پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ’’پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘‘ کے خلاف صحافیوں کا دھرنا

ویب ڈیسک  اتوار 12 ستمبر 2021
سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی اس قانون کو میڈیا کی آواز دبانے کی حکومتی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔(فوٹو: اے ایف پی)

سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی اس قانون کو میڈیا کی آواز دبانے کی حکومتی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔(فوٹو: اے ایف پی)

 اسلام آباد: میڈیا پر قدغن اور پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف ملک بھر کے صحافیوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دے دیا، احتجاجی دھرنا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران بھی جاری رہے گا۔

میڈیا پر قدغن اور پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف ملک بھر کے صحافیوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دے دیا۔ احتجاجی دھرنا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران بھی جاری رہے گا۔ ملک بھر سے آنے والی صحافتی تنظیمیں میڈیا پر قدغن اور پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف نیشنل پریس کلب سے ڈی چوک تک ریلی کی شکل میں پہنچیں۔

ریلی میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، مولانا حمداللہ اور دیگر سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ شریک ہوئے۔ صحافتی تنظیموں کے قائدین نے میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کوصحافیوں کے حقوق اور میڈیا کی آزادی کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس قانون کے نفاذ پر ہر سطح پر مزاحمت کرنے اور میڈیا کی آزادی سلب کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔

اس موقع پر سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی اس قانون کو ذرائع ابلاغ کی آواز کو دبانے کی حکومتی کوشش قرار دے کر اسے مسترد کرتے ہوئے میڈیا تنظیموں کی حمایت کا اعلان کیا۔ صحافتی تنظیموں نے تمام صحافی برادری اور عام شہریوں سے دھرنے میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔