادی کے لیے رشتے کے انتخاب کے وقت سے نہایت ضروری ہے۔

روز مرہ کا مشاہدہ ہے، ہم معاشرے میں ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھتے ہیں جن کے والدین (ماں باپ دونوں یا بڑھاپے میں کوئی ایک) آخری وقت میں اُن سے خوش رہے، راضی رہے، اُن کی زندگی مثالی زندگی نظر آتی ہے، اِس لیے کہ والدین ہمیشہ نہیں رہتے، لیکن اُن کی دِلی دُعائیں ہمیشہ کارگر رہتی ہیں۔ اِس کے برعکس جن والدین کی اولادوں نے اُن کے ساتھ نیک برتاؤ روا رکھنے میں سستی اور کوتاہی کی، وہ ساری زندگی پریشان ہی رہے، سکون کو ترستے رہے۔

اﷲ ربّ العزت ہم سب کو تمام تر دینی تعلیماتِ حمیدہ پہ خلوصِ دل سے عمل کرنے کی توفیق کرامت فرمائے، تاکہ ہماری زندگی سعادت مند، نیک اور کام یاب زندگی قرار پائے۔ آمین

ڈاکٹر آغا مسعود رضا خاکی کا اشعار ملاحظہ فرمائیے!

ماں رحمتِ خدا کی مکمل دلیل ہے

ماں آئینہ دارِ قدرتِ ربِّ جلیل ہے

ابرِ کرم ہے، جذبۂ اُلفت کی جھیل ہے

ماں اصل میں خلوص کی اِک سلسبیل ہے

باغِ حیات کے لیے فصلِ بہار ہے

ماں غم کی دُھوپ میں شجرِ سایہ دار ہے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔