بیٹیاں؛ خدمت کا استعارہ

مولانا عماد الدین عندلیب  جمعـء 30 جولائ 2021
اسلام نے اُن کی پیدائش کو مصیبت و ذلّت سمجھنے سے منع کیا ہے اور اسے کافروں اور مشرکوں کا فعل اور اُن کا شعار قرار دیا ہے

اسلام نے اُن کی پیدائش کو مصیبت و ذلّت سمجھنے سے منع کیا ہے اور اسے کافروں اور مشرکوں کا فعل اور اُن کا شعار قرار دیا ہے

زمانہ قبل از اسلام کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت عالم انسانیت مختلف قسم کی معاشرتی و اخلاقی بیماریوں سے دوچار تھا، تعلیم و تربیت کا فقدان تھا، ظلمت و جہالت عروج پر تھی، غربت و افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے تھے، ایسے میں ظالمانہ و جاہلانہ رسومات کا جنم لینا ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے۔

ایسی ہی جاہلانہ رسومات میں سے ایک قبیح رسم بعض قبیلوں میں بیٹی کو زندہ درگور کرنے کی بھی تھی، اِس رسم کی بنیاد بے جا غیرت پر مبنی تھی کہ کل کسی کو بیٹی دینی نہ پڑے، کوئی ہمارا داماد بن نہ سکے، کسی کے سامنے ہماری نظریں جھک نہ سکیں، اِس لیے جو بھی بیٹی کسی کے گھر میں پیدا ہوتی وہ اسے زندہ زمین میں دفن کردیتا۔

قرآنِ مجید نے اِن ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے، مفہوم: ’’اور جب اُن میں سے کسی کو بیٹی کی (پیدائش) کی خُوش خبری دی جاتی ہے تو اُس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے، اِس خُوش خبری کو بُرا سمجھ کر لوگوں سے چُھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے کہ) ذلت برداشت کرکے اسے اپنے پاس رہنے دے، یا اسے زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو! انہوں نے کتنی بُری باتیں طے کررکھی ہیں ۔‘‘ (سورۃ النحل) دوسری جگہ فرمایا ہے، مفہوم: ’’اور جس بیٹی کو زندہ زمین میں گاڑ دیا گیا تھا، اُس سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا؟‘‘ (سورۃ التکویر)

اسلام نے جب دُنیا میں اپنی کرنیں بکھیرنی شروع کیں اور اُس کو تمام مذاہب پر غلبہ نصیب ہوا تو اُس نے ساری دُنیا کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ اس نے زمانۂ جاہلیت کی رسومات کو توڑا، لوگوں کو ظلمت و جہالت سے نکالا، اُن کی صحیح تعلیم تربیت کی، اور اُنہیں انسانیت کا کھویا ہوا مقام واپس دلایا۔ زمانۂ جاہلیت میں بیٹی کو جتنا منحوس اور نامبارک خیال کیا جاتا تھا، اسلام نے اُتنا ہی اُس کو خوش قسمت اور بابرکت بتایا۔

احادیث کی روشنی میں حضورِ اقدس ﷺ کے ارشادات سے ہمیں یہ راہ نمائی ملتی ہے۔

مفہوم: ’’جس شخص نے اپنی بیٹی کو زندہ درگور نہیں کیا، نہ ہی اُس کو ذلیل سمجھا اور نہ ہی بیٹے کو اُس پر مقدم کیا تو ایسے شخص کو اﷲ تعالیٰ جنّت میں داخل فرمائیں گے۔‘‘ (سنن ابی داؤد)

حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’وہ عورت مبارک ہوتی ہے جس کی پہلی اولاد بیٹی ہو۔‘‘ (روح البیان)

’’جس شخص کے یہاں دو بیٹیاں پیدا ہوئیں اور جب تک وہ اُس کے پاس رہیں اُس نے اُن کے ساتھ بھلائی کی، تو یہ اُس کو جنّت میں لے جائیں گی۔‘‘ (مستدرک حاکم)

’’جس شخص نے دو یا تین بیٹیوں یا دو یا تین بہنوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں یا مر گئیں تو میں اور وہ جنّت میں ایسے ہوں گے جس طرح دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔‘‘ (صحیح ابن حبان)

’’جس شخص نے دو بیٹیوں کی پرورش کی تو وہ اور میں اِس طرح جنّت میں داخل ہوں گے جس طرح یہ دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔‘‘ پھر آپؐ نے دونوں اُنگلیوں کو ملا کر بھی دکھایا۔ (جامع ترمذی)

’’اگر کوئی شخص بیٹیوں کی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور پھر اُس نے خوش دلی کے ساتھ اُن کی پرورش کی اور اُن پر احسان کیا تو یہ بیٹیاں جہنّم کی آگ سے اُس کے لیے آڑ بن جائیں گی۔‘‘ (بخاری و مسلم)

حضرت عائشہؓ کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی، اُس کے ساتھ اُس کی دو بیٹیاں تھیں، حضرت عائشہؓ نے اُس عورت کو تین کھجوریں دیں، اُس نے ایک ایک کھجور تو اپنی دونوں بیٹیوں کو دے دی اور تیسری خود کھانا چاہتی تھی، لیکن بیٹیوں نے وہ بھی مانگ لی، اُس عورت نے اُس کھجور کے دو ٹکڑے کرکے وہ بھی آدھی آدھی اُن دونوں بیٹیوں کو دے دی۔ حضور ِاقدس ﷺ کو جب اِس واقعہ کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اِس عورت کو جہنّم سے آزاد کردیا گیا ہے اور اِس پر جنّت واجب ہوچکی ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)

امام ابوالفرج اصفہانی نے اپنی کتاب ’’الاغانی‘‘ میں بیٹیوں کے زندہ درگور کرنے کے خاتمے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’بیٹیوں کو سب سے پہلے زندہ درگور کرنے سے روکنے کا والا شخص صعصعہ بن ناجیہ فرزدق کا دادا ہے۔‘‘

صعصعہؓ سلیم الفطرت اور درد مند تھے۔ زمانۂ جاہلیت میں جب کہ سارے عرب میں دختر کشی عام تھی اور لوگ لڑکیوں کو ننگِ قرابت سے بچنے کے لیے زندہ دفن کر دیا کرتے تھے۔ صعصعہؓ کی آغوش محبت لڑکیوں کی پرورش کے لیے کھلی تھی اور وہ دوسروں کی لڑکیوں کو خرید کر پالتے تھے۔ وفد تمیم کے ساتھ مدینہ آئے، آنحضرتؐ نے اسلام پیش کیا، صعصعہؓ نے بلاتامل قبول کر لیا۔ قبول اسلام کے بعد آپؐ سے کچھ آیات قرآنی حاصل کیں۔ پھر پوچھا: یارسول اﷲ ﷺ میں نے جاہلیت میں جو اچھے کام کیے ہیں، وہ قبول ہوں گے، اور مجھ کو ان کا اجر ملے گا ؟ رسول کریمؐ نے فرمایا: کون سے اعمال کیے ہیں؟ عرض کیا: ایک مرتبہ میری دس ماہ کی دو حاملہ اونٹنیاں گم ہوگئیں، میں ایک اونٹ پر سوار ہوکر ان کی تلاش میں نکلا، راستے میں دو مکان دکھائی دیے، میں ان میں گیا، ایک مکان میں ایک پیر مرد نظر آیا، اس کی مجھ سے باتیں ہونے لگیں۔ اتنے میں گھر سے آواز آئی کہ اس کے گھر میں ولادت ہوئی ہے۔ اس نے پوچھا: کون بچہ ہوا؟ معلوم ہُوا لڑکی۔ اس نے کہا: اس کو دفن کردو۔ میں نے کہا: دفن نہ کرو، میں اس کو خریدتا ہوں۔ چناں چہ میں نے اس کو دو اونٹنیاں بچوں سمیت اور اپنی سواری کا اونٹ دے کر وہ لڑکی لے لی، اس طرح سے ظہور اسلام تک میں نے تین سو سے زاید دفن ہونے والی لڑکیوں کو فی لڑکی دس مہینے کی دو حاملہ اونٹنیاں اور ایک اونٹ دے کر خریدا، اس کا مجھے کوئی اجر ملے گا؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: تم کو خدا نے اسلام کے شرف سے سرفراز کیا ہے، اس لیے ان تمام نیکیوں کا اجر ملے گا۔ صعصعہؓ کے اعمال حسنہ محض لڑکیوں کو بچانے تک محدود نہ تھے، بل کہ وہ غرباء پرور بھی تھے اور غریبوں اور محتاجوں کے لیے ان کا دستِ کرم ہمیشہ دراز رہتا تھا، اپنی ضروریات سے جو کچھ بچتا تھا، اسے وہ پڑوسیوں اور مسافروں میں تقسیم کردیتے تھے۔

افسوس! بیٹی کو منحوس اور نامبارک سمجھی جانے والی زمانۂ جاہلیت کی یہ قبیح اور بُری رسم آج ہم کچھ مسلمانوں میں در آئی ہے، کیا یہ بات درست نہیں ہے کہ ہم میں سے مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد بیٹی کی پیدائش کو اچھا نہیں سمجھتی، اُس سے تنگ دل ہوتی ہے، اُس کو بوجھ سمجھتی ہے، اور اُس کو انتہائی حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے، حالاں کہ اکثر و بیشتر مشاہدہ میں آتا رہتا ہے کہ بیٹوں کی بہ نسبت بیٹیاں ماں باپ کی زیادہ خدمت  کرتی ہیں، اُن کی اطاعت و فرماں برداری میں بیٹوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں، اُن کے مر جانے کے بعد اُن کے لیے پڑھ کر اور اُن کی طرف سے صدقہ و خیرات کرکے بیٹوں کے مقابلے میں اُن کو زیادہ ثواب پہنچاتی ہیں، تو پھر بیٹیوں کی پیدائش سے ہم کیوں پریشان ہوں، اُن کے وجود کو ہم کیوں بوجھل سمجھیں اور اُن کی تعلیم و تربیت اور اُن کی پرورش سے ہم کیوں تہی دامنی کا ثبوت دیں؟ بالخصوص جب کہ اسلام نے اُن کی پیدائش کو مصیبت و ذلّت سمجھنے سے منع کیا ہے اور اسے کافروں اور مشرکوں کا فعل اور اُن کا شعار قرار دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔