چلتی پھرتی اساطیر

اقبال خورشید  جمعرات 30 جنوری 2014

فکشن کی لازوال دنیا کا ایک یادگار ابتدائیہ:
’’جولائی کے دن تھے۔ صبح سویرے منہ اندھیرے، ایک ٹم ٹم بے اسپرنگ کی، طوفان نوح سے پہلے کے وقتوں کی کہ بیٹھنے والے کی ہڈی پسلی ایک کر دے، نون نام والی بستی سے ٹخ ٹخ کرتی، کھڑکھڑاتی نکلی اور باہر جانے والی سڑک پر پڑ لی۔ بیوپاری، غریب پادری، گامے ماجھے، روس میں تو اب بس یہی لوگ اِس سواری میں بیٹھتے ہیں!‘‘

اور اب ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’شکی مت بنو۔ مت کہو کہ معجزوں کا زمانہ گزر گیا، جن آسمانی میزبانوں کے ساتھ میرا قیام ہے، اُن کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ جو ہمارے گمراہ اجداد تھے، اُن کی بربادی کے بعد سے لے کر اب تک سب سے زیادہ ہوش رُبا زمانہ یہ ہمارا زمانہ ہے۔ ذرا سوچیں، اگر کہیں ہمارے بزرگ جی اٹھیں، اور ریڈیو سنیں، ٹیلی ویژن دیکھیں، جمبو جٹ کو کسی ہوائی اڈے پر اترتے دیکھ لیں، تو وہ کیا سمجھیں گے، یہی کہ ہم مشرک ہو گئے ہیں!‘‘

ٹم ٹم کا بیان چیخوف کی طویل کہانی “The Steppe” کا آغاز ہے، اور دوسرا ٹکڑا فلسطینی ادیب، ایمل حبیبی کے ناول The Secret Life of Saeed the Pessoptimist سے لیا گیا۔
تخلیقات دونوں اعلیٰ معیار کی ہیں۔ تحسین کے لیے الفاظ کی زنبیل کم پڑ جائے۔ یہاں تذکرے کا سبب اِن نثرپاروں کا باکمال ترجمہ ہے۔ رواں، بہتا ہوا ترجمہ، جو اردو کے ممتاز ادیب، انتظار حسین کے قلم سے نکلا ہے۔ چیخوف کے قصّے کا نام اُنھوں نے ’’ گھاس کے میدانوں میں‘‘ رکھا، ایمل حبیبی کی گھڑنت کو ’’سعید کی پُراسرار زندگی‘‘ کہہ کر پکارا۔

انتظار صاحب کی بابت لکھتے سمے اپنی کم مائیگی کا احساس بڑا ستاتا ہے۔ اُن کا قد ہی اتنا بڑا ہے۔ ناول اُن کے سارے ہی پڑھے۔ افسانے بھی مطالعے میں رہے، پر اِن اصناف پر اُن کی گرفت سے متعلق ثقہ اہل دانش کی رائے دست یاب ہے۔ ہم تو اچھے سارق بھی نہیں کہ اُن ہی کے الفاظ اچک لیں۔ البتہ شبدوں کی گنی چنی بندش میں، اُن کے باب میں اتنا کہنا چاہیں گے کہ جادوئی نثر لکھتے ہیں، قاری کو گرویدہ بنا لینے سے کم پر مانتے ہی نہیں۔ترجمہ نگار وہ منفرد ہیں۔ بڑی گرفت ہے جناب۔ ہماری رائے کی کیا حیثیت۔ چیخوف کے دیس سے آنیوالی ڈاکٹر لڈمیلا کے الفاظ نقل کیے دیتے ہیں۔ کہتی ہیں: ’’جب انتظار حسین کا یہ ترجمہ پڑھا، تو لگا کہ چیخوف کی کہانی پڑھ رہی ہوں۔ تحریر پر ترجمے کا گمان ہی نہیں ہوتا!‘‘

نہ تو ہم روسی ہیں، نہ ہی کوئی اسکالر۔ بے حیثیت ہیں۔ اور اِسی حیثیت میں اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ترجمہ پڑھ کر بڑا ہی لطف آیا۔ خاکسار کے نزدیک اگر اردو کی ہر دل عزیز شخصیت کا ایوارڈ ہوتا، تو انتظار صاحب کے حصے میں آتا۔ ویسے شہرت مسائل کو بھی ہوا دیتی ہے۔ سکّے کے دو رُخوں کے مانند مداح اور ناقد ساتھ ساتھ ملتے ہیں۔ مگر ماننا پڑے گا کہ ناقدین بھی تذکرہ ان کا بڑے احترام سے کرتے ہیں۔
ہاں، کچھ کو شکوہ ہے کہ وہ ’’ماضی پسند‘‘ ہیں۔ ہمارا موقف ہے کہ حال ہمارا پتلا، اور مستقبل تاریک۔ ماضی جیسا بھی تھا، لمحۂ موجود کی ابتری سے بہتر تھا۔ اُسے دہرانے میں کیا مضایقہ۔ پھر انتظار صاحب، خدا اُن کا اقبال بُلند کرے، بُلند شہر کے ہیں۔ میرٹھ سے ایم اے کیا۔ اُن دنوں کو یاد کرتے ہیں، تو ہمیں اُس زمانے کی خبر مل جاتی ہے۔

اُن کے ہاں ثقافتوں کا سنجوگ ملتا ہے۔ اِسی سمبندھ سے اساطیری روایات اُن کے ہاں در آتی ہیں۔ کچھ ناقدین کا موقف ہے کہ اِس مشق سے تحریر گنجلک ہو جاتی ہے۔ ہمیں تو ہندی اساطیر بھاتی ہے۔ اور جب انتظار صاحب کو ادبی کانفرنسوں میں چلتا پھرتا دیکھتے ہیں، تو یوں لگتا، جیسے ایک اساطیری کردار چل پھر رہا ہے۔ اچھا لگتا ہے۔

کچھ اہل علم اُن کے ادبی نظریے پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ یہ ہمارا دردِ سر نہیں۔ ہم اپنے نظریے میں مست۔ پھر حالات نازک ہیں، محافل کا تو ذکر ہی کیا، دیواروں کی قوتِ سماعت سے خوف زدہ انسان خود کلامی سے بھی کترانے لگا ہے۔ اوروں کے نظریات کے لیے خود کو کیا ہلکان کرنا۔

پڑھ تو اُنھیں برسوں سے رہے ہیں، اور برسوں سے سر دھن رہے ہیں۔ براہ راست دیکھنے کا اتفاق کراچی میں منعقدہ ایکسپریس کی پہلی اردو کانفرنس میں ہوا۔ میز پر کھانے چُنے تھے۔ ہم اِدھر تھے، وہ اُدھر۔ انھیں دیکھ کر ہم پھولے نہ سمائے۔ بات کرنے کی ہمت نہیں پڑی۔ بس، جی ہی جی میں خوش ہوتے رہے۔ لاہور کی دوسری عالمی کانفرنس میں پھر سامنا ہوا۔ مصافحہ کیا، خیریت پوچھی، اور کنارہ پکڑ لیا۔ خوش ہونے سے اِس بار بھی خود کو باز نہیں رکھا۔اُنھیں مین بُکر انٹرنیشنل پرائز کے لیے نامزد کیا گیا، تو ہم نے جشن منایا۔ ارادہ باندھ لیا کہ جُوں ہی اعلان ہو گا، قلم لے کر بیٹھ جائیں گے، ایکسپریس میگزین کے لیے ایک بَڑھیا سا مضمون لکھیں گے۔ افسوس، یہ ہو نہ سکا۔

یہاں وضاحت کر دیں کہ ہم اُس قبیلے سے نہیں، جو مُصر ہے کہ ہم نے بین الاقوامی معیار کا ادب تخلیق کیا۔ ہم تو ادب کی زوال پذیری پر گریہ کرنیوالوں میں سے ہیں۔ ہر صبح بیدار ہونے کے بعد یہی کرتے ہیں۔ خوب جانتے ہیں کہ نہ تو اردو میں ٹالسٹائی اور ڈکنز جیسے ناول نگار گزرے، نہ ہی موپساں اور چیخوف جیسے کہانی نویس۔ سارتر اور کامیو کے درجے کو بھی کوئی نہیں پہنچا۔ عزیزو، بین الاقوامی ادب میں ہمارا سراغ کہیں نہیں۔ البتہ مدعا کچھ اور ہے۔ ہم نوبیل اور بُکر جیسے اعزازات کے باب میں پریشان ہیں۔

دقت یہ رہی کہ اب تک جن 110 عزت مآب تخلیق کاروں کو نوبیل اعزاز کے لیے چُنا گیا، اُن میں نہ تو ٹالسٹائی کا نام ملتا ہے، نہ ہی چیخوف کا۔ مارک ٹوین، جیمز جوائس اور بورخیس بھی محروم رہے۔ سارتر نے ایوارڈ لوٹا دیا۔ انتخاب کی کسٹوٹی پر شک و شبہات کا اظہار اوائل سے کیا جا رہا ہے۔ کچھ ایسے بھی فاتح ٹھہرے، جنھیں حق دار کے بجائے نوبیل کمیٹی کی ’’دریافت‘‘ قرار دیا گیا۔ مین بُکر پرائز کے باب میں خاموشی بہتر۔ وہ تو Life of Pi کو بھی مل گیا۔ گزشتہ برس Lydia Davis کو مین بُکر انٹرنیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ٹھیک ہے، ہم بھی مختصر کہانیوں کے مداح ہیں، پر کیا اُن کا بیانیہ کہانیوں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے؟

عجب ہے۔ اِس خطے کی کچی پکی کہانیاں بیان کرنے والے، اِس خطے کے انگریز لکھاری بین الاقوامی اعزازات کے حق دار، اور اردو کے تجربے کار فکشن نگار نامزدگی تک محدود۔ اگر انتظار صاحب کو ایوارڈ مل جاتا، تو اردو ادب کے مدح سرا اور ناقدین، دونوں کا مسئلہ حل ہو جاتا۔ دیکھا گیا ہے کہ جس ادیب کو بین الاقوامی ایوارڈ ملا، مغرب میں اُس کے ہم عصر ہم وطنوں کی تخلیقات کے بھی ترجمے ہوئے۔ اردو فکشن اس مرحلے سے گزر جاتا، تو دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جاتا۔ بحث منطقی انجام کو پہنچتی۔ خلاصہ ہو جاتا ہے کہ بین الاقوامی دنیا میں آپ کہاں کھڑے ہیں۔
قصّے کو طول دینے کے بجائے ہم ڈاکٹر لڈمیلا ہی کا ایک اور جملہ نقل کیے دیتے ہیں۔ بھری محفل میں اُنھوں نے کہا تھا: ’’انتظار حسین کو مین بُکر پرائز نہ ملنا سراسر ناانصافی ہے!‘‘

خیر، ناانصافیاں ہماری قسمت میں لکھی ہیں، سو شکایات کا پٹارا بند کرتے ہیں۔ تذکرۂ انتظار حسین تک محدود رہتے ہیں:
چار ناول اُنھوں نے لکھے؛ ’’چاند گہن‘‘، ’’بستی‘‘، ’’تذکرہ‘‘ اور ’’آگے سمندر ہے‘‘۔ ’’بستی‘‘ شہرت کی وجہ بنا۔ فرانسس پریچٹ اس کا انگریزی میں ترجمہ کر چکے ہیں۔ دیگر تخلیقات کو بھی انگریزی میں ڈھالا گیا۔ افسانے کلیات میں سموئے جا چکے ہیں۔ خود نوشت ’’جستجو کیا ہے‘‘ کے زیر عنوان چھپی۔ ایمل حبیبی اور چیخوف کے علاوہ ترگنیف، اسٹیفن کرین اور عطیہ حسین کے ناولز کو اُنھوں نے اردو کا لباس عطا کیا۔ویسے بزرگ دعووں سے اجتناب کی نصیحت کرتے ہیں کہ اِس معاملے میں سبکی کا امکان قوی ہوتا ہے، مگر ایسی زندگی کا فائدہ ہی کیا، جس میں انسان چائے کا کپ پرے دھکیل دے، اور یومیہ دو تین دعویٰ نہ کرے۔ تو صاحبو، ہم بھی ایک دعویٰ کرنے جا رہے ہیں کہ آنیوالے، اِس عہد کو ’’انتظار حسین کا عہد‘‘ کہہ کر یاد کریں گے۔دعویٰ ہمارا اگر غلط بھی ثابت ہوا، تو کیا غم۔ مالی نقصان تو ہو گا نہیں۔ اور سیاست دانوں کے مانند اخلاقی نقصان کی بھلا کسے پروا ہے!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔