بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کے امیر سمیت دیگر 14افراد کو سزائے موت سنا دی گئی

ویب ڈیسک  جمعرات 30 جنوری 2014
مطیع الرحمان پر 2004 میں جدید قسم کے 4 ہزار 930 ہتھیار، 27 ہزار 20 گرنیڈ اور 840 راکٹس کی اسمگلنگ کا الزام تھا۔ فوٹو؛ اے ایف پی

مطیع الرحمان پر 2004 میں جدید قسم کے 4 ہزار 930 ہتھیار، 27 ہزار 20 گرنیڈ اور 840 راکٹس کی اسمگلنگ کا الزام تھا۔ فوٹو؛ اے ایف پی

چٹاگانگ: بنگلا دیش کی عدالت نے جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمان نظامی سمیت دیگر 14 افراد کو اسلحہ کی اسمگلنگ کے الزام میں سزائے موت  سنا دی ہے۔

غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وکیل استغاثہ  کمال الدین احمد کا کہنا تھا کہ جج نے جماعت اسلامی بنگلا دیش کے 70 سالہ امیر مطیع الرحمان نظامی اور دیگر 14 افراد کو 10 سال قبل اسلحہ کی اسمگلنگ کے الزام میں سزائے موت سنا دی ہے۔ سزائے موت پانے والوں میں بنگلا دیش کے سابق وزیر داخلہ لطف الزماں اور ملک کی خفیہ ایجنسیوں کے 2  سربراہ بھی شامل ہیں۔

وکیل استغاثہ  کا کہنا تھا کہ مطیع الرحمان نظامی پر بندر گاہ سے اسلحہ سے بھرے 10 ٹرک نکالے جانےکا الزام تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلہ قابل اطمینان ہے اوریہ تمام ملزمان اسی سزا کے مستحق تھے۔

واضح رہے کہ امیر جماعت اسلامی مطیع الرحمان نظامی پر 2004 میں جب وہ وزیر صنعت تھے تو اس دوران جدید قسم کے 4 ہزار 930 ہتھیار، 27 ہزار سے زائد گرینیڈ اور 840 راکٹس کی اسمگلنگ کا الزام تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔