کورونا وائرس ماسک اور دستانوں سے پاکستانی ساحل اور سمندر آلودہ ہونے لگے

آفتاب خان  اتوار 8 اگست 2021
پاکستانی سمندروں میں متروک ماسک اور دستانوں کی بڑی تعداد شامل ہورہی ہے جو پلاسٹک کےبعد مزید آلودگی پیدا کرے گی۔ فوٹو: بشکریہ آفتاب خان

پاکستانی سمندروں میں متروک ماسک اور دستانوں کی بڑی تعداد شامل ہورہی ہے جو پلاسٹک کےبعد مزید آلودگی پیدا کرے گی۔ فوٹو: بشکریہ آفتاب خان

کراچی: کورونا وائرس کے حفاظتی ماسک اور دستانے اب ساحلوں اور سمندروں کو آلودہ کرکے نہ صرف انسانوں بلکہ بے زبان سمندری حیات کے لیے شدید خطرے کی علامت بن رہے ہیں۔

کورونا وائرس کی باعث ماحول میں شامل ہونے والے فضلے سے انسانی آبادی پر سنگین اثرات نمودار ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے،سمندربرد ہونے کے سبب ماسک اور دستانوں کیوجہ سے آبی حیات پر بھی خطرے کے بادل منڈلانے لگ گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کورونا سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والا ایک ماسک ڈھائی سے تین لاکھ مائیکرو پلاسٹک کے ذرات میں تقسیم  ہوسکتا ہے،جبکہ سمندر میں اس کے اثرات ساڑھے چار سوسال تک برقرار رہ سکتےہیں۔

اب کراچی ہو یا گوادر غرض پاکستان سمیت دنیا کا کوئی ایسا ساحل نہیں ہوگا جہاں آپ یہ طبی سامان سمندروں میں تیرتا نہ دیکھیں،جو یقیناً آبی حیات کے لیے خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ سمندر کے آبی حیات پریومیہ بنیاد پر شہر بھر کے فضلے سے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں اور اسی کے درمیان اب ماسک بھی سمندر کو تباہ کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں پاکستانی سمندروں سے ماسک اور دستانوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی ہے جو ان تصاویر سے بھی عیاں ہے۔

ماحولیاتی اور موسمیاتی ماہر اویس حیدر کے مطابق ہر سال تقریبا 8 ملین ٹن پلاسٹک  سمندر میں شامل کیا جارہا ہےجس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سمندری ماحول میں پہلے ہی گردش کرنے والے 150 ملین ٹن آلودگی اور اب ماسک ایک نیا چیلنج بن چکے ہیں۔

کورونا وائرس کی وبائی حالت میں ماسک، دستانے، ہاتھ سے صاف کرنے والی سینیٹائزر بوتلیں اور اس وباء کے دوران پیدا ہونے والے دیگر فضلہ اب کثرت سے پاکستانی ساحلی مقامات پر دیکھا جارہا ہے جبکہ ملکی سمندر میں پہلے سے ہی روزانہ کی بنیاد پر کچرے کے ٹنوں کے حساب سے ڈھیر شامل ہوتے ہیں۔

اویس حیدر کے مطابق  ایک تحقیق میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ صرف برطانیہ میں اگر ہر شخص ایک سال میں ایک دن کے لئےچہرے کا ماسک استعمال کرتا ہے تو اس سے اضافی 66،000 ٹن آلودہ فضلہ پیدا ہوگا اور ساتھ ہی پلاسٹک کی پیکیجنگ کی مد میں 57000 ٹن فضلہ پیدا ہوگا۔ ماحولیاتی ماہرین اور رہنما اس پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

چونکہ پاکستان سمیت پوری دنیا کورونا وائرس کا مقابلہ کررہے ہیں، ان اعداد و شمار کے مطابق خطرہ کافی حد تک بڑھ رہا ہے،اوران کوروناماسک کے ہمارے خوبصورت دنیا پر غیرمعمولی ماحولیاتی نتائج مرتب ہوں گے۔ بد قسمتی سے ہم خود کو کورونا وائرس سے بچانے کے لئے اقدامات تو کر رہے ہیں لیکن اپنے ماحول اور سمندری حیاتیات کو تباہ کرنے کا سامان بھی پیدا کر رہے ہیں۔

ایک ماسک کی زندگی 450 سال

ماہرین کے مطابق کورونا کے حفاظتی ماسک کو تحلیل ہونے میں تقریباً 450 سال کا عرصہ لگ سکتا ہے،یہ بالکل ایسا ہی جیسا کہ پلاسٹک کی سب سے پہلے ایجاد ہونے والی بوتل جو سمندر کی تہہ میں موجود ہے،اس کو گھلنے میں 500سال کا عرصہ درکارہوتا ہے۔ پلاسٹک کی آلودگی سے ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ سمندری حیاتیات اور اس سے بھی زیادہ تعداد میں مچھلیاں ہلاک ہورہی ہیں۔

اسی کےساتھ بد قسمتی سے ماہی گیروں کو بڑے نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور سیاحت کی صنعت پر بھی منفی اثرات پڑھ رہے ہیں جسکا تخمینہ تقریباً 13 بلین امریکی ڈالر لگایا جاتا ہے،ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر معظم علی خان کے مطابق کورونا کے بچاو کے لیے استعمال ہونے والے ماسک اور دستانے ماحول پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ یہ پلاسٹک اگر ماحول کا حصہ بنتا ہے اور اس کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے نہیں لگایا جاتا تو کئی قسم کے پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے،ان کا کہنا ہے کہ سمندر میں شامل ہونے کے بعد اس کی اگلی شکل مائیکروپلاسٹک میں تبدیلی ہے یعنی ایک ماسک ڈھائی سے تین لاکھ مائیکرو پلاسٹک کے ذرات پیدا کرسکتا ہے۔

معظم خان کے مطابق ایک گرام سمندری ریت میں 300کے لگ بھگ مائیکرو پلاسٹک کا مشاہدہ کیا جاچکا ہے،اس سے زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ یہ مائیکرو پلاسٹک آبی حیات کے ذریعے انسانی خوراک میں شامل ہوسکتا ہے،جس کے نتیجے میں انسان دس مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

کورونا وبا کے آغاز کے بعد انسانوں نے لاک ڈاؤن کے بعد کئی مسائل دیکھے۔ حفاظتی اقدامات کے طور پر ان میں چہرے کے ماسک اور دستانے بھی شامل ہیں۔ ان کی بڑی تعداد تیزی سے ماحول میں پھینکی جارہی ہے جو سمندروں میں بھی جارہی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق سال 2020سے اب تک تو دنیا بھر میں تقریبا 2بلین سے زیادہ ماسک سمندربرد کرچکے ہیں،بعض اعدادوشمار کے مطابق بنی نوع انسان تقریبا 130ارب ماسک اوراسی طرح 65ارب کے قریب پلاسٹک کے دستانے ہرماہ استعمال کرتے ہیں۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سمندرکے کسی بھی حصے میں ماسک اوردستانے جیلی فش کی تعداد سے بھی بڑھ چکے ہیں،اور اس معاملے کا خوفناک پہلو یہ ہے کہ کچھووں سمیت دیگر آبی حیات ان کو اپنی مرغوب غذا جیلی فش سمجھ کر نگل رہی ہے،ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی حصہ محفوظ نہیں ہے،ماسک کی تعداد آبی حیات کو اپنے حصار میں جکڑرہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔