مصنوعی ذہانت کے نظام نے سیاہ فام افراد کو ’ بندر‘ قرار دے دیا فیس بک کی معذرت

2015 میں گوگل کی فوٹو ایپ نے بھی سیاہ فام افراد کو ’گوریلوں‘ کے طور پر شناخت کرنے کی غلطی کی تھی


ویب ڈیسک September 06, 2021
2015 میں گوگل کی فوٹو ایپ نے بھی سیاہ فام افراد کو ’گوریلوں‘ کے طور پر شناخت کرنے کی غلطی کی تھی۔(فوٹو: فائل)

لاہور:

فیس بک کے مصنوعی ذہانت کے ٹول نے سیاہ فام افراد کو ' بندر' قرار دے دیا، فیس بک انتظامیہ نے اس سنگین غلطی پر معافی مانگ لی۔


بی بی سی کے مطابق فیس بک ویڈیوز میں عنوان کی تجویز دینے والے مصنوعی ذہانت پر مشتمل نظام کی جانب سے استعمال کنندگان سے پوچھا گیا تھا کہ ' کیا وہ بندروں کے بارے میں ویڈیوز کو مستقل دیکھنا چاہتےہیں؟ جب کہ یہ ویڈیوز بندروں کے بجائے سیاہ فام مردوں پر مشتمل تھیں۔' فیس بک کی اس سنگین غلطی نے مصنوعی ذہانت کے نسلی تعصب برتنے کے خدشات کو دوبارہ اجاگر کردیا۔


اس بارے میں فیس بک انتظامیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ' واضح طور پر یہ ایک ناقابل قبول غلطی ہے' ہم نے مصنوعی ذہانت کے اس نظام کو غیر فعال کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ ہم ان سب لوگوں سے معذرت چاہتے ہیں جنہیں یہ توہین آمیز تجاویز دی گئیں۔


فیس بک کے مصنوعی ذہانت کے نظام میں ہونے والی یہ غلطی ماضی میں ہونے والی غلطیوں کا تسلسل ہے جس کی وجہ سے مصنوعی ذہانت پر نسلی تعصب برتنے کے حوالے سے کافی تحفظات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس سے قبل 2015 میں گوگل فوٹوز ایپ نے سیاہ فام افراد کی تصاویر کو ' گوریلوں' کے زمرے میں شامل کردیا تھا۔ اگرچہ گوگل نے اس غلطی پر معذرت طلب کرتے ہوئے اپنے سسٹم میں درستگی کرلی تھی، تاہم 2018 میں آنے والی اخباری اطلاعات کے مطابق اس ایپ سے لفظ ' گوریلا' کو ٹیگ اور فوٹو سرچ کرنے کو سینسر کردیا گیا تھا۔


مصنوعی ذہانت پر ہونے والے مطالعوں سے بھی چہرے کی شناخت کرنے والے نظام کے الگورتھم میں نسلی تعصب ظاہر ہوتا ہے۔ فیس بک نے گزشتہ سال "inclusive product council" کے نام سے انسٹاگرام میں ایک نئی مساواتی ٹیم کا اعلان کیا تھا۔ جس کا مقصد اس بات کا تجزیہ کرنا تھا کہ آیا اس کا الگورتھم نسلی تعصب ظاہر کر رہا ہے یا نہیں۔


فیس بک نمائندے نے بی بی سی کو اس غلطی کے بارے میں بتایا کہ ' بندروں' کی تجاویز دینا ایک الگورتھمک غلطی اور ویڈیو کے کانٹینٹ کی عکاس نہیں تھی۔ جیسے ہی ہمیں اس غلطی کا علم ہوا ہم نے فوراً ہی موضوع کی تجاویز دینے والے فیچر کو مکمل طور پر غیر فعال کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے تاکہ آئندہ ایسی غلطی دوبارہ نہ ہوسکے۔