نظام تعلیم، پھٹی جینز اور نتھلی

سید امجد حسین بخاری  جمعرات 9 ستمبر 2021
اساتذہ اور جامعات کےلیے ڈریس کوڈ لازمی ہے یا پھر قابلیت اور تحقیقی معیار اہمیت رکھتے ہیں؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اساتذہ اور جامعات کےلیے ڈریس کوڈ لازمی ہے یا پھر قابلیت اور تحقیقی معیار اہمیت رکھتے ہیں؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

پنجاب یونیورسٹی کالونی گیٹ سے سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کا راستہ زمانہ طالب علمی میں میرے دل کے خاصا قریب رہا ہے۔ آج بھی جب مجھے یونیورسٹی جانے کا موقع ملتا ہے تو میں گھنٹوں اس راستے پر پیدل گھومتا ہوں۔

اسی طرح ملک کی مختلف جامعات میں درختوں کے سائے تلے چلنا میری روح میں بسا ہوا ہے۔ ان راستوں میں ہزاروں خواب سمائے ہوتے ہیں، ان درختوں کے سائے تلے مڈل کلاس فیملیز کی سیکڑوں امیدیں خود کو زمانے کی تپش سے محفوظ بنا رہی ہوتی ہیں۔ ان راستوں پر خاندان کے جبر سے آزاد طالبات، والدین کی جانب سے عطیہ کردہ ہمت کے ساتھ عازم سفر ہوتی ہیں۔

ان راستوں کی ہر اینٹ اور ہر درخت کے ساتھ ہزاروں بچوں کی یادیں جڑی ہوتی ہیں۔ ان یادوں، ان راستوں، ان خوابوں اور ان ارمانوں کو حقیقت کا روپ انہی جامعات سے ملتا ہے۔

لیکن یہی جامعات تعمیر کی بجائے تخریب کی راہ پر گامزن ہیں۔

جامعات سے تعمیری خبروں کی بجائے تخریبی خبروں کی نوعیت کےلیے چند نمونے پیش ہیں: پشاور یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات کےلیے ڈریس کوڈ متعارف، ہزارہ یونیورسٹی میں طالبات جینز نہیں پہن سکیں گی، باچا خان یونیورسٹی کے طلبا بالیاں اور طالبات زیورات نہیں پہن سکیں گی۔ اسلامیہ یونیورسٹی میں سرکاری لباس پہننا ہوگا۔

نسٹ اسلام آباد، یو ای ٹی لاہور، پشاور یونیورسٹی، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سمیت ملک کے طول و عرض میں طالبات کےلیے ڈریس کوڈ کی پابندی عائد کی گئی۔

کراچی سے قراقرم، گوادر سے خنجراب تک ملک کے تعلیمی اداروں میں آئے روز ایسی متنازعہ خبریں سامنے آتی ہیں۔ لیکن وفاقی نظامت تعلیم کی نوٹی فکیشن نے ایک اور پینڈورا باکس کھول دیا ہے، جس کے تحت وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کےلیے ڈریس کوڈ لاگو کردیئے گئے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق، خواتین اساتذہ کے جینز اور ٹائٹس پہننے پر پابندی عائد ہوگی۔ مرد اساتذہ کے جینز اور ٹی شرٹ پہننے پر پابندی ہو گی۔ اساتذہ کو کوئی بھی کلاس لینے سے قبل اس ڈریس کوڈ پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ یعنی اساتذہ کوئی بھی لیکچر ڈیلیور کرنے سے پہلے سرکار کی جانب سے عائد کردہ ان اصولوں کی پاسداری کرنے کے پابند ہوں گے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اساتذہ کےلیے ڈریس کوڈ لازمی ہے یا ان کی قابلیت اہمیت رکھتی ہے؟ سرکاری جامعات میں ڈریس کوڈ لازمی ہے یا تحقیق کے معیار میں بہتری اہم ہے؟ پاکستان میں برین ڈرین کا خاتمہ کیسے ہوسکتا ہے؟ پُراثر بین الاقوامی جرنلز میں تحقیقی مضامین کےلیے کوئی نوٹی فکیشن جاری کیوں نہ ہوا؟ 65 فیصد نوجوانوں میں سے صرف 4 فیصد جامعات تک کیوں پہنچتے ہیں؟

کووڈ کرائسس کے دوران معیار تعلیم بہتر کیسے ہوگا؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ سرکار اساتذہ کو معیار تعلیم بہتر بنانے کےلیے کوئی نوٹی فکیشن کیوں نہیں جاری کرتی؟ سطحی اور غیر معیاری ریسرچ پر سرکار کا قلم کیوں نہیں چلتا؟ پاکستان میں تحقیق سے زیادہ اخلاقیات پر زور کیوں دیا جاتا ہے؟ ملک میں تعلیم کو شعبہ تجربہ گاہ کیوں بنا دیا گیا ہے؟ کیا کبھی سرکار نے کوئی ان عوامل کا جائزہ لینے کےلیے کوئی نوٹی فکیشن جاری کیا کہ ہمارا اعلیٰ تعلیم کا نظام کیوں عالمی معیار کے سائنس دان یا دانشور پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے؟

پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی کل آبادی کا 65 فیصد حصہ ہے لیکن یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ان نوجوانوں کی تعداد محض 3 سے 4 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی یونیورسٹیوں تک رسائی بہت محدود ہے۔ ملک میں کئی اعلیٰ تعلیمی ادارے یونیورسٹی کے بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتے، لیکن ایچ ای سی کی جانب سے انہیں یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا۔

حالیہ کیو ایس رینکنگ میں پاکستانی یونیورسٹیز کے حوالہ جات کی اوسط 29 فیصد تھی جبکہ بھارت اور چین کی فیکلٹی کے حوالہ جات کی اوسط بالترتیب 54 اور 80 فیصد تھی۔ اس تعلیمی پستی کی وجہ سے ہزاروں پاکستانی بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیں ’برین ڈرین‘ کا سامنا بھی ہے۔

یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے 10 سال میں بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانیوں میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 31 سے بڑھ کر 55 ہزار تک پہنچ گیا ہے۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کےلیے ویزا کی درخواست تقریباً چھ لاکھ پاکستانی طلبہ دیتے ہیں۔ بھارت سے بھی تقریباً تین لاکھ تیس ہزار طلبہ ہر سال بیرون ملک جاتے ہیں مگر یہ ہماری تین فیصد اوسط کے مقابلے میں صرف ایک فیصد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی طالب علموں کے مقابلے میں اوسطاً زیادہ پاکستانی تعلیمی قابلیت کو بڑھانے کےلیے بیرون ملک کا رخ کرتے ہیں۔

پاکستان میں اساتذہ میں تعلیمی جرائم بڑھتے جا رہے ہیں کیونکہ ان کے بارے میں کوئی سزا و جزا کا نظام نہیں۔ اس طرح کے جرائم سے سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ مقالہ چوری کے الزامات آئے روز منظر عام پر آتے ہیں مگر ہم اساتذہ کو تعلیمی اخلاقیات سمجھانے سے زیادہ ان کے لباس پر توجہ دیتے ہیں۔

ہم سوچوں پر پہرہ بٹھا دیتے ہیں۔ ہم نگاہوں کو قید کر دیتے ہیں۔ ہم خیالات کو خود ساختہ اخلاقیات کی بیڑیوں میں جکڑ دیتے ہیں۔ ہم علمی گفتگو کو نام نہاد نظریات کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ ہم ستاروں پر کمند کے بجائے لباس کے انتخاب پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ہم مغرب کے لباس پر بحث تو کرتے ہیں لیکن مغرب کی علمی برتری اور علمی ورثے پر غور نہیں کرتے۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہم نظریاتی، اخلاقی اور علمی طور پر مکمل کنفیوز ہوچکے ہیں۔

اے میرِ ریاست! جتنی توجہ طلبا اور اساتذہ کے لباس پر دی جارہی ہے، اگر اتنی توانائی پڑھائی کے معیار کو بہتر بنانے میں صرف کی جائے تو شاید ہمارا کوئی تعلیمی ادارہ دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں شامل ہو سکے۔ اے میرِ ریاست! ایک توجہ اساتذہ کے لباس کی بجائے ان کی اہلیت پر بھی دی جائے۔

ہمارے نظام تعلیم کا محور پھٹی جینز، کان کی بالی اور ناک کی نتھلی بنانے کی بجائے تحقیق اور تعلیم ہونا چاہیے۔ لیکن شاید جامعات کی انتظامیہ کو دماغ سے زیادہ پہناووں کی پرورش زیادہ اہم محسوس ہوتی ہے۔ یقیناً اس احساس کا خاتمہ کرکے ہی پڑھے لکھے پنجاب اور پڑھے لکھے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔

 

سید امجد حسین بخاری

سید امجد حسین بخاری

بلاگر میڈیا اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ نجی ٹی وی چینل سے بطور سینئر ریسرچ آفیسر وابستہ ہیں۔ سیاسی، سماجی اور معاشرتی موضوعات پر قلم اٹھانے کی سعی کرتے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر Amjadhbokhari پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔