ایثار و قربانی

علامہ محمد تبسّم بشیر اویسی  جمعـء 30 جولائ 2021
’’جو رزق تجھے عطا کیا گیا ہے اسے چُھپا کر نہ رکھ اور جو کچھ تجھ سے مانگا جائے اس میں بخل سے کام نہ لے۔‘‘

’’جو رزق تجھے عطا کیا گیا ہے اسے چُھپا کر نہ رکھ اور جو کچھ تجھ سے مانگا جائے اس میں بخل سے کام نہ لے۔‘‘

ﷲ تعالیٰ کی رضا کے پیش نظر دوسروں کی ضرورت کو اپنی ذاتی حاجت پر ترجیح دینا ایثار کہلاتا ہے۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کا تعلق دل اور نیّت سے ہے کیوں کہ جب کوئی اپنی ضرورت کو پس پشت ڈال کر دوسرے کی ضرورت کو پورا کرتا ہے تو اس وقت اﷲ اس سے راضی ہوتا ہے اور اس کا وہ فعل بارگاہ رب العزت میں بڑا مقبول ہوتا ہے۔ اس لیے اسلام میں اس کی بے پناہ فضیلت ہے۔

قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے ایثار کو اہل مدینہ کا و صف قرار دیا ہے کیوں کہ مسلمان جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آئے تو وہاں پہلے سے رہنے والوں نے مہاجرین کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا جس میں جذبۂ ایثار قدم قدم پر نمایاں نظر آتا ہے ۔ درحقیقت خود ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی انہوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کی ہر لحاظ سے مدد کی اس لیے اﷲ کو ان کا ایثار بہت پسند آیا۔

ایثار اہل تقویٰ کا وصف ہے۔ ایثار کے متعلق ارشاد باری تعالی کا مفہوم: ’’جب تک تم اپنی پیاری چیزوں سے خرچ نہ کرو، بھلائی ہرگز حاصل نہیں کرسکتے۔‘‘ (آلعمران)

اس آیت میں ایثار کی تعریف بڑے عمدہ طریقے سے بیان کی گئی ہے۔ اس لیے رضائے الہٰی کے لیے پسندیدہ مال و متاع جسم و جان اور جاہ و منصب وغیرہ کے ایثار سے دریغ نہیں کرنا چاہیے ۔ نبی اکرم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم: ’’بلاشبہ صدقہ (خیرات) اﷲ کے غضب کو ٹھنڈا کر دیتا اور برُی موَت سے بچا تا ہے۔‘‘ (ترمذی شریف)

نبی اکرم ﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم: ’’بیوہ عورتوں اور حاجت مندوں کی مدد کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا اجر و ثواب میں مجاہد فی سبیل اﷲ کی طرح ہے۔‘‘ مسلم شریف

’’بلاشبہ اﷲ تعالیٰ بے حد سخی ہے۔ سخاوت کو پسند فرماتا ہے اور عمدہ اخلاق کو پسند فرماتا ہے اور گھٹیا اور نکمّے اخلاق کو بُرا جانتا ہے۔‘‘ (بیہقی)

’’اے ابن آدم! تیرے لیے ضرورت سے زاید مال کا خرچ کردینا بہتر ہے اور اسے روکے رکھنا بُرے نتائج کا حامل ہے۔‘‘ (مسلم۔ ترمذی)

’’اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے ابن آدم! تو (مستحقین پر راہِ خدا میں) خرچ کر۔ میں تجھ پر خرچ کروں گا۔‘‘ (بخاری)

’’جہنّم کی آگ سے بچو! اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑا (کے خیرات کرنے) سے ہی ہو اور اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کہہ کر بچو۔‘‘ (بخاری و مسلم)

حضرت بلالؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’جو رزق تجھے عطا کیا گیا ہے اسے چھپا کر نہ رکھ اور جو کچھ تجھ سے مانگا جائے اس میں بخل سے کام نہ لے۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’یارسول اﷲ ﷺ! یہ کیسے ہو سکے گا؟‘‘ فرمایا: ’’یا تو یہ روش اختیار کرنی ہوگی یا جہنّم کا ایندھن بننا پڑے گا۔‘‘

(طبرانی فی الکبیر، ابن حبان، حاکم )

سرکار دو عالم ﷺ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا: ’’ صدقہ دو۔‘‘ ایک شخص نے عرض کیا: ’’یارسول اﷲ ﷺ! میرے پاس ایک دینار ہے؟ فرمایا: ’’اس کو اپنی جان پر خرچ کر۔‘‘ اس نے عرض کیا: میرے پاس ایک اور ہے ؟ فرمایا: ’’اس کو اپنی بیوی پر خرچ کر۔‘‘ وہ بولا: میرے پاس ایک اور ہے؟ فرمایا: ’’اس کو اپنی اولاد پر خرچ کر۔‘‘ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے ؟ فرمایا: ’’اس کو اپنے خادم پر خرچ کر۔‘‘ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے ؟ ’’فرمایا: ’’اس کی نگاہ تجھے زیادہ ہے۔‘‘ (یعنی جہاں اچھا موقعہ دیکھو وہاں خرچ کرو۔) (ابو داؤد)

سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جس بستی میں کسی شخص نے اس حال میں صبح کی کہ وہ رات بھر بھوکا رہا۔ اس بستی سے اﷲ کی حفاظت و نگرانی کا وعدہ ختم ہوگیا۔‘‘(مسند امام احمد)

حضرت خدیجہؓ نے آپؐ کے ایثار کے بارے میں ایک مرتبہ بیان فرمایا، مفہوم: ’’آپؐ تعلق کو جوڑتے اور ناتواں کا بوجھ اپنے اوپر لے لیتے اور جو چیز ان کے پاس نہیں ہوتی وہ لا کر انہیں دیتے اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے اور مشکل میں حق دار کی مدد کرتے۔‘‘ (بخاری)

حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں غزوہ ٔ تبوک کے موقع پر رسول اﷲ ﷺ نے ہمیں حکم دیا: ’’لشکر مجاہدین کی تیاری کے لیے ایثار کریں۔‘‘ حضور ﷺ کے اس فرمان سے مجھے نہایت مسرت ہوئی۔ اس لیے کہ ان دنوں میں کافی مال دار تھا۔ میں نے دل میں کہا: ’’آج میں اس کارِ خیر میں ابوبکرؓ پر ضرور سبقت لے جاؤں گا۔ کیوں کہ اس سے پہلے میں کبھی بھی ان پر سبقت حاصل نہ کر سکا تھا۔ میں خوشی خوشی اپنے گھر آیا اور اپنے تمام مال کا نصف حصہ لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’اے عمر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’یارسول اﷲ ﷺ! جس قدر مال لایا ہوں اسی قدر اپنے گھر والوں کے لیے چھوڑ آیا ہوں۔‘‘

دریں اثناء حضرت ابو بکر صدیقؓ بھی آگئے اور اس شان سے آئے کہ اپنا تمام مال و متاع اور گھر کا سارا سازو سامان اٹھا کر لے آئے تھے۔ حضور اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’اے ابُوبکر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو۔؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’یارسول اﷲ ﷺ ! میں اپنے گھر والوں کے لیے اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کو چھوڑ آیا ہوں۔‘‘ یہ ماجرا سُن کر میں کہہ اٹھا: ’’ابوبکر صدیقؓ پر میں کسی کارِ خیر میں ہرگز سبقت حاصل نہیں کر سکتا۔‘‘

جب سرکار دو عالم ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے اور مکہ سے اصحاب رسولؐ بھی ہجرت کر کے آگئے تو میٹھے پانی کی حضور ﷺ اور صحابہ کو بڑی تکلیف تھی۔ صرف ایک میٹھا کنواں تھا، جس کا نام ’’بیر رومہ‘‘ تھا اور یہ کنواں ایک یہودی کے قبضے میں تھا۔ وہ اس کا پانی جس قیمت میں چاہتا بیچتا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جو شخص اس کنویں کو خرید کر اﷲ کی راہ میں وقف کر دے اس کو جنّت ملے گی۔‘‘ حضرت عثمان غنیؓ نے اس کنویں کو خرید کر وقف کر دیا۔

جب مشرکینِ مکہ کی ایذا رسانی حد سے بڑھ گئی تو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم ِ خداوندی آگیا۔ حضور اکرم ﷺ خود سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کو ہم راہ لے کر عازم مدینہ ہوئے۔ چوں کہ صادق و امین ﷺ کے پاس اہل مکہ کی امانتیں رکھی تھیں، اس لیے آپ ﷺ نے سیّدنا علی کرم اﷲ وجہہ کو حکم دیا کہ لوگوں کی امانتیں واپس کرکے مدینہ چلے آنا۔ بسترِ رسول ﷺ پر سونے کا اعزاز کسی اور صحابیؓ کے حصے میں نہ آیا۔ ہجرت کے موقع پر حضرت علیؓ حضور ﷺ کے بستر پر اس لیے سو رہے تاکہ اگر دشمن حضور ﷺ کو (نعوذ باﷲ) قتل کرنے کی کوشش کریں تو وہ آپ ﷺ کی خاطر قربان ہو جائیں۔ ہجرت کی شب بستر نبویؐ پر آپؐ کی چادر اوڑھ کر سونا اور لوگوں کی امانتوں کی بہ حفاظت سپردگی آپؓ کی جاں نثاری اور ایثار کا ایک بے مثال اور نادر واقعہ ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔