مومن فقط احکامِ الٰہی کا ہے پابند۔۔۔! ؛ اتحاد، تنظیم، یقین محکم

ماہ طلعت نثار  جمعـء 13 اگست 2021
رب تعالی نے ہمیں ہدایت دی اور حکم دیا کہ ہم سب اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہیں۔ فوٹو: فائل

رب تعالی نے ہمیں ہدایت دی اور حکم دیا کہ ہم سب اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہیں۔ فوٹو: فائل

خالق کائنات اﷲ رب العزت نے ہمیں پیدا فرمایا اور پھر اپنے حبیب ﷺ کو ہمارے لیے راہ بر و راہ نما بناتے ہوئے حکم دیا کہ میری اور میرے حبیب ﷺ کی اطاعت کرو۔

اس خالق کائنات نے اپنے حبیب ﷺ کی زندگی کو ہمارے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا۔ رب تعالی نے ہمیں ہدایت دی اور حکم دیا کہ ہم سب اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہیں اور ہرگز کسی تفرقے میں نہ پڑیں۔ اس نے ہمیں متحد، منظّم اور آپس میں ایک دوسرے کا مددگار بن کر رہنے کا حکم دیا ہے۔

ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم کسی بھی فتنے سے خبردار رہیں اور امن و اتحاد کے علم بردار بنیں۔ اس کے ساتھ اس نے ہمیں جینے کا سلیقہ اپنے حبیب کریم ﷺ کے وسیلے سے سکھایا ہے اور اگر ہم کسی مشکل کا شکار ہوجائیں تو اس سے نکلنے کی راہ بھی بتائی ہے۔

سورۃ رعد میں ارشاد ربانی کا مفہوم ہے:

’’حقیقت یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کسی قوم کی حالت میں تغیّر نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدلتے۔‘‘

مذکورہ آیت مبارکہ میں اﷲ تبارک و تعالیٰ نے ابن آدم کے مختلف قبائل و اقوام کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے اوصاف کو تبدیل نہ کرے۔ یعنی بہ حیثیت قوم ہمیں غیر اسلامی راستوں کو چھوڑ کر اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ہمیں اجتماعی طور پر اپنے اعمال و کردار کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ محاسبہ اسی صورت میں ممکن ہے جب بہ حیثیت قوم ہمیں اپنی خامیوں اور غلطیوں کا ادراک اور اسلام سے دوری کا اندازہ ہوجائے۔ اگر ہم میں دشمنان اسلام کی چالوں کو سمجھنے کا شعور بیدار ہوجائے تو پھر اس کا ازالہ اور اصلاح کرنا آسان ہے۔

جدید دنیا میں بہ وجوہ اسلام کو نشانہ بنایا جارہا اور اسے انتہاء پسندی سے جوڑا جارہا ہے۔ ’’انتہا پسندی‘‘ کی ایک نئی اصطلاح ایجاد کی گئی ہے، حالاں کہ اسلام میانہ روی کی تعلیم دیتا اور ہر قسم کی انتہاء پسندی کا شدید ناقد ہے۔ اب منصوبہ بند مسلط کردہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر ایک منظّم پروپیگنڈے کے تحت مسلکی نظریات اور اعتقادات کو غلط اور منفی پہلوؤں کے ساتھ اجاگر کیا جاتا ہے۔ نام نہاد روشن خیالی کا پرچار کیا جارہا ہے جس کا اصل مقصد مذہب سے دوری اور بغاوت ہے۔

آئے دن توہینِ مذہب و مسلک کے واقعات رونما ہونے لگے ہیں اور اس طرح مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا جاتا ہے۔ پھر وہ لازماً احتجاج پر مجبور ہوتے ہیں۔ اغیار کا سب سے بڑا مقصد ہی امت مسلمہ کے اتحاد کو پارا پارا کرنا ہے اور ہمیں ان کے عزائم کو ہر صورت ناکام بنانا ہے۔ خصوصاً محرم الحرام میں ان کی سازشیں عروج پر ہوتی ہیں۔

دشمنانِ اسلام متحد ہوکر امت مسلّمہ میں پھوٹ ڈالنے اور تفرقہ پیدا کرنے کا ہر حربہ آزما رہے ہیں۔ ہر طرح کی مذموم کوششیں جاری ہیں پھر ہماری نادانی اور حماقت کہیے کہ ہم ان کے شکنجے میں آسانی سے آجاتے ہیں نتیجتاً سیاسی، مسلکی اور نظریاتی طور پر تفرقے میں بٹ کر کم زور ترین قوم کی صورت میں نمایاں ہورہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کے اس مہلک ترین جنگی طریقۂ کار کو سمجھیں۔ اب غفلت کی نیند سے ہماری آنکھیں کھل جانی چاہییں کہ مغرب کی طرح ہمارا بھی دینی تشخص، خاندانی نظام اور عائلی زندگی بربادی کے دہانے پر ہے۔

وطن عزیز میں تفرقہ بازی کے ساتھ فحاشی و عریانی پر مبنی کلچر فروغ پا رہا ہے۔ کبھی دوپٹہ حیا اور تقدس کی علامت سمجھا جاتا تھا اور اب اسے ترقی کی راہ میں رکاوٹ کہا جانے لگا ہے اور ہمارے سماج میں اسے ترک کردینے کے مظاہر ہم دیکھ رہے ہیں۔ حالاں کہ حیا تو اسلامی معاشرے کا اہم اور بنیادی وصف ہے۔

رحمت دو عالم ختم الرسل ﷺ کا پُرحکمت فرمان عالی شان ہے:

’’جب تُو حیا کو کھودے تو جو مرضی آئے کر۔‘‘

ایک اور موقع پر فرمایا:

’’ہر دین کے کچھ اخلاق ہیں اور اسلام کا اخلاق حیا ہے۔‘‘

’’حیا ایمان کا جز ہے۔‘‘ حیا ایک ایسی صفت ہے جس کی وجہ سے انسان بڑے رزائل سے بچ جاتا ہے۔ جب حیا ختم ہوجاتی ہے تو انسان ایک وحشی درندے کی مانند ہوجاتا ہے اور انسانیت کی حدود سے نکل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل آئے دن ایسے انسانیت سوز واقعات رونما ہو رہے ہیں جو انسانیت کی بدترین توہین اور اس کا وقار خاک میں ملا رہے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو ماننا پڑے گا کہ باقاعدہ ایک منظم منصوبے کے تحت ہماری اسلامی اقدار کو منہدم کرنے کے لیے مربوط اور موثر طریقے سے کام کیا جارہا ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تمام نظریاتی، مسلکی، سیاسی اور لسانی اختلافات کو بُھلاتے ہوئے متحد ہوکر اغیار کی سفاکانہ واردات کو سمجھیں اور اس کے تدارک پر غور کریں۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارے سماج کی بنیادوں میں ابھی اسلام باقی ہے۔ ہم بااختیار بھی ہیں اور اپنے افعال کے خود ذمے دار ہیں۔ ہمیں کوئی زبردستی پابند نہیں کرسکتا کہ ہم غیر اسلامی طرز زندگی کو اپنائیں اور بے حیائی کے کام کریں۔ اپنے اہل و عیال کو شیطان رجیم کے راستے پر چلائیں۔ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اہلِ ایمان کو مخاطب کرکے فرمایا ہے، مفہوم: ’’اے اہل ایمان! اپنے آپ کو اور اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔‘‘

ہر گھرانے کے سربراہ کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کو راہ راست پر لائے ان کی اصلاح کرے۔ اپنے گھر کا ماحول اور طرز زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلائے۔

رحمت عالم احمد مجتبیٰ ﷺ کے ارشاد پاک کا مفہوم ہے: ’’تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے۔‘‘ یعنی جو جتنے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوگا اتنی ہی ذمے داری بھی زیادہ ہوگی اور پھر قیامت کے روز اﷲ تعالیٰ اس ذمے داری کے بارے میں باز پرس کرے گا۔ حکم ران اپنی رعایا کی فلاح و بہبود کا ذمے دار ہے۔ اسلامی حکومت کے فرائض میں اہم فریضہ معروفات کا حکم دینا اور منکرات سے روکنا ہے۔ اسلامی حکومت پر لازم ہے کہ اپنے تمام تر وسائل کو بہ روئے کار لاتے ہوئے نیکی کو پھیلائے اور برائی و بے حیائی کو ختم کرے۔

جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں ذرائع ابلاغ کی ذمے داری اور اہمیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کا درست استعمال کرتے ہوئے ایسے پروگرام پیش کیے جائیں جو ناصرف اسلامی اقدار کے مطابق ہوں بل کہ ہمارے معاشرے کے اخلاقیات کو پستی سے نکال کر اعلیٰ معیار پر فائز کریںاور انہیں ہر صورت متحد رہنے کی تلقین کریں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم نے اپنے دین کو چھوڑ کر فرقوں میں بٹ کر خود کو کم زور کرلیا اور دنیاوی حرص و طمع نے ہمیں فربہ کردیا ہے۔ ہم نے اپنے اخلاق بوسیدہ اور اپنے لباس رہائش اور آرائش بہترین کرلیے ہیں۔

محرم الحرام میں ہر صورت متحد و منظم رہیے اور ہر شرپسند پر نظر رکھیے جو اتحاد امت کو پارا پارا کرکے ہمیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ صرف اسی صورت ممکن ہے کہ ہم سب متحد ہوکر ان شرپسندوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیں۔

اﷲ تعالیٰ ہم سب کو معاشرے کی بگڑی صورت حال کو سنوارنے کی توفیق مرحمت فرما دے۔ آمین

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔