سانحہ نوابشاہ کا متاثرہ اسکول 11 روز بعد کھل گیا، طلبہ کی حاضری کم

نامہ نگار  منگل 28 جنوری 2014
 نواب شاہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے طلبہ و اساتذہ کی یاد گار تصویر۔ فوٹو: فائل

نواب شاہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے طلبہ و اساتذہ کی یاد گار تصویر۔ فوٹو: فائل

نوابشاہ: برائٹ فیوچر پبلک ہائی اسکول دولت پور 11 روز بعد پیر کو کھل گیا۔

پہلے روز بچوں کی حاضری کم رہی، اسمبلی کے دوران حادثے میں جاں بحق 21 طلباء و طالبات، 2 اساتذہ اور اسکول وین ڈرائیور کی روح کے ایصال ثواب کے لیے دعا کرائی گئی۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے طلبا و طالبات کی کلاس میں ان کے بیٹھنے کی جگہ خالی رہی، اسکول کی فضا پہلے روز سو گوار رہی، اسکول آنیوالے بچوں کے چہروں پر خوشی، شرارت، مسکراہٹ کے بجائے افسردگی تھی۔

 photo Pic_zpsa738e914.jpg

حادثے میں جاں بحق ہونے والے طلبا و طالبات کی نشستوں پر انکے ساتھی طالبعلموں نے انکی تصاویر رکھ کر ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔ حادثے میں اسکول کی ہیڈ مسٹریس میڈم ذکیہ بھی شدید زخمی ہو گئی تھی اور وہ تاحال آغا خان اسپتال کراچی میں زیر علاج ہیں۔

 photo 2_zps8ea68940.jpg

حادثے میں جاں بحق آٹھویں کلاس کی ٹیچر شرمین کی بہن کرن بھی آج 11 روز بعد اشکبار، آنکھوں کے ساتھ اسکول پہنچی، پہلے روز پورے اسکول کا ماحول افسردہ رہا، طلبا و طالبات اور اساتذہ سمیت اسکول کے ہر ملازم کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

 photo Pic1_zps0663d18b.jpg

واضح رہے کہ 15 جنوری کو مذکورہ اسکول کی وین نوابشاہ کے قریب قاضی احمد روڈ پر تیر رفتار ڈمپر سے ٹکرا گئی تھی، جس سے21 طلبا، 2 اساتذہ اور ڈرائیور سمیت 24 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔