غیر ملکی سرمایہ کاری نے حصص مارکیٹ کو بڑی مندی سے بچالیا

بزنس رپورٹر  جمعرات 30 جنوری 2014
انڈیکس 26 ہزار595 پر بند ہوا، بیشتر کمپنیوں کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مارکیٹ سرمایہ بلند۔ فوٹو: آن لائن/فائل

انڈیکس 26 ہزار595 پر بند ہوا، بیشتر کمپنیوں کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مارکیٹ سرمایہ بلند۔ فوٹو: آن لائن/فائل

کراچی: کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو بھی پرافٹ ٹیکنگ برقرار رہنے سے کاروباری صورتحال اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کی لپیٹ میں رہی تاہم آل شیئرانڈیکس میں5 پوائنٹس کے اضافے سے حصص کی مالیت 1ارب 63 کروڑ12 لاکھ43 ہزار99 روپے بڑھ گئی جبکہ اسکے برعکس57 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے جاری مستقل تیزی کے سبب مارکیٹ میں اب بھی مزید تکنیکی درستگی کی ضرورت ہے جس سے اسٹاک مارکیٹ مستقبل میں مضبوط بنیادوں پر کھڑی رہ سکتی ہے، مزیدکریکشن کے نتیجے میں انڈیکس کی 26000 پوائنٹس کی حد بھی گرنے کے امکانات ہیں جس کے بعد ہی کاروبارمیں دوبارہ تیزی کا رحجان غالب ہوسکے گا کیونکہ موجودہ حکومت کی جانب سے ملک گیر سطح پر دہشت گردی پر قابو پانے کی حکمت عملی میں سنجیدگی نظر آرہی ہے جبکہ کیپٹل مارکیٹ کے سرمایہ کار بھی پرامن ماحول کے خواہاں ہیں اور امن ہی مارکیٹ میں نئی اور وسیع البنیاد سرمایہ کاری کا سبب بن سکتا ہے، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر72.36 پوائنٹس کی تیزی اور بعدازاں 177.82 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران غیرملکیوں، میوچل فنڈز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر65 لاکھ79 ہزار881 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری نے مندی کی شدت میں کمی کا سبب بنی۔

 photo 4_zps83ac2c1a.jpg

کاروباری دورانیے میں مقامی کمپنیوں کی جانب سے24 لاکھ 60 ہزار126 ڈالر، بینکوں و مالیاتی اداروں کی جانب سے31 ہزار 308 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے18 لاکھ30 ہزار398 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 22 لاکھ 58 ہزار50 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا، مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 58.10 پوائنٹس کی کمی سے 26595.63 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 63.54 پوائنٹس کی کمی سے 19173.88 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس126.82 پوائنٹس کی کمی سے 43730.82 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت 9.92 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر27 کروڑ32 لاکھ20 ہزار 900 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 405 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 165 کے بھائو میں اضافہ، 231 کے داموں میں کمی اور9 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔