کشمیریوں کو وعدوں کے مطابق مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جائے، یورپی ارکان پارلیمنٹ

نمائندہ ایکسپریس  ہفتہ 31 جولائ 2021
بدامنی کے نتیجے میں بھارتی ، پاک افواج کے مابین تناؤ بڑھا ،غلط اندازے کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں ۔  فوٹو : فائل

بدامنی کے نتیجے میں بھارتی ، پاک افواج کے مابین تناؤ بڑھا ،غلط اندازے کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں ۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد: یورپین پارلیمنٹ کے 16ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پراظہار تشویش کیا ہے۔

یورپین پارلیمنٹ کے 16ارکان نے یورپی کمیشن کی صدرارسلا وان ڈرلین اورنائب صدر جوزف بوریل کو خط لکھ کر انکی توجہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال کی طرف دلائی ہے، جسے ہیومن رائٹس واچ ورلڈرپورٹ2021ء اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے ہیومن رائٹس کی2018ء -2019ء کی رپورٹ کاحصہ بنایاگیا ہے۔

2019ء میں بھارتی زیرتسلط وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے لاک ڈاؤن کا شکار ہے،جس کے تحت نقل وحرکت، معلومات تک رَسائی، صحت، تعلیم اور آزادی اظہار پر پابندی ہے،جس کی شدت میں کووڈ 19کی وباسے اضافہ ہوا ہے۔

کشمیریوں کی حمایت میں آواز اٹھانے اورصورتحال کی مذمت کرنے پرصحافیوں اور انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کونشانہ بنایا جاتاہے۔ لوگوں کو عقوبت خانوں میں ڈالا جاتا ہے،عوامی اجتماع پر پابندی ہے، نوجوانوں اورارکان اسمبلی سمیت سیکڑوں لوگ زیر حراست ہیں۔

بدقسمتی سے گزشتہ برسوں میں بھارتی حکومتیں دہشت گردی اور علیحدگی روکنے کیلئے قوانین کا کشمیریوں کیخلاف غلط استعمال کرتی رہی ہیں۔ انسانی بحران کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر سے جنوبی ایشیاء کے امن، استحکام اور سکیورٹی کوشدید خطرہ لاحق ہے،اس کے باعث دو ایٹمی ملکوں کے درمیان آگ بھڑکنے کا خدشہ ہے،ہم فکرمند ہیں کہ کسی بھی غلط اندازے کے خطرناک نتائج لاحق ہوسکتے ہیں۔

وہاں نازک سکیورٹی صورتحال مزیدبدتر ہوئی ہے کیونکہ مقامی آبادی مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور متضاد ہندوستانی شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کر رہی ہے،جس سے وادی میں بدامنی کی صورتحال پیدا ہو چکی،جس کے نتیجے میں بھارتی اور پاک افواج کے مابین تناؤ بڑھا ہے۔

خط میں مزید کہاگیا ہے کہ جناب صدر صاحب،عالمی انسانی حقوق کے چیمپئن کی حیثیت سے یورپی یونین کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز اْٹھانا ہو گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یورپی یونین کو عالمی برادری کے ذریعے کشمیریوں سے کئے گئے وعدوں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لئے ساز گار ماحول پیدا جبکہ پاکستانی اوربھارتی شراکت داروں کے ساتھ ہرممکن تعاون کیلئے اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانا ہو گا۔

خط میں کہاگیاکہ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کی حیثیت سے ہم بھارت اور پاکستان کی پارلیمنٹس کے ساتھ ساتھ کشمیری رہنماؤں کے ساتھ اپنی کاوشیں جاری رکھنے کا عزم کا اظہار کر تے ہیں تاکہ خطے میں امن و امان اور بات چیت کے ماحول کو فروغ دیا جاسکے۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ کشمیریوں کی آوازیں سنی جائیں، ان کی خواہشات پرعمل کرتے ہوئے انھیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آپ پرصدر اور نائب صدر ہونے کی حیثیت سے ہم یورپی یونین کی طرف سے زور دیتے ہیں کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کی خلاف ورزیوں پر ہماری شدید تشویش بھارتی حکومت کو پہنچائی جائے، بدترین صورتحال کے خاتمے کیلئے فوری کارروائی کی جائے،خطے کے استحکام،کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلے کے پرامن حل ، پاکستان، بھارت اور کشمیریوں نمائندوں کے درمیان مکالمے کیلئے اپنے تعلقات کواستعمال کیا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔