ذکااشرف بحالی کیس؛ چیرمین پی سی بی کی بحالی سےعبوری کمیٹیاں ختم ہوگئیں، سپریم کورٹ

ویب ڈیسک  پير 27 جنوری 2014
اگر حکومت کے پاس چیئرمین کی برطرفی کا اختیار ہے تو پھر وہ دالت سے کیوں رجوع کررہے ہیں جسٹس ثاقب نثار  فوٹو: فائل

اگر حکومت کے پاس چیئرمین کی برطرفی کا اختیار ہے تو پھر وہ دالت سے کیوں رجوع کررہے ہیں جسٹس ثاقب نثار فوٹو: فائل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ذکا اشرف کی بحالی کے خلاف نظر ثانی درخواست پر ریمارکس دیئے ہیں کہ چیرمین پی سی بی کی بحالی سے عبوری کمیٹیاں خود ہی ختم ہوگئیں۔   

سپریم کورٹ میں ذکا اشرف بحالی کیس کی سماعت کے دوران سماعت وزارت برائے بین الصوبائی رابطہ کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے انٹر اکورٹ اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے زمینی حقائق کو مدنظر نہیں رکھا ، پی سی بی کے الیکشن کرانے کے لئےالیکشن کمیشن کو درخواست دی گئی تھی،الیکشن کمیشن نے پی سی بی کے انتخابات کرانے سے انکار کر دیا تھا تاہم بعد میں الیکشن کمیشن نے پی سی بی انتخابات کی فیس 35 لاکھ روپے رکھی، پی سی بی کے 80 ووٹرز ہیں، 35 لاکھ فیس کے ساتھ یہ انتخابات دنیا کے مہنگے ترین انتخابات ہوں گے, حکومت نے 90 دن کے لیے عبوری کمیٹی بنائی تھی، عبوری کمیٹی میں ہارون رشید،نجم سیٹھی، نوید چیمہ،  شہریار خان اور ظہیر عباس شامل تھے، یہ عدالت کا کام نہیں کہ چیرمین پی سی بی کو تعینات کیا جائے.

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ عبوری کمیٹیاں صرف خلاپُرکرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، ذکا اشرف کی تعیناتی پی سی بی کے قانون تحت کی گئی تھی،ان کی بحالی سے عبوری کمیٹیاں خود بخود ختم ہو گئیں، اگر کوئی ہائی کورٹ کے فیصلے سے متاثر ہوا ہے تو اسے عدالت آنا چاہئے اور اگر حکومت یا پی سی بی کے پاس چیرمین کی برطرفی کا اختیار ہے تو پھر وہ عدالت سے کیوں رجوع کررہے ہیں۔ کیس کی مزید سماعت 31 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔