ماضی اور مستقبل کی جنگ!

ظہیر اختر بیدری  منگل 28 جنوری 2014
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

[email protected]

میں جب صبح بیدار ہوتا ہوں تو درختوں پر چڑیوں کی چہچہاہٹ سے صبح ہونے کا اندازہ ہوتاہے۔ یہ وقت بڑا پر سکون ہوتاہے، فکر کے دریچے وا ہوجاتے ہیں اور میں جب ان دریچوں سے زمین کے آگے جھانکنے کی کوشش کرتا ہوں تو پرواز خیال کے پر جلنے لگتے ہیں، ہماری سوچ، ہماری فکر کے آگے ایک کانٹوں کی باڑ کھڑی کردی گئی ہے۔

ہمارے نظریات کی تشکیل، ہمارے علم و آگہی کی بنیاد پر ہوتی ہے اور انسان کی سب سے بڑی بد قسمتی یا المیہ یہ ہے کہ ہزاروں سال پہلے علم و آگہی کا دائرہ انتہائی محدود تھا اور اسی علم و آگہی کے پس منظر میں انسان نے اپنے نظریات تشکیل دیے اور انھیں علم و آگہی کی ترقی کے ساتھ قدم بڑھانے کی آزادی دینے کے بجائے انھیں برف کی طرح جماکر رکھ دیا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تحقیق اور دریافت کو واجب القتل قرار دے دیا گیا۔ علم و آگہی کوئی بے مقصد مشق نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے انسان کی زندگی کو آسودہ اور انسانی رشتے کو محبت اور بھائی چارے روشناس کرایا جاسکتا ہے لیکن اپنے نظریات کو حرف آخر بنادینے والے انسان علم و آگہی کے سفر کے آگے بندوقیں تانے، تلوار اٹھائے کھڑے ہیں کہ اگر کسی نے اس سرحد کو کراس کرنے کی کوشش کی تو اس کا سر کاٹ دیا جائے گا۔

گلیلو اور سقراط نے ان سرحدوں کو اپنے علم و آگہی کے ذریعے کراس کرنے کی کوشش کی۔ گلیلو نے اپنے علم کی بنیاد پر جب یہ کہا کہ سورج زمین کے گرد نہیں گھومتا بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو اس وقت کے  لوگوں نے غضبناک ہوکر کہا ’’تو ہمارے مذہب، ہمارے نظریات‘‘ میں مداخلت بے جا کا واجب القتل ارتکاب کررہاہے۔ وقت کے ناخدائوں نے گلیلو کے سچ کو تسلیم نہیں کیا اور اسے سزائے موت سنادی۔

مسئلہ صرف یہ نہیں کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے یا سورج زمین کے گرد گھومتا ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ان سچائیوں اور جھوٹ کا تعلق انسان کی زندگی سے بہت گہرا ہے کیوںکہ ان ہی سچائیوں کی روشنی میں انسانی فکر کا ارتقاء جاری رہتاہے۔ اگر ایسے سچ موت کے خوف سے جھوٹ کے آگے سرنگوں ہوتے رہے تو پھر ارتقا اور ترقی کا سفر ٹھپ ہوجائے گا کیوںکہ جھوٹ اور مفروضات کی بنیاد پر کھڑی ہوئی فکری عمارت آخر کار اپنے مکینوں پر ہی گرجاتی ہے اگر گلیلو کے وقت کے جھوٹوں کے جھوٹ کو سچ مان لیا جاتا تو نہ انسان چاند پر ہوتا، نہ خلائی اسٹیشن بنتا، نہ خلائی اسٹیشن پر انسان برسوں بلکہ عشروں سے قیام کرکے خلاء اور خلاء سے پرے پھیلی ہوئی کائنات کی وسعتوں کے اسرار و روموز جانتا۔ یہ گلیلو اور سقراط کے سچ ہی ہیں جو آج تحقیق اور دریافتوں کے سفر میں روشنی کی کرن بن کر ترقی کے سفر کے مسافروں کو حوصلہ بخش رہی ہیں۔ ورنہ چاند پر ہمیشہ بڑھیا چرخہ ہی کاتتی رہتی چاند ٹکڑوں میں بٹا ہی رہتا، مریخ ستارہ شام بنا رہتا انسان کی رسائی مریخ تک نہ ہوتی نہ مریخ کے موسموں سے انسان آگہی حاصل کرسکتا نہ مریخ پر پہنچنے اور مریخ پر انسانی بستیاں بسانے کے خواب دیکھتا۔ خلاء ایک لا متناہی تاریکی ہے جہاں پہنچ کر انسان زمین کو ایک نیلے گیند کی طرح دیکھ رہا ہے اور حیران ہورہاہے کہ سمندروں، پہاڑوں، برفانی علاقوں پر مشتمل دنیا خلاء سے چاند سے زیادہ خوبصورت کیوں نظر آرہی ہے؟

انسان نے سائنس ٹیکنالوجی، آئی ٹی، فلکیات، ارضیات، میڈیکل سائنس وغیرہ کے شعبوں میں جو ترقی حاصل کی ہے وہ گلیلو کے سچ کے راستے پر چلنے ہی کا نتیجہ ہے ورنہ انسان آج بھی کنویں کا مینڈک ہی بنا رہتا۔ ایک زمانہ تھا جب انسان وبائی امراض ہیضہ طاعون ٹی بی جیسے امراض سیلابوں، طوفانوں، زلزلوں کو لا علاج اور خدا کا قہر کہتے تھے آج ہیضے، طاعون، ٹی بی، پولیو کے علاج دریافت ہوچکے ہیں اب کوئی بیماری لا علاج نہیں رہی اب سیلاب طوفان زلزلے خدائی قہر نہیں رہے ان کی وجوہات تلاش کرلی گئی ہیں۔ ان کے آنے سے پہلے ان کی آمد کا پتہ چلایا جارہاہے۔ حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں اور ان کی تباہیوں پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہیں، بھوک بیماری غربت کو گنا ہوں کی سزا ماننے کا رویہ ختم ہورہاہے ان عذابوں کو انسانوں پر خدا کی طرف سے مسلط ہونے کے تصور کی جگہ ان مظالم کے ذمے داروں کا تعین کرکے ان سے انسانوں کو نجات دلانے کی تدبیریں کی جارہی ہیں۔ اگر ان عذابوں کو خدا کی مرضی اور مقدر کا لکھا مان لیا جاتا تو ان کے خلاف جد و جہد کا کوئی راستہ نہ ملتا۔ انسان نے یہ جان لیا ہے کہ بھوک، بیماری، غربت جیسے سارے عذاب با اختیار لوگوں کی طرف سے بے اختیار لوگوں پر مسلط کیے ہوئے عذاب ہیں نہ ان کا تعلق تقدیر سے ہے نہ خدا کی مرضی سے ہے یہ سب اس نظام زر کی پیداوار ہیں۔ جسے ہم سرمایہ دارانہ نظام کے نام سے مانتے ہیں اور یہ نظام انسانوں کا بنایا ہوا ہے، خدا کا نہیں، جسے بدلا جاسکتاہے اور بدلنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ کامیابیاں یہ جانکاریاں اس تحقیق اس تلاش کی مرہون منت ہیں جو سقراط، گلیلو سے شروع ہوکر آج چاند مریخ خلاء اور کائنات کی وسعتوں تک جا پہنچی ہیں۔

ناسا ایک خلائی تحقیق کا ادارہ ہے جس نے انسان کو چاند پر پہنچادیاہے اورمریخ پر اپنی تحقیقی گاڑی اتار کر مریخ کی سر زمین مریخ کے چاند سورج مریخ کے موسموں کا جائزہ لے کر مریخ پر انسانی بستیوں کو بسانے کے امکانات کا جائزہ لیا جارہاہے۔ ہمارے نظام شمسی ایسے لاکھوں، کروڑوں نظام شمسی کائنات کی وسعتوں میں پھیلے ہوئے ہیں یہ نظام شمسی کے اپنے سورج اپنے چاند اپنے مریخ اپنے زحل اپنے مشتری ہیں وہ بھی گردش میں ہیں۔

آج اس موضوع پر قلم اٹھانے کا خیال یوں آیا کہ اخباروں میں ایک خبر نظر سے گزری کہ دنیا کی سب سے بڑی دوربین ہیبل سے کہکشائیں نظر آئیں جو کروڑوں ستاروں پر مشتمل ہیں۔ جی ہاں 11ارب نوری سال کے فاصلے پر ہمارے چھوٹے سے نظام شمسی کے ایک سیارے مریخ تک ہزاروں کلو میٹر فی منٹ کی رفتار سے سفر کرنے والے راکٹ کو پہنچنے میں آٹھ نو سال لگتے ہیں ذرا اندازہ کیجیے 11ارب نوری سال کے فاصلے کو طے کرنے میں کتنا وقت درکار ہوگا ؟ کیا ہم اس تناظر میں کائنات کی وسعتوں کا اندازہ کرسکتے ہیں؟ یہ ساری دریافتیں اس تحقیق کا نتیجہ ہیں جو سقراط گلیلو کی قربانیوں سے شروع ہوکر یہاں تک پہنچی ہیں جس کے راستے میں بے شمار محققین سائنسدان چراغوں کی طرح کھڑے ہوئے ہیں ان میں ابن سینا ہے، البیرونی ہے، عمر خیام ہے، الخوارزمی ہے، الزہراوی ہے، الرزازی ہے، یہ سارے وہ عظیم انسان ہیں جن کی دیافتوں جن کی ایجادات نے انسانی معاشروں کو ترقی کی اس معراج پر کھڑا کردیا ہے جہاں موجد اپنی ایجادات پر جہاں محقق اپنی تحقیق پر جہاں سائنسدان اپنی دریافتوں پر خود حیران ہیں یہ دریافتیں یہ ایجادات اگرچہ کسی نہ کسی ملک، کسی نہ کسی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی ہیں لیکن ان کا فائدہ سارے انسانوں کو بلا تخصیص، مذمت و ملت حاصل ہورہاہے کیوںکہ دریافت اور ایجاد کرنے والوں کا تو کسی نہ کسی مذہب ، کسی نہ کسی ملت سے تعلق ہوتاہے لیکن کسی دریافت، کسی ایجادات کا کسی مذہب و ملت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

آج ان دریافتوں، ایجادات کو ہندو مسلمان سکھ عیسائی بنانے والے ہاتھوں میں بارود اور معصوم انسانوں کے پیٹ پر بارودی جیکٹ باندھ کر دریافتوں، ایجادات اور سوچنے سمجھنے کا راستہ روکنے کی کوشش کررہے ہیں ان خدا کے نیک بندوں کو یہ احساس تک نہیں کہ وہ خود اپنی ترقی، اپنی خوش حالی، اپنے امن کی راہ کا تعمیر بن رہے ہیں اور ابن سینا، البیرونی، جابر بن حیان،الخوارزمی، الزہراوی کے کارناموں پر کالک مل رہے ہیں کیا ہم خودکش بمباروں کے ذریعے اپنے مستقبل کی خودکشی نہیں کررہے ہیں، اپنے اکابرین کے مزاروں کو بارود سے اڑاکر اپنے مستقبل کو بارود سے نہیں اڑارہے ہیں؟ یہ ماضی اور مستقبل کی وہ جنگ ہے جس میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کا مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔