محکمہ کو آپریٹو جعلی بھرتیوں اور کرپشن کی تحقیقات سرد خانے کی نذر

اسٹاف رپورٹر  اتوار 26 جنوری 2014
چیف منسٹر کے احکام نظر انداز،کرپٹ افسران کے سامنے اینٹی کرپشن پولیس بھی بے بس فوٹو : فائل

چیف منسٹر کے احکام نظر انداز،کرپٹ افسران کے سامنے اینٹی کرپشن پولیس بھی بے بس فوٹو : فائل

کراچی: محکمہ کوآپریٹو میں ہونے والی جعلی بھرتیوں اور اربوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات کے معاملے کو سرد خانے کی نذر کردیا گیا ہے ۔

اس ضمن میں وزیراعلیٰ سندھ کے احکام کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے ابھی تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے محکمہ کو آپریٹو میں ہونے والی کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے لیے اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کو خصوصی ہدایت جاری کی تھی اور ساتھ ہی وفاقی حکومت سے درخواست کی تھی کہ فوری طور پر سیکریٹری کو آپریٹو میر اعجاز تالپور کو معطل کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ کی درخواست پر وفاقی حکومت نے مذکورہ سیکریٹری کو معطل کرکے 3 ماہ میں کرپشن کی تفصیلات متعلقہ اداروں سے طلب کی لیکن اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے کروڑوں روپے کے فنڈز میں خورد برد ، مختلف سوسائٹیوں میں موجود یتیموں ، بیوائوں اور غریب افراد کی الاٹمنٹ منسوخ کرکے مبینہ بھاری رشوت لے کر دیگر افراد کو الاٹ کرنے،غیر قانونی طریقے سے ٹرانسفر ، اور جعلی طریقے سے  نیلام کرکے لینڈ مافیا کے کارندوں کو سوسائٹیوں کے قبضے دینے کے الزامات کے علاوہ محکمہ میں جعلی بھرتیوں ، مختلف سوسائٹیوںکے ایڈمنسٹریٹرز کی تبدیلی کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن تا حال محکمہ اینٹی کرپشن نے اس ضمن میں کوئی کارروائی نہیں کی ہے ۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کی جانب سے میر اعجاز تالپور کو معطل کیے جانے کے باوجود مذکورہ افسر کی خدمات ابھی تک وفاق کے حوالے نہیں کی ہیں بلکہ اس ضمن میں ایک دوسرا خط تحریر کیا ہے جس میں پھر وفاقی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ مذکورہ افسر کے بارے میں لکھا گیا سابقہ خط غیر موثر سمجھا جائے اور اب مذکورہ افسر سندھ حکومت میں ہی فرائض انجام دیں گے۔

ذرائع کے مطابق سندھ کی بعض طاقتور شخصیات مذکورہ افسر کے خلاف کارروائی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اورمحکمہ اینٹی کرپشن سمیت دیگر تمام سرکاری مشینری اس ضمن میں بے بس نظر آتی ہے ، ذرائع سے مزید معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ افسر کو ہی دوبارہ کو آپریٹو ڈپارٹمنٹ میں سکریٹری تعینات کرنے کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں اور اس ضمن میں وفاقی حکومت سے مذکورہ افسر کو بحال کرانے کے لیے لابنگ شروع کردی گئی ہے تاکہ معطلی کا حکم واپس ہونے کے بعد مذکورہ افسر کو دوبارہ محکمہ کو آپریٹو کا سیکریٹری تعینات کیا جاسکے، مذکورہ سیکریٹری نے 2 درجن سے زائد کو آپریٹو سوسائٹیوںمیں وزیراعلیٰ سندھ (متعلقہ وزیر ) کی منظوری کے بغیر ہی ایڈمنسٹریٹر تبدیل کردیے تھے جن کی مدد سے بڑے پیمانے پر کرپشن کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے مذکورہ افسر کو معطل کرنے اور محکمہ اینٹی کرپشن سے تحقیقات کی ہدایت کی تھی ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔