توانائی بحران کے باوجود غیر ملکی کمپنیوں کا مزید 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم

بزنس رپورٹر  بدھ 29 جنوری 2014
کراچی: اوورسیزانویسٹرزچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اجلاس سے خطاب کررہے ہیں ۔ فوٹو : پی پی آئی

کراچی: اوورسیزانویسٹرزچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اجلاس سے خطاب کررہے ہیں ۔ فوٹو : پی پی آئی

کراچی: اوورسیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی اراکین کمپنیوں نے تمام معاشی پریشانیوں ، بجلی کے بحران اور گورننس کے مسائل کے باوجود پاکستان پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ برسوں میں مزید سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2013 کے دوران کیے گئے ’’پرسیپشن اینڈ انویسٹمنٹ‘‘ سروے کے مطابق پاکستان میں کام کرنے والی غیرملکی کمپنیاں پاکستان کو کاروبار کرنے کے لحاظ سے بھارت، فلپائن، سری لنکا، بنگلہ دیش اور ویت نام کے مقابلے میں بہتریا ان کے جیسا ملک سمجھتی ہیں۔سروے کے مطابق غیرملکی کمپنیاں پاکستان کو کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے مثبت اندازمیں دیکھتی ہیں اور سروے کی گئی تمام کمپنیاں پاکستان میں اپنے آپریشنز جاری رکھنا چاہتی ہیں جبکہ تقریباً دو تہائی کمپنیاں پاکستان میں اپنے آپریشنز کو توسیع دینا چاہتی ہیں۔ سروے کے مطابق چیمبر کے43 فیصد ممبران نے امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ 1 سے 3سال میں مزید سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں جبکہ 45فیصد کمپنیاں آئندہ 4سے 5سال میں ماضی کے اس عرصے کے مقابلے میں مزید سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں اور زیادہ تر کمپنیاں مزید روزگار کے مواقع سے متعلق مثبت توقع رکھتی ہیں۔

موجودہ حکومت پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے چیمبر کے 83فیصد اراکین انے امید ظاہر کی کہ موجودہ حکومت بزنس کرنے کے ماحول کو سازگار بنائے گی جبکہ 75فیصدکا خیال ہے کہ وہ پاکستان میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کی تجویز دیں گے۔

 

غیر ملکی سرمایہ کاروں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حکومت تمام مسائل کو حل کرکے بہتر پالیسیاں بنا کر گورننس کو بہتر بنائے گی۔ چیمبرکے اراکین نے آئندہ 5سال میں تقریباً 3ارب ڈالر سے زائد نئی سرمایہ کاری کرنے کی امید ظاہر کی جو موجودہ مشکل معاشی حالات میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔ سروے کے مطابق سال 2011 کے مقابلے میں2013میں کاروبار کرنے اور نئے کاروبار کے آغاز سے متعلق سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے جس کی خاص وجہ منافع کی بیرون ملک منتقلی کی اجازت اور مقامی فنانس کی سہولتیں شامل ہیں جبکہ سروے کے مطابق ٹیکس ریفنڈ کی عدم ادائیگی غیرملکی سرمایہ کاروں کا اہم مسئلہ ہے۔

سروے کے مطابق پاکستان میں ٹریڈ مارک کی پروٹیکشن نہ ہونا اور دانشورانہ ملکیتی حقوق کے قوانین پر عمل نہ ہونا بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلیے اہم مسئلہ ہے،70فیصد غیر ملکی کمپنیوں کے ہیڈ کوارٹرز کراچی میں ہونے کی وجہ سے زیادہ تر کمپنیوں نے امن و امان کو اہم ترین مسئلہ قراردیا جبکہ بجلی بحران بھی اہم مسئلہ رہا۔ فارما سوٹیکل انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے اراکین کے مطابق ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی کے قیام کے باوجود انڈسٹری کی دیرینہ مسائل حل نہیں ہوئے جن میں دواؤں کی قیمت فروخت کا تعین، ڈرگ رجسٹریشن اور کنٹریکٹ مینو فیکچرنگ جیسے معاملات شامل ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے معاہدوں پر عملدرآمد اور کسی تنازع کی صور ت میں 7سال سے زائد کا عرصہ لگنا تشویش ناک بات ہے جبکہ کسی فیصلے پر عملدرآمد میں 2 سال سے زائد کاعرصہ لگنا بھی قابل تشویش ہے۔

چیمبر کے صدرکمھیڈے اینڈونے کہاکہ 35ملکوں کی ممبر کمپنیوں کے سروے نتائج کو سنجیدگی کے ساتھ لینا چاہیے کیونکہ یہ کمپنیاں ملک کے مجموعی ٹیکس کا ایک تہائی اداکرتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر اور بجلی کے بحران پر قابو پاکر پاکستان بہت بڑی تعداد میں غیرملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری پر آمادہ کرسکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2013 کے سروے میں سامنے آنے والے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت اپنی خامیوں کو دور کرے گی اور پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے بہتر ملک بنائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔