مذاکرات سے ایسا راستہ نکالنا چاہتے ہیں جس سے آگ وبارود اورخون کا کھیل ختم ہو، رکن حکومتی کمیٹی

ویب ڈیسک  بدھ 29 جنوری 2014
حکومت کی جانب سے کمیٹی تشکیل دینے کا بنیادی مقصد مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے،  عرفان صدیقی  فوٹو: پی آئی ڈی

حکومت کی جانب سے کمیٹی تشکیل دینے کا بنیادی مقصد مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے، عرفان صدیقی فوٹو: پی آئی ڈی

اسلام آباد: وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور طالبان سے مذاکرات کے لئے تشکیل دی جانے والی کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ طالبان کو چاہئے کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے حکومتی کمیٹی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی جانب  سے بھی  کمیٹی کا اعلان کریں تاکہ کوئی ایسا راستہ نکالا جاسکے جس سے آگ وبارود اورخون کا کھیل ختم ہو۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اس اقدام کا بنیادی مقصد مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے جس کے تحت دونوں فریقین ایک دوسرے کی بات سن سکیں اور بتایا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، طالبان کو چاہئے کہ وہ حکومتی کمیٹی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی طرف سے بھی ایک کمیٹی کا اعلان کریں تاکہ رابطے کا  آغاز ہو اور مل جل کر کوئی ایسا راستہ نکالا جائے جس سے آگ و بارود اور خون کا کھیل ختم ہو۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ آج ہماری درس گاہیں محفوظ نہیں ہیں، کھیل کے میدان سونے ہوگئے جب کہ کوئی سیاح پاکستان آنے کےلئے تیار نہیں ان تمام مسائل سے نکلنے کےلئے کسی پیشگی شرط کے بغیر اس کمیٹی کو تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کی جانب سے مذاکرات کے لئے جو کوشش کی گئی ہے اس میں روائتی طریقے سے ہٹ کر حکومتی اور سینیر سیاستدانوں کے بجائے ایسے افراد کو شامل کیا گیا ہے جن کا اس حوالے سے گہرا مطالعہ، مشاہدہ، تعلقات اور اہم کردار ہے، ان راکین کے تجربات اور دیانتداری سے حکومت فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

مذاکراتی کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے کہا کہ طالبان کے مختلف گرپوں کی طرف سے حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی کمیٹی کو سراہتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ پہلی سنجیدہ کوشش ہے لیکن اس سے پہلے بھی حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لئے کی جانے والی کوششیں سنجیدہ تھیں جن کے کامیاب نہ ہونے پر ہم سب کو افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثرات درست نہیں کہ حکومت نے مذاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم کا حلف اٹھانے سے قبل نواز شریف نے مذاکرات کی کوششیں شروع کردی تھیں اور اس سلسلے میں وہ افغانستان میں پاکستان کے سفیر سے بات بھی کرنا چاہتے تھے، اس سے قبل جب مسلم لیگ(ن) کی وفاق میں حکومت نہیں تھی  تو جب بھی وہ کمیٹی میں شامل کئے جانے والے اراکین سے مشاورت کرتے رہتے تھے جب کہ پچھلے 6 ماہ کے دوران بھی ان اراکین کے ساتھ مختلف مقامات پر ملاقاتیں کی گئیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔