انٹرنیٹ۔۔۔خدائی تحفہ؟

شیخ جابر  جمعرات 30 جنوری 2014
shaikhjabir@gmail.com

[email protected]

ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے 77 سالہ اسقف اعظم جناب پوپ فرانس نے گزشتہ ہفتے اعلان فرمایا کہ ’’انٹرنیٹ یقینی طور پر بہت اچھا ہے‘‘ نیز یہ کہ ’’انٹرنیٹ خدائی تحفہ ہے۔‘‘ آپ نے انٹرنیٹ کی تعریف و توصیف میں تعریفی کلمات فرمائے۔ پوپ فرانس گزشتہ برس کیتھولک چرچ کے سربراہ مقرر پائے تھے۔ آپ باقاعدگی سے ’’ٹوئٹر‘‘ استعمال کرتے ہیں۔ معروف انگریزی جریدے ’’ٹائم‘‘ نے اس بارے میں 23 جنوری کو خبر دی۔ خبر دیتے ہوئے ’’سمنتھاگراس مین ’’ٹائم‘‘ میں لکھتی ہیں کہ سینٹ پیٹر کا تاج سجانے والوں میں پوپ فرانس سب سے زیادہ جدید رجحانات کے حامل نظر آتے ہیں۔ آپ نے مزید لکھا کہ یوں پوپ صاحب نے اس بحث کا خاتمہ کر دیا کہ ’’انٹرنیٹ کس نے ایجاد کیا تھا۔‘‘ اب سب کو پتا چل گیا کہ انٹرنیٹ خدا نے ایجاد کیا۔۔۔۔اب ہمیں انٹرنیٹ کی لت کی عمدہ تاویل مل گئی ہے۔ خدا ہمیں ایسا ہی دیکھنا چاہتا ہے۔ سمنتھا کی اس خبر کے ذیل میں سب سے پہلا تبصرہ اینڈریو پائنیر کا درج ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ مجھے امید ہے پوپ واقف ہوں گے کہ انٹرنیٹ منکر خدا، ہم جنس پرست کی دریافت ہے۔

ہم نہیں جانتے کہ انٹرنیٹ کس نے دریافت کیا۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اینڈریو پائنیر کی بات میں کتنی صداقت ہے کہ انٹرنیٹ منکر خدا، ہم جنس پرست نے دریافت کیا اور آیا کہ یہ پوپ صاحب کے علم میں ہے یا نہیں۔ لیکن ہم خدائی تحفے کی تعریف ضرور جاننا چاہیں گے۔ خدائی تحفہ کیا ہوتا ہے؟ خدائی تحفہ خدا کے قریب کرنے والا ہو گا یا خدا سے دور کرنے والا؟ خدائی تحفے کے استعمال کنندگان خدا اور آخرت کے زیادہ قریب ہوں گے یا دنیا کے؟ خدائی تحائف برتنے والوں کی زندگی کیسی ہو گی۔ یسوع مسیح اور ان کے حواریوں سے مماثل یا فرعون اور ہامان اور قارون جیسی؟ وہ آخرت کے قریب ہوں گے یا دنیا کے حریص قرار پائیں گے؟ خدائی تحفہ خدا کی یاد دلانے والا ہوتا ہے یا دنیا کی چمک دمک اور بھول بھلیوں میں گم کر دینے والا؟

بائبل میں ہے یسوع نے کہا کہ ’’تجھ کو اپنے خداوند خدا سے محبت کرنا چاہیے۔ تو اپنے دل کی گہرائی سے اور اپنے دل و جان سے اس کو چاہنا۔ یہی پہلا اور اہم ترین حکم ہے۔‘‘ (متی۔22:37 تا40)

دس خدائی احکام میں سے، بائبل کے مطابق پہلا اور اہم ترین حکم ’’خداوند خدا سے محبت‘‘ کا ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان کبھی کہیں اس حکم کی تعمیل میں مشغول نظر آئے۔ آج لاکھوں کی تعداد میں لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ کیا انٹرنیٹ کے استعمال سے ان کے قلوب میں خدا کی محبت جاگتی ہے؟ اقوام متحدہ کی پیش گوئی تھی کہ 2010ء تک انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد ساری دنیا میں 9 ارب تک ہو جائے گی۔ اب کیا کوئی یہ بتا سکے گا کہ 9 ارب انسانوں میں سے اس خدائی تحفے کے استعمال سے کیا صرف 9 افراد کی زندگیوں میں ایسی کایا کلپ ہو سکے گی کہ وہ بائبل کے مطابق دل کی گہرائی سے صرف اور صرف خدا کی چاہت میں مبتلا ہو جائیں گے؟

’’انڈیپنڈنٹ ڈاٹ آئی ای‘‘ نے 30 ستمبر 2013ء کو ایک سروے شایع کیا۔ سروے میں آن لائن فحاشی کا مطالعہ کیا گیا۔ 177 طالب علموں سے رابطے میں یہ پایا گیا کہ 97 فیصد طالب علم انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھتے ہیں۔ ان میں سے 23 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ باوجود کوشش کے اس لت سے چھٹکارا نہیں پا سکے۔ یہ سروے برطانیہ میں کیا گیا تھا۔ آئی او ایل لائف اسٹائل 3 ستمبر 2013ء کو لندن میں ہونے والے ایک سروے کی رپورٹ دیتا ہے کہ 800 نوجوانوں سے اس بارے میں رابطہ کیا گیا۔ نوجوانوں کی اکثریت ہفتے میں متعدد مرتبہ انٹرنیٹ پر فحش مواد استعمال کرتی ہے۔ ایسا صرف برطانیہ یا لندن ہی میں نہیں ہے۔ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں ہے ۔ امریکا تو فحاشی کا بے تاج بادشاہ ہے۔ 60 فیصد فحش سائٹس کی ہوسٹنگ وہیں سے ہوتی ہے۔ ’’بیٹابیسٹ‘‘ 12 نومبر 2013ء کو رپورٹ دیتا ہے کہ ’’مال ویئر ایکسپریس‘‘ نے ایک سروے میں بتایا کہ انھوں نے ایک کمپنی کے ’’ایگزیکٹیوز‘‘ کے کمپیوٹرز کو ’’کلین‘‘ کیا۔ کمپیوٹرز کی اس صفائی کے دوران انھیں اندازہ ہوا کہ ’’ایگزیکٹیوز‘‘ کے کمپیوٹرز 40 فیصد تک فحش مواد سے آلودہ تھے۔ امریکی کمپنیاں کام کے دوران کمپیوٹرز کے نجی استعمالات پر پابندیاں رکھتی ہیں۔ تمام تر سختیوں کے باوجود 29 فیصد امریکی جوان اپنے دفتر میں کمپیوٹرز پر انٹرنیٹ کے ذریعے فحش مواد دیکھتے ہیں۔ ’’انڈین ایکسپریس30 جولائی 2013ء کو بھارت کے ہائی اسکول کے طلبہ کے بارے میں رپورٹ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر (فار چلڈرن) کے ایک سروے کے مطابق نائنتھ گریڈ کے 100 فیصد لڑکے اور 50 فیصد لڑکیاں فحش مواد دیکھتے ہیں۔ ان میں سے 4500 بچوں نے جنسی جرائم کا ارتکاب کیا۔ ’’اے بی سی نیوز 10‘‘ 15 مئی 2013ء کو سروے شایع کرتا ہے جس کے مطابق انٹرنیٹ کی بدولت صرف 6 برس کے بچے فحش مواد دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

تفصیل اس اجمال کی بہت ہے جس کے بیان کی ضرورت نہیں۔ لکھنے والا جانتا ہے اور پڑھنے والے اس سے زیادہ ذہین ہیں کہ اس ’’خدائی تحفے‘‘ کی بدولت ہمارے کمپیوٹر ہمارے موبائل اور ٹیبلٹ اور ہمارے ذہن اور ہماری زندگیاں اور ہماری آنے والی نسلیں کس طرح فحاشی کے سیلاب میں غرق ہوئی جا رہی ہیں۔ کیا اب یہاں یہ بتانا رہ جاتا ہے کہ فحاشی کا یہ سیلاب کس طرح ہمیں ہماری اقدار کو اخلاق کو عادات کو اور جسمانی و ذہنی صحت کو برباد کیے دے رہا ہے۔ اس سے مذہبی، اخلاقی اور جنسی جرائم کتنے بڑھ رہے ہیں۔ اخلاق  باختگی کس کس طرح سے گھروں میں ڈیرے ڈال رہی ہے۔ خدارا ! ہمیں سمجھایا جائے کہ یہ کیسا خدائی تحفہ ہے۔ ہمارے سامنے تو بائبل کا یہ اقتباس بھی آ رہا ہے۔

’’اس بات کو تم سن چکے ہو کہ یہ کہا گیا ہے تم زنا کے مرتکب نہ ہو۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص کسی غیر عورت کو غلط نظر سے دیکھے اور اس سے تعلق قائم کرنا چاہے تو گویا اس نے اپنے ذہن میں عورت سے  گناہ  کیا۔ اگر تیری سیدھی آنکھ تجھے گناہ کے کاموں میں ملوث کر دے تو تو اس کو نکال کر پھینک دے۔ اس لیے کہ تیرا پورا بدن جہنم میں جانے کی بجائے بہتر یہی ہو گا کہ بدن کے ایک حصے کو الگ کر دیا جائے۔ (متی۔5:27تا 29)

سوال یہ ہے کہ یہ کیسا خدائی تحفہ ہے کہ جس کے 100 فیصد استعمال کنندگان جہنم کے حقدار قرار پا سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر موجود مفت فحش مواد تو ایک جانب رہا۔ نیٹ کی عام سائٹس پر جس طرح عریانی کو فروغ دیا جاتا ہے وہ بجائے خود ایک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ سائٹس جو صرف بچے اور بچیوں کے لیے بنائی گئی ہیں ان سائٹس پر بے لباس یا عریاں تصاویر، بوس و کنار چہ معنی دارد؟ کیا یہ سمجھنے کے لیے کسی افلاطونی دماغ کی ضرورت ہے کہ آج پیسہ خدا ہے،  سرمائے کی خدمت جس طور پر بھی ہو وہ جائز ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ انٹرنیٹ پر فحاشی صنعت کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ صرف برطانیہ نے اکیلے 2006ء میں ایک ارب نوے کروڑ کا ریونیو کمایا تھا۔ باقی ممالک اور دنیا بھر میں فحاشی سے ہونے والی آمدنی کا آج اندازہ کیا ہی جا سکتا ہے۔ سرمائے کے لیے دنیا بھر کی مذہبیت کو ہم نوا بنانا ذرا بھی مشکل ثابت نہیں ہوا۔ کم و بیش تمام مذاہب ہی کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور جدید رجحانات کے استعمال کے نہ صرف شائق ہیں بلکہ قصیدے پڑھتے نظر آتے ہیں۔ جیساکہ ہمارے حضرت پوپ صاحب نے فرمایا کیا یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنے دامن میں آگ بٹورے اور اس کے کپڑے نہ جلیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی انگاروں پر چلے اور اس کے پاؤں نہ جھلسیں؟‘‘ (امثال۔6:25 تا 27)

انٹرنیٹ بغیر بڑے بڑے کمپیوٹرز کے جنھیں ’’سرور‘‘ کہا جائے اور بڑے بڑے ’’ڈیٹا سینٹرز‘‘ کے نہیں چل سکتا۔ یہ سرور اور ڈیٹا سینٹرز بغیر بجلی کے نہیں چلتے۔ بجلی پیدا کرنے کے لیے دنیا بھر میں سب سے زیادہ انحصار کوئلے پر کیا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ کوئلہ جلتا ہے تو بجلی پیدا ہوتی ہے اور انٹرنیٹ چلتا ہے۔ لیکن اس کا ماحولیاتی پہلو بھی ہے۔ دنیا بھر کے سائنس دان بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ بجلی کی تیاری سے ماحولیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس سے زمین کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ فوری طور پر روکا نہ گیا تو آیندہ صدی میں زمین پر جان داروں کا وجود رہنا ممکن نہ ہو گا۔ ’’خدائی تحفے‘‘ نے اس خطرناک صورت حال کے لیے مہمیزکا کام کیا ہے۔ 2005ء کے اعداد و شمار کے مطابق صرف امریکا میں ایک کروڑ 30 لاکھ ڈیٹا سینٹرز تھے۔ 2006 ء کے اعداد و شمار کے مطابق یہ ڈیٹا سینٹرز ایک سال میں 61,000,000,000 کلوواٹ بجلی استعمال کر رہے تھے۔ یہ اتنی بڑی مقدار ہے جو پورے برطانیہ کی دو ماہ کی بجلی کی ضروریات کے مساوی بنتی ہے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آج کی ضروریات کتنی بڑھ گئی ہوں گی اور وہ زمینی ماحولیات کو کس درجے نقصان پہنچا رہی ہوں گی۔ برطانوی جریدہ11 جنوری 2009ء کو خبر دیتا ہے کہ اگر کوئی فرد ’’گوگل‘‘ پر دو عدد سرچ کرے تو ان دو سرچز کے نتیجے میں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتا ہے وہ اتنا ہی ہے جتنا ایک کیتلی پانی یا چائے ابالنے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان کس درجہ کاربن ڈائی آکسائیڈ زمین پر پھیلانے کا موجب بن رہے ہیں۔ نیز یہ کہ اس تباہی سے ہم خود اور ہماری آنے والی نسلیں تک متاثر ہوں گی۔ زیادہ تر سائنس دان تو یہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری زمین کے اور ہمارے صرف متاثر ہونے کی بات نہیں یہ ہمارے سیارے کی تباہی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہم یہ بات جانتے ہی نہیں ہیں کہ ہماری ایک ای میل کے نتیجے میں 50 گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ زمینی ماحول کا حصہ بنتی ہے۔ اگر آپ ایک گھنٹہ لیپ ٹاپ استعمال کریں تو 12 گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ پھیلاتے ہیں۔

ان حقائق کی روشنی میں انٹرنیٹ کا خدائی تحفہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ آج خدائی منصوبے سے متصادم چیزوں کو عین خدائی منصوبے کے طور پر پیش کرنے کی روش چل نکلی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔