جنھوں نے ہمیں نامعلوم طلسماتی دنیا سے روشناس کرایا

سید عاصم محمود  اتوار 22 اگست 2021
متجسس و کھوجی سائنس دانوں کا دلچسپ و سبق آموز قصّہ جو جراثیم اور وائرسوں کی دنیا کھوجتے رہے۔  فوٹو : فائل

متجسس و کھوجی سائنس دانوں کا دلچسپ و سبق آموز قصّہ جو جراثیم اور وائرسوں کی دنیا کھوجتے رہے۔ فوٹو : فائل

ذرا سوچیے، آپ کو علم ہی نہ ہوتا کہ کوویڈ 19وبا ایک وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے تو پھر…؟ظاہر ہے، تب آپ نہ ماسک پہنتے،نہ تین فٹ کی دوری اختیار کرتے اور نہ ہی کسی قسم کی احتیاطی تدابیر اپنانے کی سعی فرماتے۔یوں نہایت متعدی نئے کورونا وائرس کو بے دھڑک ایک سے دوسرے انسان میں چھلانگ لگانے کی آزادی مل جاتی۔

تقریباً آٹھ سو سال پہلے اسی لاعلمی کے باعث ’’سیاہ موت‘‘(بلیک ڈیتھ)نے ایشیا ،یورپ اور افریقامیں دس سے بیس کروڑ کے درمیان انسان مار ڈالے تھے۔تب مرض طاعون کو سیاہ موت کا نام دیا گیا جو ایک جرثومے سے پیدا ہوتا ہے۔خدانخواستہ آج بھی انسان کورونا وائرس سے ناواقف ہوتا تو یہ موزی پچھلے ڈیرھ برس میں کروڑوں انسانوں کی زندگیاں نگل چکا ہوتا۔

حیرت انگیز بات یہ کہ جس پہلے انسان نے جراثیم اور وائرسوں کی غیرمرئی مگر بے پناہ وسیع دنیا کا پہلی بار مشاہدہ کیا وہ کوئی نامی گرامی سائنس داں نہیں کپڑے بیچنے والا عام دکان دار تھا۔بس عدسے بنانے کے شوق نے اسے جراثیم دیکھنے والے پہلے انسان ہونے کا اعزاز بخش دیا۔سچ ہے ،اللہ تعالی جسے چاہیں عزت سے سرفراز فرمائیں۔ہالینڈ کے شوقیہ موجد، انطونی فان لیون ہاک نے ستمبر 1683ء میں پہلی بار پانی میں دوڑتے پھرتے جراثیم کا مشاہدہ کیا تھا۔گویا بنی نوع انسان اس عظیم الشان دریافت کی تین سو اڑتیسویں سالگرہ اگلے ماہ منا رہی ہے۔

نرالے ولندیزی کی دریافت انقلاب انگیز ثابت ہوئی۔وجہ یہ کہ اس کے بعد خصوصاً متعدی بیماریوں کا علاج کرنا آسان ہوتا چلا گیا۔سائنس دانوں نے ہزارہا اقسام کے جراثیم و وائرسوں وغیرہ کا مشاہدہ کر کے ان کی درجہ بندی کی اور یہ پتا چلا لیا کہ کون سا جرثومہ یا وائرس فلاں بیماری پیدا کرتا ہے۔اسی دریافت کے باعث ویکسین اور اینٹی بائیوٹک ادویہ نے جنم جو آج کورونا وائرس اور جراثیم  کی پھیلائی وباؤں اور بیماریوں کے خلاف بنیادی ڈھال بن چکی۔

خرد نامیے کی تاریخ

لیون ہاک مگر دانش وروں ،فلسفیوں اور سائنس دانوں کے ایک طویل سلسلے کی آخری کڑی تھا جو اس سے قبل ایسے جان دار موجود ہونے کی پیش گوئی کر چکے تھے جو انسانی آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے۔یہ جاندار اب اصطلاح میں ’’خرد نامیے‘‘(Microorganism)کہلاتے ہیں۔ان جانداروں کی بیشتر اقسام صرف خوردبین سے دکھائی دیتی ہیں۔مورخین بیان کرتے ہیں کہ جین مت کے بانی،مہاویر نے سب سے پہلے اپنی تعلیمات میں ننھے منے جاندار موجود ہونے کا تذکرہ کیا۔

مہاویر کہتا ہے کہ انھیں ہماری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں مگر وہ خشکی،تری ،ہوا حتی کہ آگ میں بھی ملتے ہیں۔اس نے انھیں نگودا‘‘(Nigoda)کا نام دیا۔وہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ انسان اپنی سرگرمیوں کی بدولت ان ننھے جانداروں کو مار ڈالتا ہے۔

مارکس وورو (marcus terentius varro)اٹلی کا مشہور دانشور گذرا ہے۔یہ پہلا فرد ہے جس نے انسانوں کو بتایا کہ خرد حیاتیے ان میں مرض پیدا کر سکتے ہیں۔وہ اپنی کتاب’’آن ایگرکلچرا‘‘ (On Agriculture )میں لکھتا ہے:’’دنیا میں ایسے کئی ننھے جاندار ملتے ہیں جنھیں ہم نہیں دیکھ پاتے مگر وہ ہوا میں موجود ہوتے ہیں۔وہ منہ یا ناک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر خطرناک بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔‘‘

قران پاک کی تعلیم

قران پاک میں مگر پہلی بار اللہ پاک نے انسانیت کے سامنے یہ انکشاف فرمایا کہ خرد حیاتیے بہت سے فوائد بھی رکھتے ہیں۔حتی کہ رب العزت کی اسی تخلیق کے باعث ہی کرہ ارض پہ زندگی کی نمو بھی ممکن ہو سکی۔اللہ تعالی فرماتے ہیں:’’ہم نے (دنیا میں)ہر جاندار کے دو جوڑے بنائے،ان چیزوں سے جنھیں تم جانتے ہو اور ان چیزوں سے بھی جنھیں تم نہیں جانتے۔‘‘(سورہ یسین:36)یہ آیت واضح کرتی ہے کہ زمین پہ زندگی کی نمو میں ان خرد حیاتیہ کا بھی حصہ ہے جن کو ہم برہنہ آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔اور جب قران پاک نازل ہوا تو ان ننھے جانداروں کی موجودگی کا کسی کو علم نہ تھا۔

اللہ تعالی نے چودہ سال قبل انسانوں پر جو سچائی افشا کی تھی،وہ بیسویں صدی میں پہنچ کر انسان کے علم میں آئی۔مثال کے طور پر آج ہم جانتے ہیں کہ مٹی میں بستے جراثیم کی ایک خاص قسم کے ذریعے ہی فضا میں موجود نائٹروجن گیس نائٹریٹ مادے میں بدل جاتی ہے۔پودے و درخت پھر نائٹریٹ چوس کر پلتے بڑھتے اور مختلف قسموں کے پروٹین بناتے ہیں۔جانور پودے کھا کر پروٹین پاتے اور اپنے آپ کو زندہ رکھتے ہیں۔انسان بھی سبزیاں،گوشت اور پھل کھا کر پروٹین پاتا ہے جو انسانی نشوونما کے لیے اہم عنصر ہے۔

جراثیم کی وساطت سے نائٹروجن گیس کا نائٹریٹ مادے میں تبدیل ہونا اور پھر پودوں سے لے کر انسانوں تک پہچنے کا سارا نظام ’’نائٹروجن چکر‘‘(nitrogen cycle )کہلاتا ہے۔ذرا سوچیے ،کبھی خدانخواستہ  نائٹروجن گیس کو نائٹریٹ میں بدلنے والے مٹی میں رہتے جراثیم ختم ہو جائیں تو پورا نظام دھڑام سے گر پڑے گا۔گویا تب کرہ ارض پہ زندگی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گی۔اس امر سے آشکارا ہے کہ زمین پہ زندگی کو رواں دواں رکھنے میں جراثیم کا بنیادی کردار ہے۔

ایک اور حیرت انگیز مثال

قرانی آیت کے حوالے سے ایک اور حیران کن مثال ملاحظہ فرمائیے۔پودے اور درخت نائٹریٹ پا کر ہی کلوروفل سبز مادہ بناتے ہیں۔یہ مادہ سورج کی روشنی جذب کر کے پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مدد سے پودے کی نشوونما کے لیے درکار توانائی تشکیل دیتا ہے۔یہ پورا عمل ’’ضیائی تالیف‘‘ (Photosynthesis) کہلاتا ہے۔اسی عمل کے ذریعے آکسیجن بھی جنم لیتی ہے جس نے انسان سمیت تمام جانداروں کو کرہ ارض پہ زندہ رکھا ہوا ہے۔اس مثال سے بھی عیاں ہے کہ اگر مٹی میں نائٹریٹ بنانے والے جراثیم موجود نہ ہوں تو زمین پہ زندگی ناپید ہو جائے گی۔سورہ یسین آیت36کے علاوہ سورہ نحل آیت 8میں بھی رب ذوالجلال فرماتے ہیں:’’ہم نے ایسی چیزیں پیدا فرمائیں ہیں جنھیں تم نہیں جانتے۔‘‘

زندگی کی بقا ہی نہیں کئی روزمرہ سرگرمیاں انجام دینے میں بھی خرد حیاتیہ انوکھے طریقوں سے  انسان و حیوان کی عملی مدد کرتے ہیں۔یاد رہے،خرد حیاتیہ کی مختلف اقسام ہیں۔مثلاً جراثیم،وائرس،پھپوندی،کائی وغیرہ۔یہ حیاتیے دنیا میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور ان کی آبادی انسانوں و حیوانوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ خیال ہے کہ کرہ ارض پہ صرف جراثیم کی آبادی ہی ’’پانچ نونلین‘‘ (Nonillion) ہے۔ (نونلین سے مراد ہے :ایک کے بعد تیس صفر)دلچسپ بات یہ کہ غیر مرئی ہونے کے باوجود زمین پر جراثیم کا کل وزن انسانی آبادی سے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔اس وزن میں وہ اربوں جرثومے بھی شامل ہیں جو جانداروں کے بدن خصوصاً نظام ہاضمہ میں پائے جاتے ہیں۔غرض ہماری زمین کا چپّہ چپّہ خرد حیاتیہ سے بھرا پڑا ہے۔اور ان کی بہت سی اقسام انسان دوست ہیں۔

مثال کے طور پہ بہت سے جراثیم غذاؤں کو خمیری بنا کر انھیں زیادہ غذائیت بخش اور مزے دار بناتے ہیں۔یہ جراثیم ہی ہیں جو ہر سال لاکھوں ٹن کوڑا کرکٹ گلا سڑا کر ہمیں اس سے نجات دلاتے ہیں۔خرد حیاتیہ ہی کاربن سے تیل،ہیرے،سونا اور دیگر معدنیات بناتے ہیں۔انسانی معدے میں ہوں تو پتھر جیسی غذا بھی ہضم کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔حقائق سے عیاں ہے کہ خرد حیاتیہ کو محض نقصان دہ اور خطرناک سمجھنا نادانی ہے۔اور قران پاک میں بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ یہ نہ دکھائی دینے والی اللہ پاک کی مخلوق فوائد رکھتی ہے۔

تجربات کا ظہور

یونانی اور اطالوی فلسفی اور دانشور بنیادی طور پہ نظریات پیش کرتے تھے۔انھوں نے تجربات کرنے پہ کبھی زور نہیں دیا۔حتی کہ نظریات پرکھنے کی خاطر بھی تجربے نہ کیے جاتے۔قران حکیم نے مسلمانوں پہ زور دیا کہ دنیا میں گھومو پھرو،اللہ تعالی کی تخلیقات کا جائزہ لو اور تجربات سے سچائی کو جانو۔قران مجید کی رو سے محض کوئی نظریہ (یعنی بات)حق کی دلیل نہیں ہو سکتا۔اسے ثابت کرنے کے لیے تجربہ کرنا ضروری ہے۔ارشاد باری تعالی ہے:’’کافر گمان کی پیروی کرتے ہیں۔مگر گمان کبھی حق کی جگہ نہیں لے سکتا۔(سورہ نجم آیت ،28)گویا حق کھوجنے کی خاطر تجربات کرنا لازم ہے تب ہی سچائی کا علم ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے جب عرب وعجم میں مسلمانوں نے اقتدار سنبھالا تو قرانی تعلیمات کے زیراثر مسلم سائنس داں نظریے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ تجربات بھی کرنے لگے۔یوں وہ یونانی و رومی فکر سے استفادہ کرتے ہوئے سائنس کے شعبے میں انقلاب لے آئے۔اب سائنس نظریاتی کے علاوہ تجرباتی اساس پر بھی ترقی کرنے لگی۔اس سائنسی انقلاب کی بدولت خرد حیاتیہ کا شعبہ بھی ترقی کرنے لگا اور اس میں پیش رفت دیکھے کو ملی۔

تب اس کے بہت سے پوشیدہ حقائق انسان پہ وا ہو گئے۔یہ درست ہے کہ ایک یورپی باشندے،لیون ہاک کو پہلی بار دنیائے جراثیم میں جھانکنے کا عزاز حاصل ہوا۔مگر اس تاریخی لمحے کے پس پشت پوری ایک تاریخ کارفرما تھی۔اور یہ انقلابی کارنامہ انجام دینے میں مسلمان سائنس دانوں نے اہم کردار ادا کیا۔ان مسلم نابغہ روزگار میں عباس ابن فرناس،ابن سینا،ابن سہل اور ابن الہثیم بنیادی مقام رکھتے ہیں۔یہ وہ مسلم ماہرین ہیں جن کی تحقیق،جستجو،محنت شاقہ اور تجربات سے آخرکار پندرہویں صدی میں لیون ہاک جراثیم کی دنیا دیکھنے کے قابل ہو سکا۔

دیکھا کیسے جائے؟

یونانی اور رومی دانشوروں نے محض مشاہدے سے یہ نظریہ تو وضع کر دیا کہ کرہ ارض پہ غیر مرئی جاندار بستے ہیں مگر انھیں دیکھا کیسے جائے؟یہ مقصد پانے کے لیے خردبین درکار تھی۔یہ آلہ بھی باقاعدہ تاریخ رکھتا ہے۔قدیم یونانی اور رومی ہی مشاہدے سے آگاہ ہوئے کہ صاف و شفاف پتھروں سے کسی شے یا الفاظ کو دیکھا جائے تو وہ بڑے اور واضح ہو جاتے ہیں۔

چناں چہ رومی مورخ،پلنی دی ایلڈر لکھتا ہے کہ بادشاہ نیرو کی نظر خراب تھی۔لہذا وہ زمرد پتھر کے ذریعے کھیلوں کے مقابلے دیکھتا تھا تاکہ ضعف ِبصارت دور ہو سکے۔بعد ازاں مشہور مصری سائنس داں،بطلیموس( Ptolemy) نے اپنی کتاب ’’ٓآپٹکس‘‘میں یہ ذکر کیا کہ پتھر یا معدنیات سے بنے عدسوں(lense)کی مدد سے چیزوں کو بڑا کرنا ممکن ہے۔تاہم وہ معیاری عدسے نہیں بنا سکا۔

عدسہ ایجاد ہوتا ہے

دنیا کا پہلا باقاعدہ عدسہ بنانے کا اعزاز ممتاز مسلمان جامع العلوم (polymath) شخصیت، عباس ابن فرناس(متوفی 887 ء )کو حاصل ہوا۔آپ قرطبہ (اندلس)میں شاہی دربار سے وابستہ تھے۔پہلی بار اڑان بھرنے کی کوشش کے سلسلے میں مشہور ہیں مگر یہ ابن فرناس کا محض ایک کارنامہ ہے۔آپ نے کائنات میں ستاروں اور سیاروں کی پوزیشن جاننے کی خاطر ایک آلہ بنایا تھا۔

عباس ابن فرناس نے ایک اہم کارنامہ یہ انجام دیا کہ کوارٹز(quartz)سے صاف شفاف پتھر نکالنے کا طریقہ دریافت کر لیا۔اسی شفاف پتھر کے ذریعے اانھوں نے دنیا کے پہلے عدسے تیار کیے۔وہ تحریر پڑھنے میں دقت محسوس کرتے تھے۔چناں چہ نصف کروی (hemispherical)عدسے بنا لیے جن کی بدولت حروف آسانی سے پڑھنا ممکن ہو گیا۔انہی عدسوں کو بعد میں ’’پڑھائی پتھر‘‘(reading stones)کا نام دیا گیا۔آج کل یہ نگاہ درست کرنے والے عدسے( corrective lenses)کہلاتے ہیں۔

ابن فرناس کے ایجاد کردہ عدسے اندلس سے پورے یورپ میں پھیل گئے۔یہ خصوصاً گرجا گھروں کے راہبوں اور پادریوں میں بہت مقبول ہوئے۔جن کی قریب کی نظر کمزور تھی،وہ پڑھائی پتھروں کی مدد سے تحریر پڑھنے کے قابل ہو گئے۔یوں ابن فرناس کی جدت و ذہانت سے علم بصارت کو ترقی ملی اور آگے چل کر عینک ایجاد کرنے کی راہ ہموار ہو گئی۔

متعدی بیماریوں کی موجودگی

اندلسی نابغہ کے بعد عالم اسلام میں ایک اور جامع علوم ہستی ،ابن سینا (متوفی 1037ء ) نے جنم لیا جو مشہور مسلم طبیب اور فلسفی گذرے ہیں۔رومی مفکرمارکس وارو نے تو محض مشاہدے کی بنا پر یہ تُکا لگایا تھا کہ بعض خرد حیاتیے بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔ابن سینا نے باقاعدہ تجربات سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایسے غیر مرئی وجود موجود ہیں جو انسانوں کے جسم میں داخل ہو کر متعدی امراض پیدا کرتے ہیں۔انسائیکلوپیڈیا طب سمجھی جانے والی اپنی کتاب’’القانون فی الطب‘‘میں انھوں نے ایسی بیماریوں کے نام بھی لکھے ہیں مثلاً تپ دق۔بعد ازاں اندلس کے ممتاز طبیب،ابن زہر نے خارش(scabies )کا مرض دریافت کیا۔

اسلامی دنیا کے پہلے ماہر بصریات

مسلم سائنس دانوں اور موجدوں نے خاص طور پہ علم بصریات کو ترقی دی اور اس شعبے میں کارہائے نمایاں دکھائے۔ وجہ یہ ہے کہ انھوں نے مروجہ عدسوں کی مدد سے تجربات کیے۔جو نظریات تجربے کی کسوٹی سے پرکھ کر درست ثابت ہوئے، انھیں مزیدتفصیل سے بیان کیا۔جب مسلمانوں نے مصری شہر،اسکندریہ فتح کیا تو وہاں کے کتب خانوں میں محفوظ لاطینی زبان میں لکھی کئی سائنسی کتب ان کے ہاتھ لگ گئیں۔بعد ازاں مسلم خلفا نے ان کتب کا عربی میں ترجمہ کرایا۔انہی کتابوں میں مصری مفکر،بطلیموس کی کتاب ’’آپٹکس‘‘بھی شامل تھی۔اس کتاب میں موجود بصریات کے نظریات نے مسلم سائنس دانوں کی فکر کو مہمیز دی اور انھیں مزید کھوج پر لگا دیا۔

اسلامی دنیا کے پہلے سّکہ بند ماہر بصریات ابو سعد العلاء بن سہل تھے۔ تعلق ایران سے تھا۔940ء میں پیدا ہو کر 1000ء میں چل بسے۔ بوید سلطنت کے دربار سے منسلک رہے۔ 984ء میں ابن سہل نے علم بصریات کے نظریات و تجربات پہ ایک کتاب لکھی جس کے کچھ حصّے آج بھی محفوظ ہیں۔انھوں نے اپنے زمانے میں موجود ہر قسم کے عدسوں سے تجربات کیے اور پھر ان کے نتائج اپنی کتاب میں درج کیے۔

روشنی جب ایک واسطے(medium)سے گذر کر دوسرے واسطے میں داخل ہو تو قدرتی طور پہ خم کھا جاتی ہے۔خم کھانے یا مڑنے کا یہ عمل سائنسی اصطلاح میں ’’انعطاف‘‘(refraction)کہلاتا ہے۔ابن سہل نے اپنی کتاب میں پہلی بار اس عمل کاذکر تفصیل سے کیا۔اسی لیے انھیں ’’قانون انعطاف‘‘کا موجد کہا جاتا ہے۔ یہ قانون اب ایک یورپی ماہر کے نام پر سنیل قانون‘‘(Snell’s law)بھی کہلاتا ہے۔

ابن سہل کی کتاب اور کاوشوں سے مصر کے عظیم مسلم سائنس داں،ابن الہیثم (متوفی 1040ء )نے فائدہ اٹھایا۔آپ نے اپنی تحیق و تجربات کی بدولت علم بصریات کو خوب ترقی دی اور اسے بام عروج پہ پہچا دیا۔اسی لیے ان کو ’’بابائے بصریات‘‘کہلانے کا اعزاز حاصل ہوا۔انھوں نے اپنی تاریخ ساز کتاب ’’کتاب المناظر‘‘ (Book of Optics)میں انعطاف، انکعاس (reflection ) اور عدسوں کے بارے میں تفصیل سے لکھا۔ابن الہیثم بھی مختلف اقسام کے عدسوں کی مدد سے تجربات کرتے رہے۔مگر ان کی تحقیق و تجربات کا اصل موضوع ’’روشنی‘‘ (Light) تھا۔ اسی لیے وہ خرد حیاتیے نہیں دیکھ سکے۔تاہم ان کی تحقیق سے بعد ازاں زیادہ بہتر عدسے بنانے میں ضرور مدد ملی۔مثلاً ابن الہیثم نے ہی بتایا کہ عدسہ جتنا زیادہ باریک ہو،وہ اشیاکو اتنا ہی بڑا کر کے دکھا سکتا ہے۔

خردبین کی ایجاد

مسلم سائنس دانوں کی تحقیق سے یورپی ماہرین نے استفادہ کیا۔چناں چہ جب دنیائے اسلام میں سائنس زوال پذیر ہوئی تو اسے ترقی و ترویج دینے کی ذمے داری یورپی سائنس دانوں نے سنبھال لی۔وہ گلاس سے ایسے عدسے بنانے لگے جو چیزیں کئی گنا بڑا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ 1286ء کے لگ بھگ اٹلی کے شہر پیسا میں دنیا کی پہلی عینک ایجاد ہوئی۔رفتہ رفتہ ہالینڈ بھی صاف وشفاف اور معیاری قسم کے عدسوں کی تیاری کا اہم مرکز بن گیا۔

یہی وجہ ہے،دنیا کی پہلی دوربین اور خردبین، دونوں ہالینڈ میں ایجاد ہوئیں۔ دوربین کا موجد، ہانس لپرشے مڈل برگ شہر کا باسی تھا۔اس نے 1608ء میں دوربین ایجاد کی۔کہا جاتا ہے کہ اس نے خردبین بھی بنائی تھی۔مگر بیشتر ماہرین کے نزدیک یہ آلہ 1620ء کے لگ بھگ ایک اور ولندیزی موجد،کارلینس ڈریبل نے ایجاد کیا۔بہرحال ان دونوں انقلابی ایجادت کے ذریعے دور اور نزدیک کی اشیا کو بڑا کر کے دیکھنا آسان ہو گیا۔

عجیب وغریب شخصیت

اس کے بعد خرد حیاتیہ کی تاریخ میں ایک عجیب وغریب شخصیت ،انطونی فان لیون ہاک داخل ہوتی ہے۔وجہ یہ کہ لیون ہاک تقریباً ناخواندہ تھا۔اس نے محض ابتدائی جماعتیں پڑھی تھیں،اس باعث وہ صرف اپنی مادری (ولندیزی) زبان لکھ و پڑھ لیتا تھا۔دراصل عدسے بنانے کے شوق نے اسے یہ منفرد اعزاز دے ڈالا کہ وہ دوڑتے بھاگتے جرثومے دیکھنے والا پہلا انسان بن گیا۔حقیقت میں وہ ایک کپڑا فروش تھا۔

لیون ہاک 24اکتوبر1632ء کو ہالینڈ کے شہر ڈیلفٹ میں پیدا ہوا۔نچلے متوسط خاندان سے تعلق تھا۔اس کا باپ ٹوکریاں بنا کر بیچتا تھا۔پانچ برس کا تھا کہ باپ مر گیا۔ جلد ماں نے دوسری شادی کر لی۔دس سال کا ہوا تو سوتیلا باپ بھی چل بسا۔وہ پھر چچا کے ساتھ رہنے لگا۔چچا نے اسے پرائمری کلاسوں تک تو تعلیم دلائی پھر مالی مدد کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔چناں چہ سولہ سالہ لیون ہاک روزگار کی تلاش میں ولندیزی دارالحکومت ایمسٹرڈیم جا پہنچا۔وہاں اسے کپڑے اور ملبوسات فروخت کرنے والی دکان میں ملازمت مل گئی۔وہ اس سے چھ سال تک منسلک رہا اور کپڑا بیچنے کے اسرار و رموز سے واقف ہو گیا۔

دکان پر پارچہ فروش آلہ مکبّر(magnifying glass)کے ذریعے مختلف کپڑوں کے دھاگوں کا معائنہ کرتے تھے۔مدعا یہ تھا کہ وہ دھاگے کے معیار کا جائزہ لے سکیں۔لیون ہاک کو یہ انوکھی سرگرمی بہت بھائی۔اس نے بھی ایک آلہ مکبر خریدا اور دھاگوں کے علاوہ مختلف چھوٹی بڑی اشیا کا معائنہ کرنے لگا۔اسے پھر یہ شوق پیدا ہوا کہ چھوٹی سی چھوٹی شے کو بڑا کر کے دیکھا جائے۔چناں چہ وہ عدسے سازوں کے پاس جانے لگا تاکہ ان سے ایسا عدسہ خرید سکے جو چھوٹی اشیا کو زیادہ سے زیادہ بڑا کر دے۔ان سے میل جول رکھنے پر لیون ہاک کو معلوم ہوا کہ عدسہ جتنا باریک ہو،اس سے چھوٹی اشیا اتنی ہی بڑی دکھائی دیتی ہیں۔وہ پھر ان سے یہ آلہ بنانے کا فن سیکھنے لگا تاکہ خود مطلوبہ عدسے بنا سکے۔ جب اس نے پارچہ فروشی کی ملازمت چھوڑی، عدسے بنانے کے رموز جان چکا تھا۔

1653ء میں لیون ہاک واپس آبائی شہر پہنچا اور وہاں کپڑے فروخت کرنے کی دکان کھول لی۔ساتھ ہی مقامی بلدیہ کے دفتر میں جزوقتی ملازمت کرنے لگا۔ اس کی صرف ایک بیٹی تھی۔دکان اور بلدیہ ملازمت سے اسے معقول رقم مل جاتی۔یوں اسے کبھی مالی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا جن سے عموماً تخلیق پسند مردوزن نبردآزما رہتے ہیں۔لیون ہاک اپنی ساری زائد آمدن اور سارا فارغ وقت عدسے بنانے پہ لگا دیتا۔وہ اعلی قسم کا گلاس خریدتا اور اس سے نفیس و باریک عدسے بنانے کی سعی کرتا۔اس نے گلاس کو آگ پر تپا کر اسے نہایت باریک کرنے کا فن سیکھ لیا۔مسلسل تجربات و تحقیق سے وہ ایسے عدسے بنانے پہ قادر ہو گیا جو ایک شے کو دو ڈھائی سو گنا زیادہ بڑا کر سکتے تھے۔جبکہ اس زمانے کے مروجہ عدسے اشیا کو صرف تیس چالیس گنا بڑا ہی کر پاتے تھے۔

یہ تو پاگل ہے

لیون ہاک ہر وقت اپنی تجربہ گاہ میں گھسا رہتا تھا اور پڑوسیوں سے کم ہی ملتا۔ پڑوسی اسی لیے اسے پاگل اور سنکی سمجھتے۔اکثر وہ اس کا مذاق اڑایا کرتے۔لیون ہاک مگر برا نہ مانتا۔وہ کہتا:’’یہ لوگ انجان ہیں۔انھیں نہیں معلوم کہ میں کتنا اہم اور انسانیت کے لیے مفید کام کر رہا ہوں۔‘‘اس کی یہ پیشن گوئی درست ثابت ہوئی۔آخرکار کئی برس کی محنت، مستقل مزاجی اور عرق ریزی کی بدولت لیون ہاک ایسے عدسے بنانے میں کامیاب ہو گیا جن کے ذریعے جراثیم کو دیکھنا ممکن تھا۔اس نے ان ننھے جانداروں کے خاکے(ڈرائنگ)بھی بنائے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ عین ممکن تھا،دنیا والے لیون ہاک کی دریافت سے بے خبر رہتے کیونکہ وہ لاطینی زبان سے ناواقف تھا۔جبکہ اس زمانے میں یورپ کی پوری سائنس وٹکنالوجی صرف اسی زبان میں موجود تھی۔

لیون ہاک کی خوش قسمتی کہ ڈیفلٹ میں ایک ڈاکٹر،رئینر ڈی گراف بھی رہتا تھا۔ اس نے یورپ میں سائنس دانوں کی سب سے بڑی تنظیم،رائل سوسائٹی کے ارکان کو خط لکھ کر لیون ہاک کے کارنامے سے آگاہ کیا۔بعد ازاں ڈاکٹر گراف کی کوششوں سے لیون ہاک نے ولندیزی زبان میں اپنا کام لکھ کر رائل سوسائٹی بھیجا جہاں اس کا ترجمہ کرایا گیا۔اس طرح دنیا والے ایک گمنام، ناخواندہ مگر شوقیہ عدسے بنانے والے ولندیزی کے کارناموں سے واقف ہوئے۔

جراثیم کی نسبت وائرس بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔اسی لیے ان کا مشاہدہ کرنے والی خوردبینیں کئی برس بعد وجود میں آئیں۔تب سے بنی نوع انسان وائرسوں،جراثیم اور خرد حیاتیوں کی دیگر اقسام پہ عمیق تحقیق کر رہا ہے۔ اس جادوئی وطلسماتی دنیا کے سبھی اسرار ابھی وا نہیں ہوئے ۔سائنسی تحقیق و تجربات کا سفر جاری وساری ہے۔بقول شاعر مشرق:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

عرب سائنس دانوں کے نقلچی یورپی
علوم و فنون کے مسلم ماہرین کی کاوشیں جب صلیبی جنگوں کے بعد یورپ پہنچیں تو وہاں بھی علم وتحقیق اور تجربات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔سائنس سے دلچسپی رکھنے والے یورپیوں نے پھر اسلامی سائنس سے استفادہ کر کے اپنی علمی مساعی کو جلا بخشی۔پہلے پہل اسلامی علوم کی کتب عربی سے لاطینی زبان میں ترجمہ کی گئیں۔یوں یورپی ماہرین مسلمانوں کے روشن کیے گئے علمی و سائنسی چراغوں سے روشنی پانے لگے۔مزید دلچسپی بڑھی تو انھوں نے عربی سیکھ کر عربوں کے علوم سے شناسائی پائی اور انھیں ترقی دینے لگے۔اسلامی سائنس کی مدد ہی سے پھر یورپی ماہرین نے وہ کارنامے انجام دئیے جو زوال پذیر نہ ہونے کی صورت میں مسلمانوں کے ہاتھوں انجام پذیر ہوتے۔

فرانس کے ممتاز دانشور،رابرٹ بریفالٹ نے اپنی تصنیف ’’تشکیل انسانیت‘‘(The Making of Humanity)میںقرون وسطی میں یورپی باشندوں کی علمی حیثیت کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ہے:’’قرطبہ(اسپین)کا ایک پادری،الوار لکھتا ہے کہ تمام تعلیم یافتہ عیسائی نوجوان (اسلامی)مدارس سے پڑھے ہوئے ہیں۔وہ عربی زبان و ادب سے آشنا ہیں۔عربوں کی کتب ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں۔مطالعے کی خاطر عربوں کے کتب خانوں میں جاتے اور شب وروز عربی کے گُن گاتے ہیں۔جب فرانس کے علاقے،آری لک کا ایک معلم،فیبرٹ1010ء میں اسپین(اندلس)سے ریاضی وہئیت سیکھ کر واپس اپنے ملک گیا تو وہاں لوگ اس سے جدید معلومات سن کر حیرت زدہ رہ گئے۔‘‘

امریکا کا مشہور مورخ اور فلسفی ،ول ڈیوراں اپنی کتاب’’دی ایج آف فیتھ‘‘ میں مسلم سائنس دانوں اور موجدوں کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:’’اسپین کے ایک موجد، ابن فرناس نے تین چیزیں ایجاد کر کے سبھی کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا:اول عدسہ،دوم وقت بناے والی گھڑی جو کھیلوں اور دوڑوں میں استعمال ہوتی ہے اور سوم ایک مشین جو اڑ سکتی تھی۔‘‘

یہ اس سائنسی ترقی کی معمولی سی جھلک ہے جو مسلم ماہرین نے اپنے دور عروج میں انجام دی۔انھوں نے کئی ایجادات پیش کر کے انسان کی اندگی آسان بنا دی۔وہ ماضی کی ایجادوں میں بھی جدتیں پیدا کرتے رہے۔فرانس کا مشہور دانشور، گوستاو لوبون(Gustave Le Bon) اپنی کتاب’’تمدن عرب‘‘(La Civilisation des Arabes ) میں لکھتا ہے:

’’یورپ میں پندرہویں صدی تک ہر مصنف اور ماہر عربوں(مسلمانوں) کا ناقل(نقلچی) تھا۔راجر بیکن،پادری تھامس ،البرٹ بزرگ ،الفانسو دہم وغیرہ عربوں کے شاگرد تھے یا ناقل۔مثلاً البرٹ بزرگ نے جو کچھ پایا، وہ ابن سینا کی دین تھا۔سینٹ تھامس نے اپنا فلسفہ ابن رشد سے لیا۔‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔